54

موثر پولیسنگ : اصلاح طلب امور

جرم اور جرائم کی کہانی میں پولیس کا موثرکردار تماشائی جیسا نہیں ہونا چاہئے کہ جہاں کوئی شخص اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے کسی دوسرے کی جان و مال کیلئے خطرہ بنے یا چادروچاردیواری کا تقدس پامال کرے۔ کسی کی عزت داؤ پر لگائے اور غلط الزام کے تحت پریشان کرتا رہے‘طریقہ واردات یہ اختیار کیا جاتا ہے کہ قانون کو اپنی جیب میں سمجھنے والے اپنے مخالفین کو سبق سکھانے کے لئے پولیس کی مدد سے ایسے مقدمات درج کرتے ہیں‘ جنکا حقیقت سے تعلق نہیں ہوتا‘ یہی وجہ ہے کہ سفید پوش پولیس اور عدالت کا نام سن کر کانپ اٹھتے ہیں اور حتیٰ الوسع کوشش کرتے ہیں کہ پولیس کے رحم و کرم حتیٰ کہ لطف و عنایت سے بھی دور ہی رہیں! تعزیرات پاکستان کے تحت کسی بھی شخص کیخلاف مقدمہ درج ہونیکی صورت میں درج شدہ دفعات کے تحت تفتیش کا عمل آگے بڑھتا اور پھر عدالت فیصلہ کرتی ہے کہ دفعات کے تحت سزاو جزامیں سے کس کا انتخاب ہونا چاہئے‘عمومی روش یہی ہے کہ تعزیرات پاکستان میں نرم سزاؤں اور پولیس کا استعمال کرتے ہوئے سفید پوشوں کو پریشان کیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر تعزیرات پاکستان میں ترامیم اور اصلاح کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔

توجہ مرکوز رہے کہ مخالف یا مخالفین کو بدنام یا پریشان کرنے کیلئے مقامی پولیس کیساتھ مل کر مقدمات قائم کرنا ایک معمول کی بات ہے‘قانون سے واقفیت اور پولیس سے تعلقات رکھنے والوں کو علم ہوتا ہے کہ اگر دوران تفتیش یہ ثابت ہو بھی جائے کہ الزام جھوٹا تھا تو ایسی صورت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 182کے تحت ملنے والی سزا نہایت ہی کم ہے‘مقامی پولیس کسی جھوٹے مقدمے کے بارے میں علاقہ مجسٹریٹ کو دفعہ 182 کے استغاثہ بھجواتی ہے جو کہ ناقابل دست اندازی‘ بناء گرفتاری جرم ہے اور جس کی زیادہ سے زیادہ سزا 6ماہ قید اور 3ہزار روپے جرمانہ مقرر ہے لیکن یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ آج تک یہ سزا عام نہیں اور قیام پاکستان سے آج تک شاذونادر ہی کسی کو جھوٹے مقدمے میں سزا ہوئی ہو‘ سفید پوش عام آدمی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے خلاف جھوٹے مقدمے کو جرگہ کے ذریعے ختم کر دے‘المیہ اپنی جگہ ہے کہ اگر کسی شخص کو جھوٹ کی بنیادپرڈکیتی‘ چوری جیسے جرائم میں ملوث کر دیا جائے اور سالہاسال کے بعد یہ ثابت ہوکہ الزامات جھوٹ پر مبنی تھے توچھ ماہ قید یا تین ہزار روپے جرمانہ اگر ہو بھی جائے تو یہ سودا قطعی طور پر گھاٹے کا نہیں!

اس مرحلہ فکر پر یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ ہمارے ہاں پولیس اور جرائم پیشہ عناصر کے درمیان تعلق خارج از امکان نہیں جرائم پیشہ عناصر کی جرات و ہمت اورسزا سے خوف محسوس نہ ہونے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ انہیں پولیس حکام کا تعاون حاصل رہتا ہے۔ پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے کا عمل بیان کردہ واقعات پر مبنی ہوتا ہے ضروری نہیں کہ پولیس سے رجوع کرنیوالا کوئی فریق بیان کردہ واقعات سے متعلق درست حقائق بیان کر رہا ہو‘اب اس صورت میں فرض شناس پولیس اہلکار اپنے آپ اور دوسروں کو محفوظ رکھنے کیلئے ایف آئی آر کا فوری اندراج نہیں کرتے بلکہ اسکی جگہ روزنامچہ رپورٹ لکھنے پر اکتفا کر لیتے ہیں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 157کے تحت اگر پولیس افسر کو کسی بھی موقع پر شک گزرے کہ کسی فریق کے بیان کردہ واقعات میں جھول ہے اور اس میں حقیقت پسندی کی بجائے افسانوی باتیں زیادہ ہیں تو وہ ایف آئی آر کی بجائے روزنامچہ رپورٹ درج کرکے تفتیش اور کاروائی کے عمل کو ایک خاص حد سے آگے جانے نہیں دیتا اور چاہے تو تفتیشی عمل روک کر مقدمہ خارج بھی کر سکتا ہے !

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 182 میں فوری اور ضروری ترامیم کی ضرورت ہے‘اس دفعہ کو قابل دست اندازی جرم بنایا جائے یعنی کسی کیخلاف جھوٹا مقدمہ درج کروانے والے کیخلاف بھی مقدمہ درج ہونا چاہئے اور بہتان و الزام تراشی کی اِس قدر سزا مقرر ہو کہ پولیس سے غلط بیانی کرنے والا سو بار اپنے عمل پر غور کرے‘عجب ہے کہ ایک خاص طبقہ تعزیرات پاکستان کی دفعات اور پولیس فورس کا اپنے مفادات کیلئے غلط استعمال کر رہا ہے لیکن اس کی اصلاح پر خاطرخواہ توجہ نہیں دی جا رہی‘ قوانین کو جامع بنانے کیلئے قانون سازوں کو اپنا کردار پہلے سے زیادہ موثر طور پر ادا کرنا ہو گا کیونکہ معاشرے میں بدعنوانی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پولیس فورس کو حاصل اختیارات کا استعمال جرائم پیشہ طبقات کر رہے ہیں‘ عام آدمی اور پولیس کے درمیان رشتہ کم ترین درجے پر ہے اور آج بھی معاشرے کے محافظ کسی کے گھر دستک دیں تو اس بات کو معیوب سمجھا جاتا ہے حالانکہ معاشرے سے عمومی و خصوصی جرائم اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتے جب تک پولیس اور عام آدمی کا قریبی تعلق قائم نہ ہو۔