59

گڈ گورننس مگر کیسے!

اسلام امن و آشتی اور برداشت کا دین ہے اس کی تعلیمات میں اقلیتوں کی حفاظت پر زور دیا گیا ہے شاید ہی کسی اور مذہب میں اتنا زیادہ دیاگیا ہویہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس ملک میں بسنے والی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے زندگی کے مختلف شعبوں میں کئی کارہائے نمایاں سرانجام دئیے ہیں کہ جن سے پاکستان کا فخر سے دنیا میں نہ صرف نام بلند ہوا ہے بلکہ ان افراد کی پاکستان سے محبت کا بے پناہ اظہار بھی ہوا ہے‘تقسیم ہند کے وقت عدلیہ‘ انتظامیہ ‘ افواج ‘ ریلوے ‘ ایری گیشن ‘ زراعت اور دیگر شعبوں کی شکل میں جو ریاستی ادارے ہمیں ملے وہ اپنی مثال آپ تھے ‘ ان کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ وہ ہر قسم کی تعصبات سے پاک اور بالاتر ہیں نہ ان میں لسانیت ہے اورنہ مسالک کی تفریق ہے‘ اور یہی انکی خاصیتیں ہیں کہ جو ہمارے دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتی ہیں انکی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ وہ ہمارے ریاستی اداروں میں بھی ان بیماریوں کے جراثیم پھیلا ئیں ‘دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں خصوصاً تیسری دنیا کے ملکوں میں جو مندرجہ بالا بیماریوں میں مبتلا ہیں اور جن کو پولیٹیکل سائنس کی زبان میں ’بنا نا ری پبلک‘ کہا جاتا ہے اس ملک میں سیاستدانوں کی مداخلت سے جو ریاستی ادارے زیادہ برباد اور زنگ آلود ہوئے وہ انتظامیہ اور پولیس تھے۔

مقام شکر ہے کہ عدلیہ اور افواج پاکستان کو ان کی ہوا نہیں لگی ورنہ اس ملک کا حال بھی تیسری دنیا کے ان کئی ممالک کی طرح ہو جاتا کہ انار کی جن کا مقدار بن چکی ہے ورنہ یار لوگ تو یہ بھی فیصلہ کرنے پر تلے ہوئے تھے کہ آئندہ بریگیڈ یر سے اوپر درجے کی پروموشن میں مرکزی کا بینہ کا عمل دخل ہونا چاہئے‘ اس ملک میں اکثر گڈ گورننس کے فقدان کا رونارویا جاتا ہے کہا یہ جاتا ہے کہ گڈ گورننس کی کمی کی وجہ ہی سے آج ہمارے مسائل کم ہونے کے بجائے زیادہ ہوتے جا رہے ہیں‘ سوال یہ ہے کہ گڈ گورننس کیسے ممکن ہو گی ؟ ا س کا سادہ اور موثر حل یہ ہے کہ آپ ضلعی افسروں یعنی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایس پی کے انتظامی اداروں کو گڈ گورننس کے حصول کیلئے ذمہ دار ٹھہرا دیں اور پھر ان کے کاموں میں ہر قسم کی مداخلت سے احتراز کریں وہ جانیں اور امن عامہ! اگر کوئی ان کے کسی کام سے شاکی ہو تو وہ صوبائی محتسب یا مرکزی محتسب کا دروازہ کھٹکھٹائے کہ جو تہذیب یافتہ صحیح معنوں میں جمہوری ممالک کا شیوہ ہوتا ہے کام تب خراب ہوتا ہے جب جرائم پیشہ افراد کی بیخ کنی کیلئے ڈی سی یا ایس پی کے جائز اقدام کی راہ میں بھی روڑے اٹکا دیئے جاتے ہیں‘۔

اس سے بھی اہم جو بات ہے وہ یہ کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایس پی کی تعیناتی کے وقت بڑی احتیاط برتی جائے اور ان مناصب پر صرف وہ افراد لگائے جائیں کہ جن کی کارکردگی بطور اے سی اورڈی ایس پی اطمینان بخش رہی ہو اور وہ اچھی شہرت کے مالک بھی ہوں‘ سیاسی سفارش پر جو فرد بھی ان مناصب پر لگایا جائے گا وہ کبھی بھی اپنے کام سے انصاف نہ کر سکے گا یہ با ت حکمران اپنے پلے ضرور باندھ لیں اس ضمن میں حکومت کو استغاثہ کے محکمے یعنی پراسیکیوشن کے شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے کی طرف بھی خصوصی توجہ دینا ہو گی اس کا کام سست بھی ہے اور اس کا عملہ فوجداری مقدمات میں اتنی محنت اور دلجمعی سے کام نہیں کرتا کہ جتنی مہارت سے وکیل صفائی ملزموں کو قانونی گرفت سے بچانے کیلئے عدالتوں میں ان کا دفاع کرتے ہیں جس کا پھر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر عدالتیں چھوڑ دیا کرتی ہیں۔