1484

خاوند کا بیوی پر شک ۔۔۔ دو طرفہ عذاب

انسان کی فطرت میں جہاں اور بہت سی برائیاں ہوتی ہیں شک بھی ان میں سے ایک برائی ہے ۔ چونکہ ہم مضمون ذہنی صحت کے حوالے سے لکھ رہے ہیں اس لئے ہم شک کو بھی دو حصوں میں تقسیم کریں گے ایک نارمل شک اور دوسرا ابنارمل شک ۔
کوئی دو انسانی رشتے ایسے نہیں ہیں جن میں کبھی نہ کبھی شک جنم نہ لیتا ہو اور باہمی تعلقات کو متاثر نہ کرتا ہو اور کئی مسائل اور مصائب پیدا نہ ہوتے ہوں ۔ ماں باپ ، بہن بھائی ، دوست رشتہ دار اور ہمسایہ وغیرہ ۔ جس شک کو میں آج اپنے مضمون کا موضوع بنانے لگا ہوں وہ ابنارمل شک ہے جس کو انگریزی زبان میں Paranoid Ideasاور Paranoid Delusionsکہا جاسکتا ہے ۔ ذہن کی مختلف بیماریوں میں جیسے کہ میرے پچھلے مضمون شائیز و فروینیا میں اس کا ذکر ہو چکا ہے کہ انسان اپنوں پر یا ہمسایوں پر یا دوسرے لوگوں یا دوسری قوموں پر شک کرنے لگتا ہے اوراس شک کی شدت اتنی شدید ہوتی ہے کہ انسان کی اپنی ذاتی زندگی ، خوشی ، کام ، نیند اور رشتے متاثر ہونے لگتے ہیں ۔ 


میں نے آج کے کالم کیلئے میاں بیوی کے شک کو اپنا موضوع خاص بنایا ہے ویسے عورت بھی مرد پروفاداری کے لحاظ سے کئی بار شک کرتی ہے لیکن عورت کا مرد پر شک کرنا ہمارے معاشرے کی اقدار کے حساب سے اتنا تکلیف دہ نہیں ہوتا اکثر و بیشتر ہنی مذاق میں ختم ہو جاتا ہے اور اگر اس کی بنیاد صحیح ہو تو بگاڑ اور بد مزدگی بھی پیدا ہو جاتی ہے لیکن مرد کیلئے عورت کی تسلی یا تشفی کرنا آسان ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس جب مرد اپنی بیوی کے کردار پر خاص کر اس کی جنسی وفاداری پر شک کرنے لگے تو یہ بہت شرمناک اور اذیت ناک شک ہوتا ہے یہ مرض بہت عام لیکن منظر پر بہت کم لایا جاتا ہے ۔ بہت کم شوہر کھلی کر کسی اور کے سامنے اپنی بدگمانی کا اظہار کرتے ہیں لیکن اپنی بیوی کے سامنے وہ بتدریج شک کرنے لگتے ہیں جس کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی ۔ سب سے اہم بات یہی ہے کہ یہ شک بے بنیاد ہوتا ہے تبھی اس کو ابنارمل کہا جاتا ہے ۔ 


خاوند شروع میں تو چپکے چپکے اور چھپکے چھپکے اپنی یبوی کی حرکات پر نظر رکھنے لگتا ہے اس کااٹھنا بیٹھنا ، گھر آئے ہوئے کسی مہمان سے ملنا یا کسی رشتہ دار کے گھر جانا ، کسی ہمسائے کے گھر جانا ، بازار یا کسی اور ضرورت والی جگہ پر مثال کے طورپر ڈاکٹر کیپاس جانے پر خاوند بے چین اور شک مند ہونے لگتا ہے اور اس پرگراں گزرتا ہے ۔ بات بڑھتی ہے تو خاوند بیوی سے پردے میں باقاعدہ پوچھ گچھ کرنے لگتا ہے ، ایسے ایسے سوال کرتا ہے جن کا جواب بہت صبر آزما ہوتا ہے ۔ اول اول تو اپنے رشتہ دار چاہے وہ شوہر کے ہوں یا بیوی کے شک کا مرکز بنتے ہیں تم فلاں کے سامنے بن ٹھن کر کیوں آتی ہو، تم فلاں سے ہنس ہنس کر باتیں کیوں کر رہی تھی ، وہ تمہاری طرف اور تم اس کی طرف کیوں دیکھ رہے تھے ۔ 


عورت پہلے بڑے صبر سے ، بڑے حوصلے سے خاوند کی تسلی کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ خاوند اس سے قسمیں اور قرآن اٹھواتا ہے ، اس پر پابندیاں لگاتا ہے اور آگے چل کر اس کے کپڑوں کے شک مندانہ انداز میں تلاشی لیتا ہے اس کے پردے والے اعضاء کا معائنہ شروع کرتا ہے ۔ آجکل کے زمانے میں چونکہ موبائل کا استعمال بہت عام ہو چکا ہے تو میاں گھر آتے ہی اگر اس کی بیوی کے پاس موبائل فون ہے تو چیک کرتا ہے اس کے نمبروں کی ڈائری دیکھتا ہے ، طرح طرح سے اس پر جاسوسی کرتا ہے ۔۔ بعض مریض تو یہاں تک کہتے ہیں کہ یہ بچے میرے نہیں ہیں چاہئے آپ D.N.Aٹیسٹ کروالیں ۔ یہ معاملہ بڑھتا ہے تو کمرے کے اندر ہی بدزبانی ، مار کٹائی حتیٰ کے قتل و غارت کی دھمکیاں شروع ہو جاتی ہیں ۔ 


عورت شروع میں تو شرم کے مارے سوائے اپنی ماں ، بہن یا کسی عزیز سہیلی کے کسی اور سے ذکر ہی نہیں کرتی اور میاں کی ہر لگائی ہوئی پابندی پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہے تا کہ معاملہ آگے بڑھنے نہ پائے اور میاں کا شک ختم ہو جائے ۔ چونکہ یہ شک ایک بیماری کی پیداوار ہوتا ہے یہ کسی دلیل ، گواہی یاقسم سے دور نہیں ہوتا اس لئے جلد یا بدیر یہ بات ساس ، سسر ، نند ، دیور ، دیورانی اور دیگر رشتہ داروں حتیٰ کے گھر میں نوکر ، نوکرانی تک پہنچنے لگتی ہے ۔ اب خاوند کے گھر والے اور رشتہ دار منقسم ہونے لگتے ہیں جتنے منہ اتنی باتیں اور کبھی کبھی بغض معاویہ کے حساب سے شوہر کے رشتہ دار اس کے شک کو مزید مضبوط کرنے لگتے ہیں ۔ پہلے تو ایک آدھ کیس ہی دماغی ڈاکٹر کے پاس پہنچتا تھا مگر پچھلے چند سالوں سے بہت سی خواتین دماغی ڈاکٹر کے پاس جانے لگی ہیں اور یہ فریاد کرتی ہیں کہ ان کے خاوند ان پر نا حق شک کرتے ہیں ۔ 


اب مشکل خاص کر شوہر کے ماں باپ یا کبھی بہن بھائی انتہائی ایماندار ہوں تو وہ پہلے اپنی طرف سے کوشش کرتے ہیں لیکن یہ کوششیں بھی اسی طرح رائیگاں جاتی ہیں جس طرح اس سے پہلے بیوی کی کوششیں ۔ کئی رشتہ دار جھوٹ موٹ اور اچھی نیت سے مگر جھوٹے سچے بہانے کے ساتھ یہ کہہ کر ڈاکٹر کے پاس کلینک لے آتے ہیں اور اکثر و بیشتر یہ حربہ استعمال کیا جاتا ہے کہ شوہر کی ماں ، باپ یا کوئی عزیز دوست خود کو ذہنی بیمار ظاہر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے فلاں فلاں دماغی ڈاکٹر کے پاس لے چلو میں نے اپنا علاج کرانا ہے بڑی مشکلوں سے جب ’’ شکار ‘‘ کو پھانس کر ڈاکٹر کے پاس لایا جاتا ہے تو ڈاکٹر اپنے تجربے یا طریقے کی بنیاد پر آہستہ آہستہ شوہر سے کچھ باتیں اگلوا لیتا ہے سب سے کار آمد طریقہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ مریض سے پوچھا جائے کہ کیا تیری ماں ، تیرے باپ یا بہن بھائی یا کوئی ایسارشتہ دار جس پر تمہارا یقین ہو تمہارے اس شک کی تائید کرتا ہے کہ نہیں کرتا ۔ بعض دفعہ تو مریض اس گھیرے سے نکلنے کی یوں کوشش کرتا ہے کہ یہ میرا اورمیری بیوی کا معاملہ ہے اس سے میری ماں یا باپ کا کیا تعلق ، میں جتنا اپنی بیوی کو جانتا ہوں وہ کیسے جان سکتے ہیں ۔ لیکن اکثر و بیشتر ڈاکٹر کوئی اور چال چلتا ہے اس کے سر کے ایکسرے کے بہانے یا کوئی ٹیکہ لگاکر یا چپکے سے ایسی ادویات جو شک کو دور کرتی ہیں گھروالوں کے حوالے کرتا ہے کہ اس کو خوراک میں ملا کر دیتے ہیں ۔ لیکن کبھی کبھی مشکل یہ آن پڑتی ہے کہ شوہر صاحب بیوی تو چھوڑ اپنی ماں کے ہاتھ کی پکی ہوئی خوراک یا پانی ، شربت ، دودھ یا چائے پینے سے بھی انکار کردیتے ہیں ۔ بہرحال اس کا بھی طریقہ نکالا جاتا ہے اور اگر شوہر کے گھر والے تعاون کریں تو مسئلہ بخیر انجام پا جاتا ہے ۔ میں نے ایک چھوٹی سی ریسرچ میں چالیس مقتول عورتوں کا پتہ چلایا تو اس میں سے 33فیصد اپنے خاوند کے ہاتھوں ماری گئی تھیں ۔ مجھے تقریباً یقین ہے کہ قاتل اس Paranoidبیماری کے مریض تھے ۔ اب کے حلات میں یہ ممکن ہے کہ جیسا میں نے اوپر کہا کہ کچھ کوشش کرکے یہ جائیں بچائی جا سکتی ہیں ۔ 
میں نے اپنے عنوان میں دوطرفہ عذاب کا ذکر کیاہے ۔ یہ صحیح ہے کہ عورت غریب بے گناہ ہوتے ہوئے مسلسل دکھ اور شرم کی آگ میں جلتی رہتی ہیں لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ مرد بھی عورت کے برابر اذیت اور عذاب سے گزر رہا ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی مرد کے لئے اس کی عورت کا بے وفا اور بد چلن ہونا ایک بڑے عذاب سے کم نہیں ہوتا ۔ یہی حال تقریباً دونوں طرف کے خاندانوں کا ہوتا ہے ۔ 


اوپر اب تک جو بیان ہو چکا ہے اس میں قارئین شاید یہ سمجھیں کہ یہ مسئلہ نئے شادی شدہ جوڑوں کو پیش آتا ہوگا ۔ چونکہ شادی کے ابتدائی چند ماہ یا ایک دو سال میں ایڈجسٹمنٹ میں مشکلات پیش آتی ہیں یہ مسئلہ بھی ان کا ایک حصہ ہوگا ۔ نہیں جناب نہیں ۔ یہ مشکل شادی کے کئی سال بعد کئی بچوں کے ماں باپ کے درمیان بھی پیدا ہو جاتا ہے حتیٰ کہ کئی دفعہ بوڑھے میاں بیوی جن میں دونوں کی عمریں ساٹھ سال سے تجاوز کر چکی ہوتی ہیں ان کی اولاد اپنے والدین کو کسی بہانے سے ڈاکٹر کے پاس پہنچاتی ہے ۔ ایسی ایسی عورتیں جن کے منہ میں ایک دانت بھی نہیں ہوتا مرد کے غیض و غضب کا شکار ہوتی ہیں کہ اس کی بیوی غیر مردوں سے تعلق رکھتی ہے ۔ اس عمر میں مسئلہ نسبتاً بہت آسان ہوتا ہے کہ بوڑھے میاں کو چھوٹی موٹی سی دوائی کسی اور بیماری کے بہانے سے مثال کے طورپر بلڈ پریشر ، نظر کی کمزوری یا جوڑوں کے درد کے نام پر دے دی جاتی ہے جن لوگوں کو اس بیماری کے متعلق معلومات نہیں ہیں اور اکثریت کا یہی حال ہے وہ اس کا حل یہ نکالتے ہیں کہ باپ ایک بیٹے کے ساتھ اور ماں دوسرے بیٹے کے ساتھ رہنے لگتی ہے تا کہ روزمرہ کا فساد رک جائے ۔ 


یہاں تک لکھتے ہوئے میں ایک شش و پنج میں مبتلا ہوں کہ شیکسپئیر کا ایک عظیم ترین المیہ Othelloکے نام سے مشہور ہے اس کا ذکر کروں یا نہ کروں ۔ یہ اس جوڑے کی کہانی ہے جس میں وینس کی عیسائی بادشاہت کے کمانڈر ان چیف ایک ادھیڑ عمر مسلمان Berberتھے جن کا نام Othelloتھا ۔ وینس کے ایک سینیٹر کی بیٹی (ظاہر ہے سفید فام بیٹی ) Othelloکی بہادری کے قصے سن سن کر اس کے دام محبت میں اتنی گرفتار ہوتی ہے کہ باپ کی اجازت تو چھوڑئیے اس کے علم میں لائے بغیر اس سے شادی کر بیٹھتی ہے ۔ سینیٹر کو Othelloکے حریف جا کر بڑھکاتے ہیں مقدمہ چلتا ہے لیکن لڑکی صاحب بیانی سے کام لیتے ہوئے یہ کہتی ہے شادی میں نے اپنی مرضی اور پسند سے کی ہے ۔ لیکن سازشی عناصر پھر بھی اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں اور بلآخر Othelloکے دل میں اس کی بیوی کے خلاف شکوک در شکوک پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور Othelloجرنیل اپنی سوئی ہوئی بیوی کے چہرے پر تکیہ رکھ کر دبا دیتا ہے اور سانس گھٹنے سے وہ مر جاتی ہے ۔ جب جرنیل صاحب کو ہوتی آتا ہے کہ میں کیا کر بیٹھا ہوں تو وہ اپنے ہی خنجر سے خودکشی کرلیتا ہے اور یہ المیہ اپنے انجام کو پہنچتا ہے ۔ 
سائیکاٹری کی بہت ساری کتابوں میں اس بیماری کا نام ہی Othello Syndromeرکھا گیا ہے ۔ جن لوگوں کو دلچسپی ہو وہ یہ ڈرامہ اور مختلف تشریحات پڑھیں اور بار بار پڑھیں ۔