83

امریکہ میں ایک نیا دن

یہ تو نہیں کہاجاسکتا کہ امریکہ سات نومبر کے انتخابات کے بعد بدل گیا ہے مگر اتنا ضرور ہے کہ صدر ٹرمپ کے شب و روز اب پہلے جیسے نہیں رہیں گے انکی گھن گرج میں شاید اب بھی کمی واقع نہ ہو مگر اب وہ پہلے کی طرح ہر بات میں اپنی من مانی نہ کر سکیں گے‘ یہ طے ہوچکا کہ امریکہ میں اب ون پارٹی رول ختم ہو گیا ہے اور اسکے ساتھ ہی صدر ٹرمپ کے وہ دن بھی بیت گئے جن پر یہ شعر صادق آتا تھا ۔
بساط شام و سحر سے گذرتا جاتا ہوں
ستارے اور شگوفے شمار کرتا ہوا
سات نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیمو کریٹک پارٹی نے توقع سے کہیں زیادہ نشستیں جیت لی ہیں‘چھ نومبر تک 435 کے ایوان نمائندگان میں انکی 206 اور ری پبلکن پارٹی کی 229نشستیں تھیں اب اس ایوان میں ڈیموکریٹس کو پینتیس سیٹوں کی برتری حاصل ہو گئی ہے تئیس سیٹوں کی کمی کو پینتیس کی برتری میں بدلنے کا مطلب اٹھاون نئی نشستیں حاصل کرنا ہے‘ یہ ایک ریکارڈ اسلئے نہیں کہ صدر اوباما نے 2008 میں صدارت حاصل کرنے کے بعد 2010کے مڈ ٹرم الیکشن میں اپنی جماعت کی ایوان نمائندگان میں باسٹھ سیٹیں گنوا دی تھیں‘ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا We got a schlaking this time یعنی کہ اس مرتبہ ہمیں شکست فاش ہوئی ہے‘ صدر ٹرمپ اپنے غیض و غضب کے باوجود اپنے ملک کی سیاسی حرکیات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں انہوں نے بہت پہلے یہ کہہ دیا تھا کہ سات نومبر کے انتخابات میں انکی جماعت کوشکست کا سامنا کرنا پڑیگا اسکی وجہ انہوں نے یہ بتائی تھی کہ گذشتہ ربع صدی میں ہر نئے صدر کی جماعت نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کھائی ہے‘ وہ یہ بھی کہتے رہے کہ مڈٹرم الیکشن ہارنے والے ہر صدر نے دوسری مدت صدارت جیت لی تھی۔

بل کلنٹن 1996 میں دوسری بار صدر منتخب ہوئے تھے‘ جارج بش نے 2004 میں اور باراک اوباما نے 2012 میں دوسری مدت صدارت حاصل کی تھی‘ ان تینوں کی صدارت میں انکی جماعتوں نے وسط مدتی انتخابات ہار دےئے تھے صدر ٹرمپ دو ہفتوں سے اسی جوش خروش کیساتھ اپنی جماعت کے امیدواروں کی انتخابی مہم میں جلسوں سے خطاب کر رہے تھے کہ جسکا مظاہرہ انہوں نے 2016 کے الیکشن میں کیا تھا‘ ان جلسوں میں وہ اکثر 2020 کے صدارتی انتخاب میں اپنی فتح کی پیشگوئی بھی کرتے رہے اس بڑی شکست کے بعد بھی اگلے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کو خارج ازمکان قرار نہیں دیا جا سکتا‘اسکی وجہ یہ ہے کہ انکی جماعت نے منگل کے انتخابی معرکے میں سینٹ کی چار نئی نشستیں جیت کر اپنے مخالفین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے کل تک ایوان بالا میں ری پبلکن پارٹی کی اکیاون اور ڈیموکریٹس کی انچاس نشستیں تھیں امید کی جا رہی تھی کہ ڈیمو کریٹس سینٹ کی تین یا چار نشستیں جیت کر دونوں ایوانوں میں برتری حاصل کر لیں گے مگر ایوان بالا کے پانچ بڑے انتخابی معرکے جیت کر ری پبلکن پارٹی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ وسط مغربی اور جنوبی ریاستوں میں اب بھی غلبہ رکھتی ہے اگر چہ کہ اوہایو‘ وسکانسن‘ فلوریڈا ‘ جارجیا اور نارتھ ڈیکوٹا میں صدر ٹرمپ کی جماعت کانٹے دار مقابلوں کے بعد جیتی ہے مگر فتح اگر ایک ووٹ کی ہو تب بھی اسے فتح ہی کہا جاتا ہے۔

اتنا ضرور ہے کہ ان پانچ ریاستوں میں 2016 میں صدر ٹرمپ کا مارجن آف وکٹری بہت زیادہ تھا اب انکی جماعت کے امیدوار سینٹ کے انتخابات میں کہیں کم مارجن سے جیتے ہیں یہ ٹرینڈ اگر جاری رہتا ہے تو یہ صدر ٹرمپ کیلئے اگلے صدارتی انتخاب میں اچھا شگون ثابت نہ ہو گا۔ ایوان زیریں میں ڈیموکریٹک پارٹی کی حیران کن فتح کی وجہ بڑے شہروں کے مضافات میں رہنے والے ووٹروں کی سوچ میں تبدیلی ہے انہیں Swing Voters کہا جاتا ہے اور یہ ہر الیکشن میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں‘انکی تعداد پندرہ سے بیس فیصد بتائی جاتی ہے اور آخری لمحے تک انکے رجحان کا پتہ نہیں چلتا‘ہیلری کلنٹن2016 میں ہاٹ فیورٹ ہونے کے باوجود انہی کی وجہ سے شکست سے دو چار ہوئی تھیں‘ماہرین ‘امریکی ووٹروں کوUrban' Subarban and Rural یعنی شہری‘ مضافاتی اور دیہاتی ووٹروں میں تقسیم کرکے دیکھتے ہیں‘منگل کے الیکشن میں بڑے شہروں اور انکے مضافات میں لوگوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کو بھاری تعداد میں ووٹ دےئے اور دیہاتی علاقوں کے ووٹروں نے ہمیشہ کی طرح ری پبلکن پارٹی کا ساتھ دیاگذشتہ چھ ماہ میں کلنٹن اور اوباما کی پارٹی کے ووٹروں کے جوش و خروش کو دیکھتے ہوے پنڈت ایک ایسی Blue Wave یعنی نیلی لہرکی پیشگوئی کر رہے تھے جو ری پبلکن پارٹی کو دونوں ایوانوں سے بہاکر لیجائے گی امریکہ کی انتخابی سیاست کو سمجھنے کیلئے نیلارنگ ڈیموکریٹک اور سرخ رنگ ری پبلکن ریاستوں کو دیا گیا ہے اب انتخابات کے اختتام کے بعد کہا جا رہا ہے کہ Blue Wave تو نظر نہیں آئی البتہ Women Wave ضرور نظر آئی ہے‘جس نے صدر ٹرمپ کی جماعت کو ایوان زیریں سے نکال باہر کیا ہے‘اس الیکشن میں خواتین نے نہ صرف ایک بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے بلکہ انہوں نے الیکشن لڑے بھی اور جیتے بھی ہیں‘سات نومبر کے بعد کی امریکی کانگرس میں انتیس سے پینتیس سالہ اراکین اتنی بڑی تعداد میں موجود ہوں گے جتنے پہلے کبھی نہ تھے‘ اسلئے اسے امریکی تاریخ کی Youngest Congress کہا جا رہا ہے ان نوجوان قانون سازوں کی ایک بڑی تعداد ڈیمو کریٹک پارٹی سے وابستہ ہے جو ایک اثاثہ بھی ثابت ہو سکتا ہے اور ایک بوجھ بھی‘ یہ نوجوان امریکی سیاست کو زیادہ لبرل اور پروگریسیو بنانے کی کوشش کریں گے جبکہ پرانی نسل کے اراکین ایسی Centrist یا مرکز یت پسند سیاست کو ترجیح دیں گے جو انہیں وسط مغربی اور جنوبی ریاستوں میں اگلا صدارتی انتخاب جیتنے میں مدد دے سکے۔

یہ نئے اراکین کیونکہ ٹرمپ مخالف ایجنڈے پر منتخب ہوئے ہیں اسلئے یہ قدم قدم پر صدر ٹرمپ کی مخالفت کریں گے اور اگر یہ ڈیموکریٹک پارٹی کی سیاست پر اسی طرح چھا جاتے ہیں کہ جس طرح ٹی پارٹی ری پبلکن جماعت پر چھا ئی ہوئی ہے تو اس صورت میں امریکی سیاست میں مزید محاذ آرائی ہو گی جو کہ مزید تفرقات اور تنازعوں کا باعث بنے گی اب ڈیموکریٹک پارٹی کی پرانی اور منجھی ہوئی سپیکر Nancy Pelosy اپنا کھویا ہوا منصب دوبارہ حاصل کر لیں گی مگر اس مرتبہ انہیں نوجوان اراکین کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑیگا‘ نئے ایوان نمائندگان کی تمام کمیٹیوں کے سربراہ ڈیمو کریٹس ہونگے انکے پاس صدر امریکہ کو Subpoena کرنے کے اختیارات بھی ہوں گے یعنی وہ صدر امریکہ کو کسی بھی کمیٹی میں بلا کر پوچھ گچھ کر سکتے ہیں‘ منگل کی شب گیارہ بجے ایوان زیریں میں اکثریت حاصل کرنے کے فوراًبعد ڈیموکریٹک پارٹی کے بعض نومنتخب ممبروں نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی صدر ٹرمپ سے ٹیکس ریٹرن پیش کرنے کا مطالبہ کریں گے‘ ڈونلڈ ٹرمپ اب تک اس مسئلے سے کنی کتراتے رہے ہیں وہ اب بھی ایسا ہی کریں گے مگر اس مرتبہ انہیں اتنے شورو غوغا کا سامنا کرنا پڑیگاکہ انکی صبح سویرے والی ٹویٹس کی گھن گرج اس میں دب جائیگی امریکہ اور کسی لحاظ سے نہ سہی اس اعتبار سے ضرور بدل گیا ہے کہ اب صدر ٹرمپ کو میڈیا کے علاوہ کانگرس کے ایک طاقتور ایوان کا بھی ہر روز سامنا کرنا پڑیگا ہو سکتا ہے کہ وہ محاذ آرائی کی سیاست میں کمی کر کے نئے حریفوں کیساتھ سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہو جائیں مگر گھن گرج میں کمی کے بعد انکے ٹوئٹر کے عصا کی کلیمی بے بنیاد ہو جائیگی ایسے میں ماضی کے جاہ و جلال کی یاد انہیں تنگ کرنے لگے گی اس پراسرار کیفیت کو فانی بد آیونی نے یوں بیان کیا ہے ۔
فانی بس اب خدا کیلئے ذکر دل نہ چھیڑ
جانے بھی دے بلا سے رہا یا نہیں رہا