504

وزیر اعلیٰ کی صنعتکاری عمل میں کمزوریوں کو دور کرنیکی ہدایت

پشاور ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبے میں معیاری تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی سمیت صنعت کا فروغ ، صوبے کے قدرتی وسائل کا کارآمد استعمال ، مالی بنیاد میں وسعت اور گرین گروتھ اقدامات توجہ کا مرکز ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے سول سیکرٹریٹ پشاور میں صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ 

صوبائی وزراء، وزیراعلیٰ کے مشیران، وزیراعلیٰ کے معاونین خصو صی، چیف سیکرٹری اور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز نے اجلاس میں شرکت کی ۔وزیراعلیٰ نے صوبے میں تیز رفتار صنعتکاری کے عمل میں کمزوریوں کو دور کرنے کی ہدایت کی ۔ اُنہوں نے کہاکہ صوبے کا مستقبل تابناک ہے کیونکہ اس کی منزل کی سمت صاف اور واضح ہے ۔ ہمیں اپنے قدرتی وسائل سے کما حقہ استفادہ کرنے کیلئے بھر پور توجہ اور انہماک کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ 

اس صوبے کے مختلف علاقے اپنے مختلف قدرتی وسائل اور اپنی منفرد حیثیت کی وجہ سے ایک منفرد مستقبل رکھتے ہیں۔ یہ علاقے ترقی کیلئے خصوصی توجہ کا تقاضا کرتے ہیں ۔مختلف علاقوں کے مخصوص وسائل کی بنیاد پر کاٹیج انڈسٹری کو فروغ دیا جا سکتا ہے ۔ ہم صوبے میں تیز رفتار صنعتکاری کیلئے منصوبہ بندی کر چکے ہیں۔ سیاحت کا شعبہ وسیع پیمانے پر سیاحوں کو راغب کرنے کی وسیع تر استعداد کی وجہ سے صنعت کے شعبے میں بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔ مستقبل قریب میں صوبے میں سیاحت کی صنعت مجموعی صنعتی شعبے پر غالب آنے کی استعداد رکھتی ہے ۔

اُنہوں نے کہاکہ مختلف علاقوں میں مقامی معیشت کی ترقی اور صنعت کو صوبائی اور قومی ترقی کے ساتھ مربوط کرکے وسیع پیمانے پر روزگارکے مواقع پیدا ہوں گے ۔ صوبے کی مالی بنیاد مضبوط ہو گی جس کے نتیجے میں ایک مضبوط اور مستحکم صوبائی معیشت یقینی ہو جائے گی ۔ محمود خان نے کہاکہ سابق فاٹا کے صوبے میں ضم ہونے والے اضلاع میں انفراسٹرکچر کی ترقی ، ان اضلاع میں گرین گروتھ اقدامات اور وہاں کے قدرتی وسائل کو ترقی دینا چند بڑے چیلنجز ہیں۔

اُن کی حکومت ان چیلنجز کا بخوبی ادراک رکھتی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت گرین گروتھ اقدامات میں نئے اضلا ع کو برابر حصہ دے گی ۔ اُنہوں نے محکمہ ماحولیات کو ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کرنے کیلئے آئندہ پانچ سالوں کیلئے مزید ایک ارب پودے اُگانے کا پلان وضع کرنے کی ہدایت کی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ وفاقی حکومت بلین ٹری سونامی پراجیکٹ میں صوبے کو برابر حصہ فراہم کرے گی ۔

اُنہوں نے اس منصوبے کے دوسری بار اجراء کیلئے تمام قانونی تقاضوں پر مشتمل شفاف طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ صوبہ سرمایہ کاری کیلئے موزوں ہے اور اُن کی حکومت صوبے میں صنعتکاری کی حوصلہ افزائی اور سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی کے عمل میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے کی پہلے سے ہدایات جاری کر چکی ہے ۔

اُنہوں نے صوبے میں صنعت ، تجارت اور معیشت کی بڑھوتری کیلئے نئے اقدامات شروع کرنے کیلئے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں تجاویز اور سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ اُنہوں نے یقین دلایا کہ اُن کی حکومت نہ صرف صوبے کو دیر پا معاشی ترقی پر ڈالنے کی استعداد رکھتی ہے بلکہ یہ امر یقینی بنائے گی کہ یہ صوبہ اپنے متنوع وسائل کی وجہ سے سب سے بہترین اور قابل وفاقی یونٹ ہے۔ 

اُنہوں نے کیپرا کو ٹیکس جمع کرنے کی شرح میں بہتری لانے کی ہدایت کی ۔ اُنہوں نے فوری طور پر اپر چترال ضلع کا اعلامیہ جاری کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہاکہ یہ چترال کے عوام کے ساتھ ہماری سابق صوبائی حکومت کا وعدہ تھا جو جتنا جلدی ممکن ہو سکے پورا کیا جانا چاہیئے ۔ اُنہوں نے یقین دلایا کہ اُن کی حکومت مذاکرات کے ذریعے وفاق سے اپنے وسائل کی منتقلی کیلئے کام تیز کرے گی اور وہ جلدہی صوبے کے تمام علاقوں کیلئے ایک مکمل ترقیاتی پیکج دیں گے ۔