100

ایف بی آر سے ٹیکس پالیسی بنانے کا اختیار واپس لے لیا، فواد چوہدری

اسلام آباد: وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر ) سے ٹیکس  پالیسی بنانے  کا اختیار واپس لے لیا ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے  وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت نے ٹیکس پالیسی بنانے کے لیے نیا بورڈ تشکیل دیا ہے جس میں وزیر خزانہ، وزیرتجارت اور اقتصاد و معاشی ماہرین شامل  ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے لبرٹی کے نام سے نئی ایئرلائن کو لائسنس دینے کی منظور دے دی ہے جب کہ ایس ای سی پی کا نیا بورڈ تشکیل دے کر احمد نواز سکھیرا کو  سرمایہ کاری بورڈ کا سیکرٹری بنایا گیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ متروکہ وقف املاک کی تنظیم نو کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیراطلاعات نے بتایا کہ وزیراعظم نے کابینہ کو دورہ چین کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ دورہ انتہائی کامیاب رہا،   وزیر اعظم نے شرکاء کو پاکستان اور برطانیہ میں قیدیوں کے تبادلے کے پروٹوکول پر دستخط سے بھی آگاہ کیا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ  آسیہ بی بی کے معاملے پرآج کے اخبارات میں  انتہائی غلط رپورٹنگ کی گئی ہے،پاکستان ایک خود مختار ملک ہے ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ کوئی سفیر ہمیں حکم دے اور ہم اس پر من و عن عمل کرلیں۔

اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ عوام کو ان لوگوں کی شکلوں سے نفرت ہے، حزب اختلاف کو تکلیف یہ ہے کہ حکومت مک مکا کیوں نہیں کررہی،وزیراعظم مک مکا کا کھیل نہیں کھیلیں گے، یہ کہتے ہیں کہ حکومت ہمارے مقدمات پر ہاتھ ہلکا کردے، این آر او دے دیں تو حالات ٹھیک ہوجائیں گے۔

وفاقی وزیرا طلاعات کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو  پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نہیں بناسکتے، شہباز شریف کس  طرح اپنے بھائی کا آڈٹ کریں گے ہم شہباز شریف کو نوازشریف کے آڈٹ کا کام نہیں دے سکتے، شہباز شریف کو چیئرمین اے پی سی بنانے کا مطالبہ انتہائی غیر اخلاقی ہے ہم نے اپوزیشن کو کہا ہے کہ پہلے ہم آڈٹ کرلیں پھر اپوزیشن ہمارا آڈٹ کرلے۔