671

بچپن سے نوجوانی تک‘ مسائل اور مشورے

انسان کی زندگی کو یوں تو کئی طریقوں سے تقسیم کیا جاسکتا ہے لیکن ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم ایک دور پیدائش سے پانچ سال کی عمر تک شمار کرلیں جس میں انسان گوشت کے ایک بے بس لوتھڑے سے ترقی کرتے ہوئے ایک چھوٹا انسان بن جاتا ہے‘ وہی بے بس لوتھڑا ایک متحرک بچہ ہوتا ہے جس نے کھانے‘ پینے‘ پہننے‘ نہانے‘ دھونے‘ بولنے اور نیا سے رابط و تعلق کے ابتدائی سبق حاصل کرلئے ہوتے ہیں۔
دوسرا دور پانچ سال دس یا بارہ سال تک کی عمر کا ہے جس کو ہم لڑکپن کام دورہ کہہ سکتے ہیں‘ یہ دور نسبتاً ٹھہراؤ اور مقابلتاً پر سکون ہوتا ہے۔ قد‘ بت ضرور بڑھتا ہے‘ عقل اور سمجھ میں اضافہ ہوتا ہے‘ سکول‘ کھیل کا میدان‘ مسجد‘ بازار اس کی دنیا کو وسیع تر کردیتے ہیں اور سوائے وقتی خفگان کے لڑکے یا لڑکی کی زندگی بڑی بے فکر اور زندگی سے بھرپور ہوتی ہے‘ مختلف قسم کے کھیل اور مشغلوں میں وقت گزرتا ہے‘ کبھی کبھی باپ غصے ہوگیا یا استادنے پٹائی کردی یا امی نراض ہوگئی یہ بڑے مختصر اور وقتی مسائل ہوتے ہیں۔ رات گئی بات گئی کے مصداق دوسرے دن بچہ پھر تروتازہ ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ماں یا باپ میں سے کوئی مر جائے یا بیماری بچے کو گھیر لے لیکن بحیثیت مجموعی عمر کا یہ حصہ ساری عمر یاد رہتا ہے۔
اب ہم تیسرے عہد کی طرف آتے ہیں‘ دس بارہ سال کے بعد لڑکیاں ذرا پہلے اور لڑکے دو تین سال بعد ایک ہیجان پرور دور میں داخل ہوتے ہیں‘ لڑکیاں اور لڑکے دونوں اپنے جسم میں تبدیلیاں محسوس کرتے ہیں‘ جوانی کی پہلی علامات ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں‘ عورت اور مرد کی تفریق اسی زمانے میں ہوتی ہے‘ نہ صرف جسمانی تبدیلیاں نمودار ہوتی ہیں بلکہ نئے فزیالوجیکل (Physiological) عمل بھی ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ یہی زمانہ ہے جب جذباتی تبدیلیاں بھی محسوس ہوتی ہیں‘ مثال کے طور پر لڑکیوں میں شرم و حیا در آتا ہے‘ چڑیا کی طرح اڑنے اور گھومنے والی لڑکی نہ صرف خود تھوڑی تھوڑی جھجک جاتی ہے بلکہ گھر والے بھی اس پر چھوٹی موٹی پابندیوں کی ابتداء کردیتے ہیں‘ ہمارے معاشرے میں بارہ تیرہ سال کی لڑکی کو بہت حد تک پردے میں رہنے کی تربیت دی جاتی ہے اور گھر سے باہر نکلنے کی وہ پہلی سی آزادی نہیں رہتی۔
جسمانی تبدیلیوں اور سماجی پابندیوں کا یہ سفر بہت حد تک آسان بنایا جاسکتا ہے اگر مائیں‘ بڑی بہنیں‘ چھوٹی خالہ یا پھوپھی بچی کو ذہنی طور پر تیار کریں بلکہ میں تو یہاں تک جاؤں گا کہ سکول میں مس صاحبان بڑے طریقے اور ہمدردی سے اور اپنی مثال پیش کرکے ان کو اعتماد میں لیں اور یقین دلائیں کہ اگر ان کو کوئی پریشانی ہو تو وہ سکول کے وقت میں مس صاحبہ سے یا گھر پر ماں یا بہن سے بلاجھجک بات کریں۔
دوسری طرف لڑکوں میں جوانی کے آثار اور مردانگی کی طرف قدم رکھتے ہوئے جسمانی تبدیلیاں اور فزیالوجیکل تبدیلیاں جن میں نام نہاد شیطانی خواب وغیرہ شامل ہیں بعض لڑکوں کو پریشان یا مضطرب کرسکتے ہیں‘ بہتر ہے کہ لڑکے ادھر ادھر کی سنی سنائی یا جھوٹ سچ کی باتیں مختلف ذرائع سے سنیں‘ بڑا بھائی‘ چھوٹا چچا یا ماموں اس معاملے میں وہی کردار اداکرسکتا ہے جس کی نشاندہی میں نے لڑکیوں کے معاملے میں بہن‘ خالہ یا پھوپھی کے ذمہ کی ہے۔
بعض عطائی‘ نام نہاد حکیم و ڈاکٹر لڑکوں یا نوجوانوں کی ان پریشانیوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور مختلف قسم کی رطوبتیں جو کہ جسم سے خارج ہوتی ہیں ان کو بیماری کا نام دے کر غلط ملط علاج کرکے ان کو اور نقصان پہنچاتے ہیں اور ان کے دل میں ایسے خوف جگہ پالیتے ہیں جن کو بدلنا ایک ماہر ڈاکٹر کے لئے بھی مشکل ہوجاتا ہے‘ بہت افسوس کی بات ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی بعض اخبارات خاص کر اردو اخبارات یا دیواروں پر لکھے ہوئے اشتہار قسم قسم کے نام لے کر بیماریوں کا خوف نوجوانوں کے دلوں میں بٹھاتے ہیں۔
جنسی موضوع ہمیشہ سے شجر ممنوعہ رہا ہے‘ ایک صدی پہلے جب آسٹریا کے مشہور زمانہ ڈاکٹر سگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) نے نفسیات کی بنیاد جنس پر رکھی تو اس زمانے کے یورپ میں بھی بڑا ہنگامہ مچا اور ان کو نہایت پریشان کیا گیا حتیٰ کہ آسٹریا کی میڈیکل رجسٹریشن اتھارٹی نے ان کا نام ڈاکٹروں کی فہرست سے خارج کردیا‘ لیکن فرائڈ نہایت بہادری سے اپنے بنیادی خیالات پر ڈٹے رہے اور آج دنیا کے بڑے بڑے انسانوں کی فہرست بنائی جائے تو چوٹی کے پانچ چھ عظیم انسانوں میں ان کا نام آپ پائیں گے‘ اس کا مطلب یہ نہیں کہ فرائڈ کے نظریات سے اختلاف کرنا کوئی جہالت ہے بلکہ بڑے بڑے نفسیاتی مارہین نے فرائڈ پر کڑی سے کڑی تنقید کی ہے‘ کسی رائے کا مقابلہ علم ہی کی بنیاد پر جواب دینے سے ہوتا ہے‘ بڑے افسوس کی بات ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے فرائڈ کے ساتھ کارل مارکس‘ چارلس ڈارون کی کتابیں پڑھنے‘ رکھنے اور پڑھانے پر پابندی لگارکھی ہے حالانکہ اب سب پر ساری دنیا میں بحث کی جاتی ہے اورنقطہ چیں حضرات دل کھول کر نقطہ چینی کرتے ہیں۔
جنسی تبدیلیوں کے علاوہ تقریباً ہر نوجوان اپنی شناخت‘ اپنی قوم‘ اپنے مذہب اور عقیدے کے متعلق بہت سارے سوالات اپنے دل میں رکھے ہوتا ہے اور کبھی کبھی دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی باتیں کہہ جاتا ہے جو اس کے بڑے اور بزرگوں کو ناگوار گزرتی ہیں‘ بڑوں اور بزرگوں کا یہ رویہ انتہائی غلط ہے۔ جس کے پاس عقل اور دلیل ہے اس کو چاہئے کہ وہ نوجوان لڑکے یا لڑکی کی بات سنے‘ اعتراض کو سمجھیں اور بڑے حوصلے اور تدبر سے اس کو جواب دیں اور اس کوتسلی دیں کہ ایسے سوال ذہن میں آنا کوئی بری بات نہیں۔ تقریباً ہر انسان کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتے ہیں کہ ہم کون ہیں؟ ہم کہاں سے آئے ہیں؟ ہمارا انجام کیا ہے؟ اس دنیا کو پیدا کرنے کا مقصد کیا ہے؟ قسمت اور مقدر کے بارے میں نوجوانوں کے ذہنوں میں جو سوالات پیدا ہوتے ہیں ان کا جواب جھڑکنے یا دھمکانے سے بالکل نہیں ملتا بلکہ ان کو مطالعے کی تربیت دی جائے یا یہ تسلی دی جائے کہ آپ کو خود ہی آنے والے دنوں میں اپنے سوالات کے جوابات ملنا شروع ہوجائیں گے‘ جلدی کی کوئی بات نہیں‘ اوپر میں نے لڑکوں کا ذکر تو کردیا لیکن لڑکیوں کے اس حق کی بھی تائید کرتا ہوں ان کو پسند نا پسند کی تاکید کرتا ہوں کہ ان پر زبردستی فیصلے نہ ٹھونسے جائیں ورنہ ان کی زندگی کڑھن اور گھٹن کا شکار ہوکر رہ جائے گی۔
میری تجویز یہ ہے کہ ہر ہائی سکول اور کالج کی سطح پر لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے اگر کوئی ماہر نفسیات نہ مل سکے تو کوئی اور استاد جس کو نوجوانوں کے مسائل سے واقفیت اور دلچسپی ہو ہفتہ میں ایک دو گھنٹوں کے لئے وہ لڑکوں اور لڑکیوں سے علیحدہ علیحدہ یا گروپ کی شکل میں مشاورتی مجالس منعقد کرے۔ میرے تجربے نے مجھے بتایا ہے کہ بہت سارے نوجوان خاص کر لڑکے اپنے باپ کے رویہ سے بڑے شاکی ہوتے ہیں‘ وہ ان کو ڈکٹیٹر یا جابر یا متلون مزاج قسم کے نام دے کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں‘ اسی طرح گھریلو جھگڑوں کے متعلق بھی نوجوان کڑھتے رہتے ہیں‘ مجھے افسوس سے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کے ہمارے ملک میں اکثریت باپ بننے کا ہنر نہیں جانتے‘ وہ بچوں کے ساتھ حاکمانہ اور تحکمانہ رویہ اختیار کرتے ہیں‘ وہ ان کی پڑھائی‘ کیریئر شادی میں پسند نا پسند کے متعلق بڑی پرانی لکیر کے فقیر نظر آتے ہیں اور اپنے وقت اور زمانے کی مثالیں دے کر اپنا حکم نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجہ خرابی ہوتا ہے‘ نہ صرف لڑکے تعلقات ماں باپ سے بگڑ جاتے ہیں بلکہ بچے کی پڑھائی اور کیریئر پر بھی اس وجہ سے برے اثرات پڑتے ہیں‘ اسکے مقابلے میں پاکستان کی ماؤں کا میں بڑا مداح ہوں۔ وہ بڑی محبت اور جاں نثاری سے اپنے بچوں کو پالتی ہیں اور ان کی دلجوئی کرتی ہیں۔
یہاں میں زبان کے متعلق بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ میڈیکل کالج میں تمام طلباء کو میں یہ نصیحت ہر موقع پر دیا کرتا تھا کہ ہمارے ملک میں کئی زبانیں ہیں‘ صوبہ سرحد کے طالب علم کے لئے خاص کر اگر وہ ڈاکٹر یا وکیل بن رہا ہو یا استاد بن رہا ہو تو تین یا چار زبانیں جاننا ضروری ہیں مثال کے طور پر اکثریت کی زبان یا پشتو ہے یا ہزارہ اور پشاور شہر میں ہندکو ہے۔ اپنی مادری زبان تو ہر ایک کو آتی ہے اس لئے دوسرے علاقوں کی مادری زبان سیکھنا ضروری ہے۔ اور اردو ہماری قومی زبان ہے اور بین الصوبائی رابطہ کا ذریعہ بھی اس لئے اس پر ممکنہ حد تک عبور حاصل کرنا چاہئے‘ ایک لحاظ سے آسان بھی ہے کہ ٹی وی‘ اخبارات اور عام شہروں میں اردو خوب سمجھی اور بولی جاتی ہے‘ اسی طرح انگریزی بین الاقوامی زبان ہے خاص کر پروفیشنل کلاس کے لوگوں کو جو باہر جانے یا اعلیٰ تعلیم کی خواہش رکھتے ہوں ان کو زیادہ سے زیادہ اس زبان میں مہارت رکھنی چاہئے ہمارے بڑے شہروں کے بہت سارے ان پڑھ لوگ بھی اس کے بہت سے الفاظ سے واقف ہں‘ اس کے علاوہ میں نوجوانوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ آپ کو اردویا انگریزی دونوں یا کم از کم ایک زبان میں اچھی طرح بولنا اور لکھنا آنا چاہئے۔
ان کے علاوہ بھی ایسے بہت سارے مسائل ہیں جن کے متعلق ایک نوجوان کی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی ان کی بات سنے‘ ان سے بحث کرے اور اگر ان کو قائل نہیں بھی سکتا تو کم از کم لعن طعن سے گریز کرے۔