436

جب بچوں کی شوخی اور شرارت شرمساری اور عذاب بن جائے

بچے خدا کا خوبصورت تحفہ ہوتے ہیں بچہ جب ڈیڑھ دو سال کا ہوتا ہے تو اپنی اردگرد کی دنیا کی تلاش اور دریافت شروع کر دیتا ہے ‘ نئی نئی چیزوں کو ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ تجسس بچپن میں اپنی انتہا کو چھوتا ہے جب بچہ باتیں کرنے لگتا ہے تو وہ ایک ایک چیز کے بارے میں سوال پوچھتا ہے جوکچھ دوسرے کرتے ہیں وہ ان کی نقل کرتا ہے اور نئی نئی حرکتیں کرنے کی کوشش کرتا ہے اتنے سوال پوچھے جاتے ہیں کہ اللہ میری پناہ۔ حرکت زندگی کا نام ہے لیکن حرکت کی بھی ایک حد ہوتی ہے 2-3 سال کے بچے کی حرکات جب حد سے بڑھنے لگتی ہیں تو ایک ہوشیار ماں سمجھنے لگتی ہے کہ یہ حرکت غیر معمولی اور عام بچوں سے بڑھ کر ہے۔ ایسا بچہ آرام سے نہیں بیٹھتا ‘ بیٹھتے ہوئے بھی ہلتا جلتا رہتا ہے یا ادھر ادھر چیزوں کو چھیڑتا رہتا ہے‘ اٹھ کر بیٹھتا ہے پھر اٹھتا ہے اور پھر بھاگنے لگتا ہے‘ دل میں جو لہر اور موج آتی ہے یہ کر گزرتا ہے۔ انگلش زبان میں اسے Impluse Control کی خامی کہتے ہیں ۔ کھیلنے میں بھی کسی ایک کھیل کو زیادہ دیر تک جاری نہیں رکھتا۔ ہر عمر کے بچے میں اس عمر کے مطابق کام کرنے کا ایک طریقہ اور کام کو توجہ دینے کی ایک ترتیب ہوتی ہے یعنی چھوٹے سے چھوٹا کام بھی آرگنائز کر کے کیا جاتا ہے۔ لیکن اس بیماری میں بچے کی توجہ جلدی جلدی ایک چیز سے ہٹ کر دوسری پہ جاتی ہے لیکن وہاں بھی ٹھہرتی نہیں ۔ کچھ اور نظر آگیا یا کچھ اور سن لیا تو بچہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے ایک چیز پر اپنی توجہ مرکوز یا فوکس نہیں کر سکتا۔ اس لئے نہ صرف یہ کہ وہ پڑھائی میں ترقی نہیں کر سکتا‘ اسی طرح کھیل خاص کر مل جل کر کھیلنے والے کھیل میں بھی وہ فٹ نہیں ہوتا کیونکہ سادہ سے سادہ کھیل کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں توجہ ‘ تربیب ‘ آرگنائزیشن مثال کے طور پر کون سا کام پہلے کرنا ہے اور کون سا بعد میں۔ خوراک ادھوری چھوڑ کر ‘ سبق آدھا چھوڑ کر حتیٰ کہ ٹی وی یا یار دوست کو بھی چھوڑ کر کسی اور طرف متوجہ ہو جاتا ہے مگر وہاں سے بھی بچے کو کسی اور طرف خیال چلا جاتا ہے ایک پنسل اٹھاتا ہے پھر دوسری پنسل لیتا ہے‘ ایک صفحے پر دو لفظ لکھے پھر دوسرے صفحے پر پہنچ گیا۔ سکول اور گھر میں اس کی چیزیں بہت جلدی گم ہو جاتی ہیں۔ اسے یاد نہیں رہتا کہ میں نے کون سی چیز کہاں رکھی یا کہاں چھوڑی تھی۔ 10-12 مہینے کے بچے میں محفل و مجلس کے آداب سیکھنے کی ابتدا ہو جاتی ہے پرائے بندے سے تھوڑا بہت جھجھکنا ‘ دوسروں کے گھر میں کس طریقے سے اٹھنا بیٹھا ‘ ملنا ملانا ‘ کسی چیز کو ہاتھ لگانا یا اٹھانا یا کس طرح سے کھانا پینا ہے۔ لیکن اس بچے کے دماغ کا وہ حصہ جو بطور خاص قدرت نے اس لئے بنایا ہوتا ہے کہ وہ کام کو آرگنائز اور پلان کر سکے ‘ اپنے ہم عمر بچوں سے 3-5 سال پیچھے رہ جاتا ہے ‘ یعنی وہ حصہ نشونما میں پتلا اور کمزور رہ جاتا ہے۔ چونکہ آج کل ایسی مشینیں مثال کے طور پر MRI آگئی ہیں جو دماغ کے سارے حصوں کی الگ الگ تصویریں لے سکتی ہیں ان سے پتہ چلا ہے کہ دماغ کا سب سے اگلا حصہ جس کو طبی اصطلاح میں Pre-Frontal Cortex کہتے ہیں ‘ نشوونما نہیں پاتا اس حصے کا تعلق پلاننگ اور آرگنائزنگ بھی سکڑا ہوتا ہے اس حصہ دماغ کا تعلق غیر ضروری خیالات اور حرکات کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے اس کے مقابلے میں دماغ کا وہ حصہ جس کا حرکت کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اور جس کو Motor Cortex کہتے ہیں وہ اپنے ہم عمر بچوں سے زیادہ ہو جاتا ہے جبھی یہ بچہ حرکت بہت کرتا ہے۔ ان بچوں کا تازہ حافظہ یعنی Short term Memory کمزور ہوتی ہے‘ ان کے سادہ سے سادہ کام کرنے کا بھی طریقہ بھونڈا ہوتا ہے۔ چونکہ ان کی توجہ ایک چیز یا جگہ پرمرکوز نہیں رہتی اس لئے یہ سبق میں پیچھے رہ جاتے ہیں حالانکہ یہ اصل ذہانت میں کم نہیں ہوتے۔ چونکہ یہ ٹک کر نہیں بیٹھ سکتے ‘ کلاس میں ادھر اٹھ ادھر بیٹھ‘ ایک چیز کو ہاتھ لگا دوسری چیز کو چھیڑ۔ اس لئے استاد یا لیڈی ٹیچر اسے بدتمیز‘ شرارتی یا ڈسپلن کا مسئلہ سمجھ لیتی ہیں معاملہ بگڑ جائے تو ایک سیکشن سے دوسرے میں اور بالآخر سکول سے نکال دیا جاسکتا ہے۔ گھر میں اس کے ہاتھ سے چیزیں گر گر کر ٹوٹتی ہیں یا یہ ان کو خودتوڑتا رہتا ہے۔ چھوٹے بچوں کو مارتا رہتا ہے۔ یہ بچہ کسی کے گھر لے جانے کے قابل نہیں رہتا۔ گھر میں آئے مہمانوں کے سامنے اس کی حرکتیں ماں باپ کے لئے شرمساری کا باعث بنتی ہیں۔ جب یہ مرض 15-20 سال تک چلتا رہے تو یہ مریض پھر غلط اور قابل اعتراض حرکتیں کرنے لگتا ہے اور معاملہ گھر اور سکول سے نکل کرمحلے اور بازار تک جا پہنچتا ہے یہ مریض نہ بچپن میں نہ ہی بڑا ہو کر کوئی دوست بنا سکتا ہے اور یوں اکیلا ہونے کی وجہ سے پریشان اور خفگان کے مرض میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے کبھی کبھی یہ دوسروں کے خلاف تشدد کر بیٹھتا ہے یا اپنی بے کنٹرول حرکتوں سے خود موت کے منہ میں چلا جاتا ہے جس کو غلطی سے خودکشی سمجھ لیاجاتا ہے۔ وجوہات:۔ پہلے تو ایسے بیمار کے ماں باپ ‘ بالخصوص ماں بیچاری پر الزام آتا تھا اور اکثر اب بھی آ جاتا ہے کہ ماں نے تربیت نہیں کی یا باپ نے لاڈ پیار میں بگاڑ دیا ہے ‘ پھر کبھی استاد یا لیڈی ٹیچر کو اپنے ہیڈ ماسٹر یا ہیڈ مسٹریس سے جھاڑ پڑتی ہے کہ تم اس بچے کو کنٹرول نہیں کرسکتیں۔ لیکن اب معلوم ہوگیا ہے کہ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ یہ دماغ کے بعض حصوں کی نشوونما میں کمزور رہ جانے کی وجہ سے ہوتا ہے کسی حد تک بعض بچوں میں موروثی اثرات دیکھے جاتے ہیں حاملہ عورت کا سگریٹ پینا یا نسوار ڈالنا ‘ جی ہاں عورتوں کا نسوار ڈالنا بھی بچوں میں اس مرض کا باعث ہو سکتا ہے فضائی آلودگی اور بالخصوص آلودہ پانی جن میں مختلف کیمیکلز کی مقدار زیادہ ہوتی ہیں وہ بھی اس کی وجوہات میں شامل ہو سکتی ہیں سر سام ‘ سر کی چوٹ یا مرگی بھی کوئی ایسے اثرات چھوڑ جاتی ہیں کہ یہ علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ آخر الزکر امراض ذہانت کو بھی متاثر کر سکتی ہیں جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ پہلی قسم میں ذہانت بذاتخود بچی رہتی ہے لیکن دوسری حرکات کی وجہ سے اس ذہانت سے بچہ کام نہیں لے سکتا۔ علاج:۔ خوش قسمتی سے ایسی ادویات دستیاب ہیں جو کہ پہلی قسم کے مریضوں میں سے اکثر مریضوں کو تو کافی حد تک نارمل بچوں کی طرح بنا سکتی ہیں مگر دوائی بلوغث تک دینا پڑتی ہے۔ اگرچہ یہ ادویات بہت سستی تو نہیں مگر حد درجہ مہنگی بھی نہیں ہیں۔