524

گود سے لحد تک

میں اپنے کلینک میں بچوں کے لئے لالی پاپ کے دو تین ڈبے ہر وقت رکھتا ہوں‘ اس طرح سے جب بھی کوئی بچہ آتا ہے تو ڈاکٹر سے اس کا خوف کم کرنے کے لئے سب سے پہلے نہ صرف اس بچے کو بلکہ والدین کے ساتھ آئے ہوئے دوسرے بچوں کو بھی لالی پاپ پکڑا دیتا ہوں۔ اس ترکیب سے جو بچہ ایک دفعہ میرے کلینک میں روتا ہوا آتا ہے ‘دوسری مرتبہ شوق سے آتا ہے۔ میں اگرچہ ایک مہنگے ہسپتال میں کام کرتا ہوں لیکن میرے کلینک پر آنے کی کسی پر قدغن نہیں‘ بلکہ پرائیویٹ میڈیکل کالج ہونے کے ناطے آدھے بیڈ اور کئی ایک اوپی ڈی کی سہولیات تقریباًمفت میں دستیاب ہیں۔ اس لئے میرے مریضوں میں ہر قسم کے مالی استطاعت کے لوگ آتے ہیں۔ لالی پاپ پکڑانے کے بعد میں بچے کو غور سے دیکھتا ہوں۔ اکثر بچے فوراً لالی پاک سے کاغذ اتارنا شروع کردیتے ہیں۔ اس کا غذ کا کیا کرتے ہیں اس سے میں ان کے گھرانے کا اندازہ لگاتا ہوں‘اگر وہ فرش پر پھینک دے اور والدین نظر انداز کردیں تو مجھے ان کے گھر کی صفائی کا اندازہ ہوجاتا ہے اور اگر وہ ہاتھ میں رکھتا ہے یا ڈسٹ بن کی تلاش میں نظریں دوڑاتا ہے تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ والدین اسکی تربیت کا خیال رکھ رہے ہیں۔

ویسے ہی نہیں کہا گیا کہ بچے کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ پہلے پانچ سال تو بچہ چوبیس گھنٹے والدین کے ساتھ ہی چپکا رہتا ہے‘ اور اسی عمر میں جو عادات پختہ ہوجاتی ہیں وہ لاشعوری طور پر ساری عمر اس کا پیچھا کرتی رہتی ہیں‘ اگر والدین اونچی آواز سے بات کرنے کے عادی ہیں تو سارے گھر کا ماحول شور سے بھر جاتا ہے اور پھر کسی مجمع میں بھی یہ بچہ جوان ہوکر آہستہ نہیں بول سکتا۔ اس کامظہر آپ روزانہ بس سٹاپ‘ دکانوں‘ فٹ پاتھ پر اور دفاتر میں اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کو فون پر اس بلند آواز سے گفتگوکرتے دیکھتے ہیں کہ گویا وہ فون سے باہر بھی ہوا کے زور پر اپنی بات میلوں دور پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں‘ یہ جو سارے ٹی وی چینلوں کے اینکر چیخ چیخ کر بریکنگ نیوز دے رہے ہوتے ہیں‘ یہ سب ایسے ہی گھرانوں سے بڑے ہوکر آئے ہوئے لگتے ہیں۔اگر والدین بچے کے سامنے چلتی گاڑی سے کیلے کا چھلکا باہر بے پروائی سے پھینکتے ہیں تو یہی عاد ت بچوں میں آجاتی ہے اور کولڈ ڈرنک کا کین پیتے ہی اسے ایک لات مار کر سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔ اگر گھر میں بچوں یا بیوی پر ہاتھ اُٹھتا ہے تو بچے کے دل میں نرمی کہاں سے آئے۔ وہ باہر نکل کر ہر آوارہ کتے ‘بلی کو پتھر نہیں مارے گا تو کیا اسے گود میں اُٹھائے گا؟ اگر اسے گھر میں رحم کرنا نہیں سکھایا گیا ہے تو کیا وہ چھوٹے بچوں کو مارنے سے گریز کرے گا؟اگر گھر میں گالیاں روزمرہ کا معمول ہو تو پھر یہ توقع نہ رکھئے گا کہ بچے گلی میں شرفاء کی زبان استعمال کرتے ہوں گے۔ حتیٰ کہ گھر میں ٹی وی پر امریکی فلمیں دیکھتے ہوئے ان کو ’شٹ ‘کہنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ میں نے بڑے اچھے اچھے گھرانوں کے بچوں کو یہ لفظ با ر بار کہتے سنا ہے اور ان میں سے اکثریت کو اسکے معنی بھی نہیں معلوم۔

بچوں کی دوسری تربیت گاہ سکول اور مدرسہ ہی ٹھہرتے ہیں‘ اب خداکے فضل سے سرکاری سکولوں میں جسمانی سزا پر تھوڑی بہت پابندی لگی ہے تو کچھ فرق آیا ہے تاہم مدرسے میں استاد کے ہاتھ سے ابھی مولا بخش کا سہارا نہیں چھٹا ‘چنانچہ گھر سے لے کر سکول مدرسے تک ان بچوں کے لئے تشدد زندگی کا لازمی جزو بن جاتا ہے ‘پھر جب جلوس نکلتے ہیں اور گاڑیوں کو آگ لگائی جاتی ہے تو ہم سر پیٹتے ہیں۔ بھائی ہم نے ہی تو ان کو سکھایا ہے۔ مساجد میں شب و روز جہاد کا ذکر ایسے کیا جاتا ہے جیسے اس سے مراد صرف قتال ہے اور مسلمان کے مکمل ہونے میں تلوار اور کلاشنکوف ہی ضروری ہے۔ جناب شیخ کفار کے قتل عام سے شروع کرتے ہیں اور ان کے نیست و نابود ہونے کی دعا پر ختم کرتے ہیں۔ کیا کبھی رسول کریم ؐ نے کسی قوم کو بد دعا دی ہے؟ ان بد دعاؤں سے کام چلتا تو کروڑوں مسلمان شب و روز یہی تو کررہے ہیں۔ کیا ہوا ان سے۔

اگر آپ کو ایک مہذب قوم چاہئے تو بچوں سے شروع کرنا ہوگا۔ گھر میں بچوں کے سامنے تشدد کی فلموں پر پابندی لگادیجئے۔ توڑ پھوڑ کی خبروں کا بائیکاٹ کیجئے۔ بچوں کو محبت سکھائیے۔ ان کے سامنے کبھی اپنی لڑائی نہ کھیلیں۔ اپنے غصے پر کم از کم بچوں کی موجودگی میں قابو پانے کی کوشش کیجئے۔ غلطی سے منہ سے ناپسندیدہ الفاظ نکلیں تو فوراً بچوں کے سامنے معافی مانگیں‘ بچوں کے سامنے صرف وہ کام کریں جو آپ اپنی آئندہ نسل میں دیکھنا چاہتے ہیں‘ اگر اپنے بچے سے گلی میں گالی نہیں سننا چاہتے تو کبھی اس کے سامنے ایسے الفاظ منہ سے نہ نکالیں جو گالی کا مفہوم رکھتے ہوں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ جلسہ جلوس میں آپ کا بچہ توڑ پھوڑ نہ کرے تو اس کے سامنے رستے سے رکاوٹ ہٹائیں‘کسی پھنسی ہوئی گاڑی کو دھکا لگائیں‘ بچوں کے سامنے‘ دوسرے لوگوں خصوصاً بچوں ‘خواتین اور ضعیف لوگوں کو رستہ دیں اور اگر قطار ہے تو ایسے کمزوروں کو اپنی باری سے پہلے جانے دیں۔ ہم آج سے اس مہم پر کام شروع کردیں تو شاید آئندہ تیس چالیس برس میں ہم بھی مہذب دنیا کی صف میں جگہ لے سکیں۔

قائد اعظم محمدعلی جناح بہت دھیمے مزاج کے لیڈر تھے۔ انہوں نے کبھی جذباتی تقریر نہیں کی بلکہ قوم کو جذباتی لیڈروں سے بچنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس لئے بچوں کو ان جذباتی لیڈروں کی تقریریں سننے نہ دیجئے خواہ وہ سیاسی لیڈر ہوں یا مذہبی۔اشتعال انگیز مقرروں سے خود بھی بچئے اور بچوں کو بھی دور رکھیں خواہ وہ مساجد میں ہوں یا عید گاہ میں‘ جلسوں میں ہوں یا نجی محفلوں میں۔یہ فائر برانڈ مقررین حاضرین کو مشتعل کردیتے ہیں اور خود آرام سے محواستراحت ہوتے ہیں۔ قتل کے فتوے لگا کر ان پڑھ اور جاہل سننے والوں کو پھانسی چڑھا دیتے ہیں کہ یہ شہادت ہے لیکن خود اس شہادت سے گریز کرتے ہیں۔ اگر جنت جانے کا اتنا آسان طریقہ ہے تو خود کیوں آگے بڑھ کر یہ اعزاز حاصل نہیں کرتے؟۔