649

مرگی یا Epilepsy۔۔۔۔ ایک قابل علاج مرض

مرگی یا Epilepsy کا ذکر دنیا کی مختلف کتابوں میں ہزاروں سال سے موجود ہے ۔ Epilepsyیونانی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’’ پکڑے جانا ‘‘ ۔ پکڑے جانا سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اس انسان کو کسی جن ، بھوت یا کسی شیطانی قوت نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے ۔ یہ دلچسپ اتفاق ہے کہ اکیسویں صدی میں صوبہ بھر سرحد ، افغانستان ، قبائلی علاقوں بلکہ پنجاب کے کچھ لوگ پکڑ کا لفظ استعمال کرتے ہیں اس سے مراد بھی وہی کچھ ہے جو قدیم یونانی سمجھا کرتے تھے ۔ 
لاطینی قوموں کے اقتدار کے زمانے میں اس بیماری کا تعلق چاند کے بڑھنے گھٹنے سے جوڑا گیا تھا ۔ ہزاروں سال بعد اب بھی دور افتادہ علاقوں کے رہنے والے لوگوں سے جب مرض کا حال احوال پوچھا جائے تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ جب چاند نیا پر پرانا ہونے لگے تو ان دنوں میں یہ مرض بڑھ جاتا ہے ۔ یہ سائنسی حقیقت تقریباً مانی جا چکی ہے کہ چاند کے بڑھنے یا گھٹنے کا سمندر کے جوارب بھاٹا سے تعلق ہے ۔ چاند اور مرگی کے تعلق کے حق میں لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ کیونکہ انسان کے دماغ کے اندر بھی پانی ہوتا ہے اس لئے چاند کی کشش اس پر بھی اثر انداز ہوتی ہے ۔ کچھ نیم سائنسی کتابوں میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ چودھویں کی رات کے ارد گرد دنیا میں تشدد کے جرائم بڑھ جاتے ہیں ، واللہ عالم بالصواب ۔


لا طینی زبان میں چاند کو Lunaکہتے ہیں اور مرگی کو پرانے وقتوں کے لوگ Lunacyکہتے تھے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ Lunacyکا مطلب پاگل پن بن گیا ۔ کئی اور ملکوں میں Epilepsyکو مقدس مرض یعنی Sacred Diseaseکا خطاب ملا ۔ اس پر دنیا کے مختلف قبائل میں اب تک یقین کیا جاتا ہے اور جس شخص کو ایک دفعہ مرگی کا دورہ پڑ جاتے وہ ان کی نظروں میں بزرگ اور مخدوم کا درجہ پا جاتا ہے ۔ 


مرگی کی کئی قسمیں ہیں ۔ سائنسدانوں نے مختلف وقتوں پر ان مختلف قسموں کو جدا جدا نام دیئے مثال کے طورپر وہ مرگی جس میں عام لوگوں نے مریض کو سڑک پر بے ہوش ہو کر گرتے اور پھڑکتے ہوئے دیکھا ہے اس کو فرانسیسی زبان میں Grandmalیعنی بڑی مرگی کہا جاتا ہے ۔ اس مرگی میں کبھی کبھی مریض کا پیشاب یا بہت پرانے مریضوں میں پاخانہ بھی نکل جاتا ہے ، زبان ، ہونٹ یا گال کے اندر کا حصہ دانتوں میں آکر کٹ جاتا ہے اور منہ سے خون نکلنے لگتا ہے ۔ اس مرض میں زمین پر گرنے کے بعد شروع میں مریض اکڑ جاتا ہے اور سانس بند ہو جاتا ہے اور رنگ نیلا یا پیلا ہو جاتا ہے ، ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہو جاتے ہیں ، آنکھیں کھل کر اوپر کی طرف چلی جاتی ہیں ، ایک آدھ منٹ کے بعد جسم سختی کی بجائے جھٹکے کھانے لگتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ مریض لمبے لمبے خراٹے جیسی آواز کے ساتھ سانس لیتا ہے جس سے اس کے منہ سے کف نکلنے لگتی ہے یعنی جمع کی ہوئی تھوک کی جھاگ ۔ بدقسمتی سے یہ نظارہ دیکھنے والوں کیلئے بھی بڑا کربناک ہوتا ہے مریض واپس ہوش میں آنے لگتا ہے تھوڑی دیر میں جب اس کے اوسان صحیح ہونے لگتے ہیں تو اس کو پتہ چل جاتا ہے کہ اس پر پھر دورہ آیا ہے ۔ دیکھنے والوں کا ہجوم اکٹھا ہو جاتا ہے اور وہ اپنی دانست میں غلط یا صحیح کئی ٹوٹکے کرتے ہیں جس میں سب سے غلط اور توہین آمیز ٹوٹکہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو جوتی سنگھائی جاتی ہے ان لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ اس سے مریض کو ہوش آ جاتا ہے یہ بالکل غلط ہے اور افسوسناک مغالطہ ہے ۔ ہوش تو مریض کو ہر حال میں آجاتاہے سوائے اس کے کھانے کے بعد جب دورہ آئے اور الٹی اس کے گلے میں پھس جائے تو سانس بند ہو جاتا ہے اور مریض مر سکتا ہے لیکن ایسا واقعہ خال خال ہوتا ہے ۔ جب کسی مریض کو آپ دورے کی حالت میں دیکھیں تو اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیں ہاں البتہ سڑک پر رواں ٹریفک یا خطرے والی کوئی اور چیز مثال کے طورپر گڑھا وغیرہ تو اس سے اس کو دور ہٹالیں ۔ 


دوسری قسم کی ایک مرگی جس کو چھوٹی مرگی کہتے ہیں اور عام طورپر چھوٹے بچوں یا بڑے لڑکے لڑکیوں میں آتی ہے اس میں صرف اتنا ہوتا ہے کہ مریض باتیں کرتے کرتے رک جاتا ہے ، اس کی نظریں ایک جگہ جم جاتی ہیں ، اس کی پلکیں پھڑکتی ہیں ، منہ تقریباً نیم کھلا رہ جاتا ہے اور کبھی کبھی اس کے منہ سے رال ٹپکتی ہے لیکن یہ دورہ صرف پندرہ تا بیس سیکنڈ کے لئے ہوتا ہے اور نا واقف لوگوں کو اکثر پتہ ہی نہیں چلتا ۔ ہوش میں واپس آتے ہی مریض اپنا کام وہیں سے شروع کردیتا ہے جہاں سے دورے سے پہلے اس نے کام چھوڑا ہو ۔ یہ عام طورپر دوتین سال یا اس سے کم عمر کے بچوں میں شروع ہوتا ہے ۔ یہ دورہ بعض بچوں میں مسلسل کئی بارآتا ہے اور علاج یا علاج کے بغیر کافی بچوں میں یہ بیماری خود بخود ختم ہو جاتی ہے بدقسمت بچوں میں چھوٹی مرگی کے ختم ہونے کے بعد بڑی مرگی کے دورے شروع ہو سکتے ہیں اور کبھی کبھی یہ دونوں دورے یکے بعد دیگرے مریض میں ظاہر ہوتے ہیں اور سوائے ایک ماہر امراض کے عام آدمی یہ تمیز نہیں کر سکتا کہ پہلا دورہ کب ختم ہو اور دوسرا کب شروع ہوا ۔ ان دونوں میں تمیز کرنے کی بہت بڑی اہمیت ہے کیونکہ چھوٹی مرگی اور بڑی مرگی کے علاج میں بہت فرق ہوتا ہے پچھلے چند سالوں سے ایسی دوائیاں بھی ایجاد ہو چکی ہیں جو چھوٹے اور بڑے دونوں دوروں میں موثر ہوتی ہیں ۔ 


تیسری بڑی قسم وہ Temporal Lobe Epilepsyیا ڈاکٹروں کی مختصر زبان میں TLEہوتی ہے جس میں مرض کی شخیص بعض دفعہ بہت آسان ہوتی ہے اور بعض دفعہ بڑے بڑے ماہرین بھی اس کی شخیص بعض دفعہ بہت آسان ہوتی ہے اور بعض دفعہ بڑے بڑے ماہرین بھی اس کی تشخیص میں غلطی کر جاتے ہیں ۔ یہ کئی شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے ۔ زیادہ تر لوگ پہلے پیٹ کے اندر ناف کے اوپر کے حصے میں کچھ عجیب غریب حرکت محسوس کرتے ہیں ، مختلف لوگ اپنی زبان میں مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں پھر مریض اندھا دھند بھاگنے لگتا ہے اور چند گڑ بھاگنے کے بعدوہ زمین پر گر جاتا ہے ۔ اس قسم کی مرگی میں بھی مریض کو کچھ ہوش نہیں ہوتا کہ مجھ پر کیا گزری ۔ یہ سوتے ہوئے آسکتا ہے ، جاگتے میں بھی اور سڑک کے کنارے پر بھی آسکتا ہے ۔ بعض مریضوں کو اپنے لگے ہوئے زخم یا درد کرتے ہوئے کچھ حصوں سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان پر دورہ آیا تھا ۔ مرگی کے دورے کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ ہر دفعہ یہ ایک ہی شکل اور ایک ہی ترتیب میں حملہ کرتی ہے جس طرح چیز کو بار بار Re-playکریں جیسے کرکٹ میں Action Replayدکھایا جاتا ہے اگر دورے کی شکل ہر دفعہ بدلتی رہے تو وہ مرگی کا دورہ نہیں ہوگا بلکہ ہسٹیریا کا دورہ کہا جائے گا ، جس کا ذکر میرے ایک سابقہ مضمون میں ہو چکا ہے ۔ مضمون طویل ہوتا جا رہا ہے اور میں اس کو اس پر ختم کرتا ہوں کہ ایک ماہر ڈاکٹر کو پوری تفصیل اور انہماک کے ساتھ مریض کے اس رشتہ دار سے ہسٹری لینی چاہیے جس نے یہ دورہ ایک سے زیادہ بار دیکھا ہو جو ذہین ہو اور اچھا مشاہدہ رکھتا ہو ۔ ہسٹری دینے کیلئے ماں اور بیوی سے بہتر گھر کا کوئی فرد نہیں ہو سکتا ۔ باپ بھائی یا دور کے رشتہ دار بالکل بے فائدہ اور بے مدد ثابت ہوتے ہیں ۔ 


اس مرض کی تشخیص کیلئے ECGکی طرح جو کہ دل کے دورے کا پتہ لگاتی ہے EEGکی مشینیں بنی ہیں جو کہ دماغ کا گراف دکھاتی ہیں ۔ لیکن آخری فیصلہ ڈاکٹر کی اچھی طرح سے لی ہوئی ہسٹری سے ہی ہوگا اگر EEGنارمل ہے مگر ہسٹری Epilepsy کی گواہی دیتی ہے تو ایک ماہر ڈاکٹر EEGکی رپورٹ نظر انداز کرکے اپنے طبی معائنے کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا ۔