445

بچپن۔ شخصیت کا سنگ بنیاد

بچپن شخصیت کا سنگ بنیاد ہے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور اسے تسلیم کرنے میں کسی کو تامل نہیں ہوگا میں نے پچھلے مضمون میں بچے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ پیدائش کے فوراً بعد اس کا ماں کے دودھ کو چوس لینا ایک خوش آئند علامت ہے اس طرح ماں سے بچے کاپیدا ہونے کے بعد پہلا تعلق سینے کے ساتھ شروع ہوتا ہے یہ تعلق ‘ یہ قربت ‘ بچے کو ایک طرف جذباتی تحفظ مہیا کرتی ہے تو دوسری طرف غذائیت ۔ یہ بچوں کی نشوونما کا بہترین سرچشمہ ہے دودھ کی اہمیت سائنسی طور پر اتنی مسلمہ ہو چکی ہے کہ عالمی ادارہ صحت (World Health Organization) نے سال میں ایک دن کو ماں کے دودھ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے مخصوص کردیا ہے میں پچاس سال سے ڈاکٹر ہوں لیکن چند ہی سال پہلے اس مضمون کو پڑھتے ہوئے میں حیرت زدہ ہوگیا کہ ماں کے دودھ کے کیمیائی اور غذائی اجزاء ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ بچے کی ضرورت کے مطابق بدلتے رہتے ہیں اللہ اللہ۔ یہ مجھے معلوم نہ تھا۔ سینے کے دودھ کے بعد ماں کی گود بچے کی دوسری جائے پناہ ہے شروع میں بچہ سوتا ہے یا ماں کی گود میں دودھ پیتا ہے سائنس نے یہ ثابت کر دیا کہ سینے پر پلنے والے بچے کا ماں سے جذباتی رشتہ بہت مستحکم ہوتا ہے ماں کادودھ پینے والے بچے کافی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں کیونکہ دودھ میں مختلف بیماریوں کے لئے قدرتی طور پر Anti-bodies موجود ہوتے ہیں بچہ جب ماں کی گود میں ہو تو ماں کو بہت جلد بچے کی نشوونما یا صحت کے بارے میں ہر موافق یا نا موافق Development کا فوراً پتہ چل جاتا ہے اور بروقت تدارک ہو سکتا ہے بچہ کس قدر ‘ کس وقت ماں کے ساتھ Interact کر سکتا ہے یہ بھی آسان ہو جاتا ہے بچے کا دیکھنا ‘ ہنسنا ‘ عمر کے حساب سے گردن پکڑنا ‘ پہچاننا یا کسی چیز کو پکڑنا ‘ بیٹھنا ‘ چلنا ‘ سب شامل ہیں یہاں ایک ایسے فیشن جو ہمارے ملک میں یورپ سے داخل ہوگیا ہے کا ذکر ضروری ہے کہ شیر خوار بچے کو علیحدہ کمرے میں لٹایا جائے اس طرح بچے اپنے جھولے میں بغیر کسی بیماری کے مردہ پائے جاتے تھے جس کو Sudden Cot-death کہا گیا۔ شاید یہ وہ مائیں کرتی ہیں جو کہ بچے کو بوتل کا دودھ دیتی ہیں۔ ماں کے بعد باپ کا نمبر آتا ہے اگرچہ اس کی مصروفیات کی وجہ سے جو کہ زیادہ وقت گھر سے باہر ہوتی ہیں‘ بچے اور باپ میں وہ قربت پیدا نہیں ہوتی جو ماں کا حصہ ہے لیکن باپ کی اہمیت سے کبھی انکار نہیں کیا جاسکتا خاص کر جب بچہ بلوغت کی عمر کو پہنچ جائے چونکہ باپ کو بچے کیلئے ایک نمونہ بننا پڑتا ہے اس کا ذکر بلوغت کے باب میں زیادہ تفصیل کے ساتھ کیا جائے گا۔ گھر میں ماں باپ کے علاوہ اکثر و بیشتر دیگر افراد بھی ہوتے ہیں ہمارے روایتی گھرانوں میں دادا ‘ دادی ‘ نانا ‘ نانی ‘ بہن ‘ بھائی حتیٰ کہ چچا ‘ ماموں ‘ خالائیں ‘ پھوپھیاں خاندان کا ہر فرد بچے کی شخصیت کی تشکیل میں کچھ نہ کچھ کردار ادا کرتا ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ہم اپنے ملک کے گھرانوں کی مختلف قسموں پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں ایک قسم گھر کی وہ ہے جس میں صرف میاں بیوی اوربچے رہتے ہیں شہری علاقوں اور خاص کر ملازمت پیشہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد ایسے گھروں میں رہتے ہیں۔ دوسری قسم کا گھر وہ ہے جہاں ماں ‘ باپ کے علاوہ بچے کے دادا ‘ دادی اور چند ان بیا ہے چچا یا پھوپھی رہتے ہیں تیسرا گھر جس کو مشترکہ خاندان Joint Family System کہتے ہیں وہ ہے جس میں ماں باپ کے علاوہ سارے بھائی ‘ شادی شدہ غیر شادی شدہ ان بیاہی پھوپھیاں رہتی ہوں ہماری دیہی علاقوں کی اکثریت ایسے گھروں میں رہتی ہے۔ میرے خیال میں دوسری قسم کا گھرانہ ان تینوں قسم کے گھرانوں سے بہتر ہوتا ہے تیسری قسم کا گھرانہ اکثر پرہجوم ہوتا ہے‘ عورتوں کی آپس میں کھلا کھلا چپقلش بچے کے ذہن پر بہت برا اثر ڈالتی ہے غیر ملکوں کے سامنے ہم مشترکہ خاندان کی صفات میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں ایک دفعہ ایک امریکی سوشیالوجسٹ نے ازراہ اخلاق ہمارے اس نظام کی تعریف کی تو میں نے اسے صاف صاف بتایا کہ ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی۔ درمیانہ راستہ ہمیشہ بہتر ہوتا ہے اس لئے دوسری قسم کا گھرانہ بہتر ہوتا ہے پہلی قسم کا اکیلا گھر جس کو انگریزی میں Nuclear System کہتے ہیں نسبتاً غیر محفوظ ہوتا ہے باپ کی گھر میں غیر حاضری کے دوران عورت کا صرف چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ رہنا امن و امان کے لحاظ سے غیر محفوظ ہوتا ہے گھر کے دیگر کاموں کے ساتھ ساتھ ایک عورت تین چار بچوں کی نگہداشت کرنے سے قاصر ہوتی ہے اس لئے دادا ‘ دادی یا ایک آدھ ان بیاہا چچا یا پھوپھی بھی مددگار ہوتے ہیں۔ گھریلو جھگڑے جس میں ساس ‘ بہو ‘ بھابھی اور نند کا جھگڑا بہت عام ہے یہ ہمارے صدیوں پرانے طرز یا بودوباش کاحصہ لیکن اس کے فوائد اس کی چھوٹی موٹی برائیوں سے زیادہ ہیں۔ ان گھرانوں کو میں انگریزی لفظ میں Extended Family کی بجائے بڑے گھر کا نام دونگا۔ گھریلو جھگڑے اگر زبان و کلام تک رہیں تو قابل برداشت ہیں مگر جہاں تشدد آ جائے تو وہ ظاہر ہے کہ بچے کی نفسیات پر برا اثر اور کبھی کبھی زیادہ دیر پا نا خوشگوار اثر ڈالتا ہے بچے جن کی تقریباً ہمیشہ ہمدردیاں اپنی ماں سے ہوتی ہیں باپ سے تھوڑی بہت عداوت رکھنے لگتے ہیں۔ اب اگلا موضوع بچوں کی باہمی رقابت ہے اوپر نیچے کے بچے آپس میں رقابت ضرور رکھتے ہیں اس لئے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہی رقیب بچہ اس کا کھیل کود کا رفیق بھی ہوتا ہے اور یہ ملا جلا محبت اور نفرت کاکھیل چلتارہتا ہے۔ اس کو Handle کرنے میں ماں باپ کی فراست اور متوازن رویے کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے بڑی غلطیاں جو عام طور پر کی جاتی ہیں ان میں یا تو یہ ہوتا ہے کہ بڑے بچے کو بہت اہمیت ملنے للتی ہے یا سب سے چھوٹے بچے سے سب سے زیادہ معاشرے میں یا بچوں میں یوم تقسیم ہوتی ہے کہ یہ ماں کا بچہ ہے اور باپ کا۔ ہمارے معاشرے میں لڑکی کی پیدائش کو اتنا خوش آئند نہیں سمجھا جاتا لیکن خدا کاشکر ہے کہ اگر بچی پیدا ہو جائے تو اس کی پرورش اچھے طریقے سے کی جاتی ہے اگر بچی کی پرورش میں کوتاہی کی جائے تو اس میں ماں اور باپ دونوں کو قصوروار ٹھہرانا چاہتے کیونکہ ہمیں بچیوں کوکسی احساس کمتری میں مبتلا نہیں کرنا چاہیے آجکل شہروں کی لڑکیاں پڑھائی اور سبق میں لڑکوں کو پیچھے چھوڑے جا رہی ہیں اور یوں اپنا مقام بنا رہی ہیں اس کے علاوہ ایک مشاہدہ ہے کہ جب ماں باپ بوڑھے ہو جاتے ہیں ان کی نگہداشت میں لڑکیاں باوجود اپنی گھریلو مجبوریوں کے لڑکوں کی نسبت زیادہ سرگرم ہوتی ہیں۔ کھیلنا کودنا صرف بچے کا حق ہے بلکہ یہ اس کی شخصیت کو ہما جہت کرنے کے لئے ضروری بھی ہے۔ باپ کو چاہیے کہ وہ لڑکے کی صرف پڑھائی کی پوچھ گچھ نہ کیا کرے اس کی کھیل کود کی دلچسپیوں میں بھی حصہ لیا کرے۔ اس کے علاوہ کم از کم پڑھے لکھے باپ کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی کتابیں اور آج کل کے زمانے کے مطابق انٹرنیٹ پر مفید حصوں کے لطف اندوز ہونے کی عادت ڈالے صرف کمپیوٹر کی تالہ بندی یا جھاڑ جھپٹ کے ساتھ مسئلے حل نہیں ہوتے شادی بیاہ اور مسجد کے علاوہ جہاں مناسب ہو محفل اور مجلس میں لے جانا بھی باپ کا فرض بنتا ہے اس طرح بچے میں خود اعتمادی آتی ہے اور مجلس کے آداب سیکھتا ہے۔ اس مضمون میں ہر باپ کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ لڑکے کے بڑے ہوتے ہی اس سے دوری کی بجائے نزدیکی اختیار کی جائے اس کو ساتھی اور ایک جونیئر دوست کی حیثیت دی جائے ‘ اس سے گپ شپ لگائی جائے‘ بڑے طریقے سے اس کی مشکلات کا اس کے منہ سے بنا جائے اور صبر سے سنا جائے ‘ کہیں اگر جھڑکنے کی ضرورت پڑ جائے تو یہ کام اس کو علیحدہ کمرے میں بلا کر کیا جائے ایسا کرنے سے پہلے اس کی بات پوری طرح سن لی جائے اور اس کو ہر طرح کا یقین دلایا جائے کہ اس کی تحدید کا مطلب ہرگز اس کی بے عزتی یا نا خوش کرنانہیں ہے بلکہ اس کے برعکس آئندہ شرمندگی اور بدنامی سے بچانے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ اگر بچے کو سکول میں چند مشکلات کا سامنا ہو یا پڑھائی میں اس کی کارکردگی آپ کے حسب توقع نہیں تو بڑے ٹھنڈے دل سے اس کی وجہ معلوم کی جائے‘ باپ ہی خود جا کر بڑے ادب اور طریقے سے استاد سے بچے کے متعلق رپورٹ اور استاد کو زیادہ مہربان اور متوجہ ہونے کے لئے مناسب الفاظ میں درخواست کرے۔ گھر سے سکول کے راستے میں بعض اوقات بچیوں کو تو چھوڑیں لڑکوں کو کوئی ناپسندیدہ عناصر پریشان کرتے ہیں ڈراتے دھمکاتے ہیں بہکاتے ہیں بچہ بڑی شش و پنج میں ہوتا ہے کہ وہ اپنی فریاد کس طرح کسی کو پہنچائے۔ یہی سکول میں بھی مسئلہ ہے کہ بعض بڑے قدبت کے طاقتور بچے چھوٹے بچوں کو پریشان اور کبھی کبھی ان سے زیادتی کی کوشش کے بھی مرتکب ہوتے ہیں شاید کچھ قارئین جو نفسیات میں دلچسپی رکھتے ہیں اس سارے مضمون میں سگمنڈ فرائڈ Sigmund Freud کا کوئی ذکر نہ پڑھ کر اعتراض کریں کہ بچپن کی نفسیات اور Sigmund Freud کا ذکر غائب۔ یہ کیا ہے؟ اس کے بارے میں یہ عرض کرونگا کہ Sigmund Freud کی بچوں کی جنسی لذتوں کا ذکر مجھے خود کبھی نہیں بھایا۔ مغرب میں بھی جہاں اس کا مقام بیسویں صدی کی تین بڑی شخصیات میں ہووتا ہے وہاں کے ماہر تفسیات بھی اس کی بچپن کی جنسی تھیوریوں سے متاثر اور متفق نہیں ہیں اور یہ تھیوریاں صرف تھیوریاں ہی ہیں ان کا عملی فائدہ کم از کم اس مضمون میں کوئی جگہ نہیں پا سکتا شعور ‘ تحت الشعور ‘ لا شعور اور Mechanism Mental میں Freud نے نہایت خوبصورتی سے ہمارے ذہنی عمل کی تشریح کی ہے اور بس مغربی ثقافت مغربی ہے اور مشرقی ثقافت مشرقی ہے چاہے دنیا گلوبل ویلج بن جائے مگر یہ فاصلے برقرار رہیں گے۔