326

بچپن سے آگے

پچھلے مضمون میں بچے کی شیر خواری اور اس کی ماں کی گود کی اہمیت کا ذکر ہو چکا ہے ساتھ سرسری طور پر باپ اور دیگر رشتہ داروں جو کہ بچے کے ذہن پر اثرات چھوڑ سکتے ہیں ان کا بھی مختصر سا بیان آ چکا ہے۔ اب ہم وہاں سے شروع ہوتے ہیں جب بچہ بتدریج شیر خواری چھوڑ کر عام خوراک کے ساتھ عادی ہوتا ہے اور باقی کنبے کے ساتھ تین وقت کے کھانے میں شامل ہونے لگتا ہے بچے نے چونکہ ابھی بڑھنا ہوتا ہے اس لئے اس کے لئے اضافی خوراک کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے یہ اضافی خوراک دودھ ‘ دہی یا تھوڑا بہت پھل فروٹ بہت ضروری ہوتا ہے بچہ جب تین چار سال کا ہو جائے تو وہ گھر سے نکل کر کسی بڑے کے ساتھ گلی کوچے میں جاتا ہے‘ پھر محلے ‘ مسجد یا بازار تک جا پہنچاتا ہے بچے کی جستجو کی جبلت اس کو چلنے پھرنے اور سیر کرنے سے مزید بڑھاوا ملتا ہے اور بچہ باہر کی ہر چیز جس میں جانوروں کے علاوہ دکاندار ‘ لوہار ‘ ترکھان ‘ راج و مزدور کو دیکھتا ہے پھر گلی یا یعد میں محلے کی چھوٹی بڑی دکانوں سے سودا لانے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں گھر والوں کو اس پر نظر رکھنی چاہیے کہ وہ حسب توقع باتوں یا ملنے جلنے میں بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کے ساتھ حسب ضرورت تعلق قائم رکھے۔ اس مضمون میں شہر کی عکاسی زیادہ ہو رہی ہے لیکن وہ بچے جو شہر سے باہر گاؤں ‘ پہاڑوں اور ریگستانوں میں پلتے ہیں وہ اپنے ماحول میں نئے نئے قدرتی مظاہر کا مطالعہ کرنے لگتے ہیں مسجد میں جانا ‘ نماز کی ادائیگی ایک اچھا خاصا تجربہ ہوتا ہے اسی طرح اپنے اڑوس پڑوس میں رہنے والے مختلف لوگوں کے متعلق اس کے ذہن میں کچھ اندازے اپنی جگہ بنانے لگتے ہیں اس گلی میں بڑا کون ہے‘ چھوٹا کون ہے امیر کون ہے ‘ غریب کون ہے ‘ با عزت کون ہے اور بے عزت کون۔ گھر سے شروع ہو کر گلی کوچوں میں بھی بچہ جنس کی تقسیم کو سمجھنے لگتا ہے۔ لڑکوں لڑکیوں ‘ مرد عورتوں ‘ بوڑھوں بوڑھیوں کا کس طرح لباس جدا ہوتا ہے ‘ وضع قطع مختلف ہوتی ہے۔ اب مزید تفصیل میں جانے کی بجائے ہم بچے کی تعلیمی ماحول کاذکرکرتے ہیں۔ شہروں میں پانچ چھ سال کا بچہ اور گاؤں میں ذرا بڑی عمر کا بچہ سکول کو جانے لگتا ہے جہاں سکول نہیں ہوتے یا ماں باپ جن کی ایک خاصی تعداد ایسی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سکول کی بجائے مدرسے میں سبق کے لئے بھیجتے ہیں سکول اور مسجد کے اساتذہ کی وضع قطع مختلف ہوتی ہے مختلف سبق پڑھایا جاتا ہے اور بھی کئی لحاظ سے سکول اور مسجد کی دنیا میں بہت فرق ہے دونوں جگہوں کے اساتذہ یعنی وہ سکول کے ہوں یا مسجد کے ہوں بچے کو پڑھاتے ہیں لیکن بد قسمتی سے ہمارے ملک میں تعلیم کا معیار دونوں جگہوں پر پست ہے‘ مار پیٹ دونوں جگہ ہوتی ہے ہاں البتہ ہمارے دینی مدرسوں کے اساتذہ بچوں کے ساتھ زیادہ بے رحمی سے پیش آتے ہیں سکول اور مسجد میں جانے والے بچوں کے علاوہ ایک خاصی تعداد یونہی آوارہ گلیوں کوچوں میں یا گاؤں میں ان پڑھ رہتی ہے ان بچوں کو خراب عادتیں پڑنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ کچھ ماں باپ بہت چھوٹی عمر میں مثال کے طور پر سات ‘ آٹھ سال کی عمر میں بچے کو کسی مستری کے گیراج یا کسی ہوٹل میں تھوڑی سی مزدوری یا صرف تین وقت کے کھانے کے بدلے چھوڑ جاتے ہیں بہت سے بچے کسی درزی کے پاس ‘ کسی ترکھان یا لوہار کے شاگرد جا بنتے ہیں لیکن عام طور پر ان غریب بچوں کی حالت بہت قابل رحم ہوتی ہے اقوام متحدہ کی طرف سے زبانی کلامی جمع خرچ پر بہت ساری حکومتیں بچوں کو مزدوری ‘ مشقت اور زندگی کی ذلالت سے بچانے کی کوششوں کے دعوے کرتی ہیں لیکن حالات ایک بڑی اکثریت کے لئے افسوسناک اور اندوہناک ہوتے ہیں یہ وہ مناظر ہیں جو بچے کی زندگی پر دوررس اثرات مرتب کرتے ہیں‘ اس کے تصور و تخیل کے لئے تازیانہ کا کام کرتے ہیں اور بچپن کے بعد اس تازیانے کی ضرورت ہوتی ہے اپنے گاؤں یا شہر کی محدود دنیا سے نکل کر کم از کم ملک کے دیگر علاقوں کا سیر سپاٹا کرنا چاہیے آپ یقین جانیں کہ ایک تیس چالیس سال کی عمر کا ڈرائیور جس نے زندگی میں پہلی دفعہ اٹک کو پار کیا تھا پنجاب کے ایک گاؤں کی مسجد کے پاس جاکر گاڑی کھڑی کی مسجد سے نمازی نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے تو اس نے حیرانگی سے پوچھا کہ کیا پنجاب میں بھی مسلمان رہتے ہیں اور کیا وہ بھی نماز پڑھتے ہیں حالانکہ باقی لحاظ سے وہ اچھا خاصا ہوشیار تھا ذرا دوسری نوعیت کی ایک مثال ایک خادمہ کی ہے جو ہمارے گھر میں سال ہا سال سے کام کرتی تھی لیکن وہ بار بار بتاتی تھی کہ اس نے پشاور کا صدر نہیں دیکھا ہوا لیکن رمضان کے دنوں میں جب ایک مسجد سے مغرب کی اذان کی آوازآتی تو وہ کہتی کہ آپ روزہ مت کھولنا کہ یہ تو وہابیوں کی آذان ہے۔ مندرجہ بالا دونوں مثالوں سے خدا جانے میرے دل میں کتنی لہریں اٹھتی ہیں کہ ہم میں سے ہزاروں لاکھوں لوگ ہیں جنہوں نے یورپ اور امریکہ تو دیکھ رکھا ہے لیکن بلوچستان کا تو ذکر ہی کیا اندرون سندھ کی بھی ایک جھلک تک نہیں دیکھی ہوگی ہمارے بچے ملک کے مختلف حصوں اور طبقوں سے ناواقف ہیں قومی سطح پر کوئی انتظام نہ کیا گیا کہ ہم پاکستانی ایک دوسرے سے متعارف ہو جائیں۔ دوستیاں بنائیں۔ ایسے کاموں کے لئے گرمی کی چھٹیوں میں بچوں کے لئے خصوصی ٹرینیں چلائی جانی چاہیں تاکہ وہ برائے نام کرایہ پر اپنے دوستوں اور اساتذہ کی معیت میں اپنا ملک دیکھیں اور صرف امریکہ اور برطانیہ کی رٹ نہ لگائیں۔ پاکستان بننے سے پہلے اور بالخصوص اس کے بننے کے بعد قوم تعلیمی لحاظ سے تقسیم در تقسیم کا شکار ہوگئی۔ ایک طرف کچھ سرکاری سکول تھے اور دوسری طرف چند خصوصی ادارے کھلے جو کہ بڑے بڑے زمینداروں ‘ جاگیردار اور مراعت یافتہ لوگوں کے لئے مخصوص تھے۔ ایک طرف ذریعہ تعلیم اردو رہا دوسری طرف انگریزی ہوا اور انگریز کے چلے جانے کے بعد انگریزی کا راج بتدریج پھلتا پھولتا رہا ہے اور آج کل اردو دوسرے درجے کی زبان بن کر رہ گئی ہے یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے یہ ایک بہت بڑی شرمناک ٹریجڈی ہے ہر دانشور ‘ تعلیم کے ماہر نے اس تقسیم در تقسیم کے نقصانات بار بار خلوص یا منافقانہ طور پر گنوائے‘ اپنی تقریروں کا بہتبڑا موضوع بنایا مگر چونکہ پاکستان میں بعض بالائی طبقوں کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ دینی علم ‘ اردو اور انگریزی ایک صف میں نہ سما سکے۔ بد قسمتی سے ہندوستان میں مسلمان جب اقتدار سے محروم ہوئے تو ان کی حیثیت ایک ایسے جہاز کی سی تھی جو بے بادباں اور بے ملاح (Rudderless) کی سی تھی۔ سرسید احمد خان نے انتہائی جدوجہد کے بعد مسلمانوں کو انگریزی اور مغربی طرز تعلیم پر آمادہ کر کے علی گڑھ مدرسہ کی بنیاد ڈالی تو دوسری طرف دینی طبقات نے جو بدقسمتی سے غلط یا صحیح طور پر بظاہر ہندوؤں کے زیادہ قریب نظر آئے انہوں نے دیوبند کے مدرسے کی بنیاد رکھی کیا پاکستان کی تحریک ان دو تعلیمی نظاموں کا معرکہ تھا چاہیے تھا اور بڑی جلدی چاہیے تھا کہ حصول پاکستان کے بعد علی گڑھ اور دیوبند آپس میں یک جاں ہو جاتے اور قوم کو ایک سمت ‘ ایک ادارہ اور جدوجہد کی ایک ہیمنزل کا انتخاب کرنا ہووتا میں اس کا ذکر بچے کی شخصیت کے لئے اتنا اہم سمجھتا ہوں کہ گاؤں کے بچے سے لے کر ‘ قصبے اور بڑے شہروں کے بچے آذپس میں منقسم ہوگئے ‘ ان میں ناچاقی ‘ رقابت اور باہمی نفرت نے انتہا پسندانہ اثرات چھوڑے ہیں گویا ایک قوم تعلیمی معیار کے لحاظ سے کئی قوموں میں بٹ چکی ہے یہ بہت خطرناک صورتحال ہے۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد قوم کو کوئی مسلمہ رہبر و رہنما نہ ملا کچھ دوسرے درجے کے سیاستدان قوم کی قیادت کے لئے صبح آتے ہیں اور رات کو برخاست کر دیئے جاتے ہیں اس میں شروع شروع میں بیوروکریٹ طبقوں نے گھسنا شروع کیا پھر 1958ء آ پہنچا تو فوج جو پہلے در پردہ ملک کی بھاگ دوڑ کھینچ رہی تھی کھل کر سامنے آگئی اس موضوع سے ہر پڑھا لکھا خوب واقف ہے اس لئے میں اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا ایک جرنیل کے بعد دوسرا جرنیل شب خون مارتا ہے اور چونکہ فوج کی بیشتر نفری مغربی پاکستان سے تھی تو اس کا مشرقی پاکستان جو آج کل بنگلہ دیش ہے اپنے آپ کو مغربی پاکستان کی ایک کالونی سمجھنے لگا اور آخر کار نتیجہ 1971ء میں ملک کے دو لخت ہونے میں نکلا حالانکہ یہی فوج جب 1965ء میں ہندوستان کے ہاتھوں شکست سے بچ کرایک فاتح فوج کے روپ میں آئی تو ملکہ ترنم نور جہاں کے گانوں نے ان کی کامیابی پر چار چاند لگا دیئے قوم نے ان کی زبان سے جرنیلوں اور کرنیلوں پر عقیدت کے پھول نچھاور کئے لیکن پھر ستاروں میں روشنی نہ رہی۔ اقتصادی میدان میں ذوالفقار علی بھٹو جیسے لیڈر بھی آئے جن سے قوم کو بہت امیدیں وابستہ تھیں مگر بسا آرزو کہ خاک شد کے مصداق ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری فوجیوں نے یہ موقع غنیمت جان کر اس کی گردن ہی اڑا دی اقتصادی میدان میں غریب ‘ غریب تر اور امیر ‘ امیر تر ہوتا گیا ملک کا اقتصادی ڈھانچہ مضبوط ہو سکا‘ بین الاقوامی سیاست میں ہم امریکہ کے بے دام غلام نظر آئے ہندوستان کا ہندو تقسیم ہند کے زخم کو چاٹتا رہا وہ اقتصادی طور پر آزادی کے وقت سے ہم سے آگے تھا تو پاکستان دشمنی میں اتنا اندھا ہوا کہ ہمیں پتہ نہیں کہ وہ ہم سے بدتر ہے یا بہتر لیکن اس نے پاکستان کو اقتصادی طور پر آگے بڑھنے کی مہلت نہ دی۔ اس ملک ہر بچہ بچپن سے لڑکپن اور نوجوانی کی عمر تک پہنچتے ہوئے ان سب حقیقتوں سے واقف ہے ‘ وہ دل شکستہ ہے اس کی قوم با عزت نہ بنی تو اس کی ذات کیسے با عزت بنتی ‘ ابھی مسیں بھیگی نہیں ہوتیں کہ مزدور امارات اور سعودی عرب کی طرف اور پڑھے لکھے نوجوان برطانیہ اور امریکہ کی طرف ہر جائز اور ناجائز طریقے سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان میں جتنا قحط الرجال اس وقت ہے شاید کبھی بھی نہیں تھا قومی سطح کا رہنما تو دور کی بات ہمارے ملک میں کوئی فلمی ہیرو‘ کوئی دیوقامت مصنف اور عمران خان‘ جہانگیر کے علاوہ کھیل کے میدان میں بھی کوئی اور شخصیتیں نہ ابھریں جن کو بچے اپنا آئیڈیل سمجھ کر ان کی راہ پر چلتے شاعروں میں فیض احمد فیض اور کسی حد تک احمد فراز صاحب پڑھے لکھے تھے اور شاعری کاذوق رکھنے والوں کے لئے مشعل راہ کا کردار ادا کیا لیکن اس کے بعد میدان خالی نظر آتا ہے پانچ سے پندرہ سال کا زمانہ اس لحاظ سے بہت اہم ہوتا ہے کہ ہم اپنے دلوں کے اندر کئی دیوتاؤں کو تراشتے اور پوجتے ہیں عبدالستار ایدھی ایک بے مثال سماجی کارکن ہیں لیکن پتہ نہیں کیوں ہرحکمران ان کے خلاف خوف اور نفرت کا ملا جلا جذبہ طاری رہا اور ایک آئیڈیل کے طور پر ان کو ابھارنے کی بجائے ان کو کمتر کرنے کی کوشش کی گئی۔ اے باد صبا ایں ہما آوردہ نست۔