563

جیساکروگے

جو ہوا وہ غالباً کچھ یوں ہے‘ چیف جسٹس آف پاکستان اور ان کے ساتھی جج اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ آسیہ مسیح کی سزا کی معطلی قانون اور انصاف کے مفاد میں ہے۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے فیصلہ محفوظ رکھا تاکہ اس کے نتیجے میں مذہبی بنیادوں پر جو احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے ان سے نمٹنے کے لئے مناسب و مطلوبہ اقدامات کے انتظام کے لئے پی ٹی آئی کی حکومت کو وقت مل سکے۔پی ٹی آئی کی حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے رجوع کر کے ان سے تحریک لبیک والوں کے انتظام کے حوالے سے مناسب رہنمائی اور مشورہ حاصل کر تی‘جیسا کہ گزشتہ سال فیض آبا د دھرنے کے وقت کیا گیا تھا ‘حکومت نے یا تو اس پہلو پر سوچا نہیں تھا کہ فیصلے کا محفوظ کیا جانا لبیک والوں کو بھی منظم احتجاجی مظاہروں کے انعقا د کی باقاعدہ منصوبہ بندی کا وقت فراہم کر دے گا یا شاید انہیں لگا ہو کہ وہ لبیک کے قائدین کو آسانی سے اپنے احتجاج کو قابل قبول حدود میں رکھنے پر آمادہ کر سکیں گے۔تاہم جو کچھ ہوا ہے وہ پاکستان کی تاریخ میں ریاست کی سب سے بڑی پسپائی ہے اور اس کے لئے پورا حکمران طبقہ مجموعی طور پر ذمہ دار ہے۔

متعلقہ واقعات کی ترتیب بھی بڑی دلچسپ ہے۔ ملزمہ نے سپریم کورٹ میں چار سال قبل یعنی چوبیس نومبر سن دو ہزار چودہ کو اپیل دائر کی تھی‘جس کے سات ماہ بعدیعنی 22 جولائی 2015ء کو سپریم کورٹ نے اس اپیل کی سماعت تک سزائے موت ملتوی کر دی ۔ تین سال میں سپریم کورٹ نے اس اپیل پر سماعت مکمل کی اور اس سال 8اکتوبر کو اس اپیل پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔تین ہفتے بعد یعنی 31اکتوبر کو سپریم کورٹ نے آسیہ مسیح کی بریت کا فیصلہ جاری کیا۔اسی روز فی الفور فیصلے کیخلاف بھڑکے ہوئے احتجاجیوں نے پوری تیاری کے ساتھ ملک کے طو ل وعرض میں پر تشدد مظاہرے شروع کر دئیے اورسرکاری و نجی املاک کو بے دریغ تباہ کیا‘حالات تیزی سے قابو سے باہر ہونے لگے تو 2نومبر کو حکومت نے باقاعدہ طور پر سیکشن 245کے تحت دارالحکومت کی حفاظت کے لئے پاکستانی فوج کی بارہ کمپنیوں کی مدد طلب کی۔تاہم پر تشدد احتجاج پر مصر مظاہرین کے خلاف ایک موثر آپریشن کے ذریعے ریاست کی عملداری کے قیام کی بجائے پی ٹی آئی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے مشترکہ طور پر مظاہرین سے احتجاج کے خاتمے کے لئے مذاکرات کئے۔ 5نومبر کو لبیک والوں کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد یہ مظاہرے ختم ہوئے اور حکومت نے اپنا نوٹیفیکیشن بھی واپس لے لیا۔واقعات کی ان کڑیوں سے درج ذیل واضح نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں۔ ۱)اس مقدمے کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے تین سال کا عرصہ لیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک ایسے نڈر چیف جسٹس کا انتظار کیا جا رہا تھا جو آسیہ مسیح کی رہائی کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا سکے۔یہ موقع تب ہاتھ آیا جب جسٹس ثاقب نثار چیف جسٹس بنے اور عام انتخابات کے نتیجے میں اسٹیبلشمنٹ کی مدد اور حمایت کے ساتھ پی ٹی آئی برسر اقتدار آئی۔نون لیگ کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل نہیں تھی اسی لئے اس کے برعکس پی ٹی آئی کی حکومت کے لئے آسیہ مسیح کی رہائی کے نتائج سے نمٹنا زیادہ سہل ہو سکتا تھا۔

۲) تاہم‘پی ٹی آئی کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ والے مظاہروں کو قابو کرنے کے حوالے سے ایک بروقت اور مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے میں ناکام رہے‘ حالانکہ مطلوبہ اقدامات کے لئے انہیں تین ہفتے کا وقت بھی ملا تھا۔ان کے بر عکس احتجاجیوں نے اس وقت کا بھرپور استعمال کر کے اپنی طاقت کو منظم کیا۔
۳) 2نومبر کو جبکہ حکومت اور تحریک لبیک والوں کے مذاکرات جاری تھے اور سیکشن245کا استعمال بھی کیا جا چکا تھا‘آئی ایس پی آر کے ترجمان نے حکمرانوں اور لبیک کے قائدین کو ایک پرامن حل پر متفق ہونے کا مشورہ دیا کیونکہ فوج کا استعمال آخری حربے کے طور پر بھی کوئی اچھا آپشن نہیں تھا۔
۴) چنانچہ احتجاج کرنیوالوں نے اگرچہ ملک کے طول و عرض میں خوب تباہی مچائی۔
۵) بدترین پہلو اس ساری صورتحال کا یہ ہے کہ اس واقعے کے بعد تحریک لبیک قومی سطح پر سب سے طاقت ور غیر ریاستی عنصر کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔اس سے قبل عام انتخابات میں بھی کافی حد تک اس تحریک کی انتخابی حمایت دیکھی گئی تھی جس کا سبب گزشتہ سال فیض آباد کا دھرنا تھا ‘اسی دھرنے کے نتیجے میں ایک وفاقی وزیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

۶) ستم ظریفی یہ ہے کہ دو ہزار سترہ میں ان مظاہرین کو پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کی کھلم کھلا اور پوشیدہ دونوں قسم کی حمایت حاصل تھی جبکہ دو ہزار اٹھارہ میں یہ انہی قوتوں کے خلاف اٹھے جو قبل ازیں اس کی حمایت کر رہی تھیں۔
اس سے بہت بڑا سبق سیکھ لینا چاہئے‘ماضی میں مسلح جتھوں کے عروج اور زوال کے اسباب و عوامل بھی یہی تھے۔ نام نہاد قومی مفاد کا بہانہ بنا کر ملکی نظام کے استحصال کی غرض سے جو عارضی سیاسی جتھے تشکیل دئیے گئے وہی پھر سیاسی عفریت بن بیٹھے اور ریاست و معاشرے میں انہوں نے تباہی مچا دی‘جس کے بعد بالآخر ان سے نمٹنے کے لئے فوجی آپریشن کا سہارا لینا پڑا جس میں مالی و جانی دونوں قسم کے بھاری نقصانات بھی اٹھانے پڑے۔ تاہم اس بار اس عفریت کو معاشرے کے ان ناراض اور جوشیلے طبقات کی حمایت حاصل ہے جو رائے دہی کے حق اور روزگار کے مواقع سے محروم رہے ہیں ‘ایک طویل عرصے تک مجبور اور بے بس رہنے کے بعد آج ان میں شدید برانگیختگی بھی ہے اور اجنبیت و بیگانگی کا احساس بھی! یہ لوگ پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اور ماضی کے غیر ریاستی عناصر کے برعکس اس بار ان کا جنون کسی حدد میں قید نہیں!
جاگئے!!اس عفریت سے نمٹنے کا انتظام کیجئے پیشتر اس کے کہ یہ ہم سب کو نگل جائے!!اور آئندہ کے لئے ایسے عفریتوں کو پروان چڑھانے سے باز رہیں!!!