1389

افیون کا استعمال

منشیات کا استعمال چند سال پہلے تک پاکستان کا ایک قومی مسئلہ ہونے کا بہت چرچا تھا ۔ 1970 کے عشرے میں امریکیوں نے کہا کہ کیا آپ لوگوں کو پتہ ہے کہ آپ کے لوگ افیون پیتے ہیں، افیون کھاتے ہیں اور چرس پیتے ہیں۔ہماری قوم اور ہماری حکومت اور ہمارے ذہنی ماہرین یوں ہڑ بڑا کے اٹھ بیٹھے جیسے انہیں کسی خوفناک خواب سے جگا دیا گیا ہو۔ امریکی ماہرین کہتے نہ تھکتے تھے کہ آپ کے ملک میں اس کی کاشت بہت زیادہ ہے اور کسی نہ کسی طریقے سے یہ ہمارے ملک تک پہنچتی ہے اور یوں ہمارے معاشرے میں ہر قسم کی خربیاں پیدا کرتی ہے امریکہ کے وفد کے وفد آنے لگے، ماہرین کا تانتا بند گیا اور مقامی ماہرین اور حکومت کے کرتا دھرتا سب کو ایک ہی مسئلہ نظر آنے لگا اور وہ تھا افیون کا استعمال۔ اٹھتے بیٹھتے ، سوتے جاگتے، چلتے پھرتے اسی کا ذکر تھا۔ امریکی ماہرین اپنے ساتھ پاکستان کے معاشرے میں منشیات کی لعنت کو دور کرنے کے نسخے بھی واشنگٹن سے ساتھ لائے۔ ہفتہ دو ہفتے بعد میٹنگز ہونے لگیں دیکھتے ہی دیکھتے محکمہ داخلہ نے یکدم ایک بورڈ کی تشکیل بھی کرڈالی جسکا نام پاکستان نارکاٹکس کنٹرول بورڈ تھا اور اس کے پہلے سربراہ پنجاب کے آئی جی پی مقرر ہوئے لائق فائق انسان تھے۔ منشیات پر ان کا علم تو انسائیکلو پیڈیا کے برابر تھا تقریر کرنے پر آتے تو گھنٹوں سا معین کو محو کردیتے ۔ وفاقی حکومت ہو یا صوبائی حکومت، سائیکاٹری کے ماہرین وہں یا پولیس کے انٹیلی جنس کے افسران، محکمہ زراعت کے سورماہوں یا سوشیالوجی کے ماہرین انہوں نے غیر رسمی طور پر اپنی ٹیم میں بھرتی کرلئے۔ جیسا کہ دوسرے معاملات میں امریکہ کا وطیرہ ہے اس نے اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کے گروہ کے گروہ پاکستان پارسل کرنے شروع کردیئے مقامی ماہرین کو خوش اور راضی رکھنے کے لئے امریکہ کے علاوہ دنیا کے دو چار اور ممالک کا بھی دورہ کرا دیا۔ یہ دورہ اکثر ڈیڑھ دو ماہ پر مشتمل ہوتا تھا۔ سائیکاٹری کے مقامی ماہرین کو اپنے وارڈ اور او ۔پی۔ڈی بھول گئے بس ایک ہی کام تھا کہ وہ امریکیوں کے ہمنوا بن جائیں بلکہ ان سے بھی بڑھ کر یہ ترانہ گانے لگے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی بقا کا راز یہ ہے کہ پاکستان میں افیون کی کاشتکاری ختم کی جائے، نئے قوانین بنائے جائیں، نئے ادارے بنائے جائیں۔
چند ماہ اسی مصروفیت میں غرق رہنے کے بعد بعض ماہرین کو ہوش آیا کہ ، اور بھی دکھ ہیں زمانے میں مچبت کے سوا۔ افیون کے نشے کے علاوہ پاکستانی سائیکاٹری کے اور بھی بہت سارے مسائل ہیں اور بے پناہ مسائل ہیں۔ بعضوں کو جرات ہوگئی کہ وہ آپس میں چپکے چپکے اپنی اس دریافت کا ذکر کرنے لگے۔ ہمت کرکے کسی سائیکاٹرسٹ نے امریکیوں سے پوچھ ہی لیا کہ کیا شراب اور الکحل ہیروئن کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک نہیں ہے؟ ۔ جواباً یہ کہا گیا کہ شراب ہمارے کلچر کا حصہ ہے ہم اس کا استعمال نہیں روک سکتے اور ویسے بھی ہم یہاں نارکاٹکس پر ہی بات کرنے آتے ہیں ہم نے بھی اپنی کتابیں بھی کھولیں، امریکن کتابیں بھی کھولیں، برا ٹینیکا کھولا اور اس سے پتہ چلا کہ امریکہ کے اپنے ہاں ایک کروڑ مستند شرابی ہیں جوکہ الکحلک کہلاتے ہیں۔ جو آدمی چوبیس گھنٹوں میں شراب کے بغیر نہ رہ سکے اس کو الکحلک کہتے ہیں۔ امریکہ کے اپنے اعداد و شمار کے مابق ایک کروڑ الکحلک کے مقابلے میں صرف پینتالیس یا پچاس ہزار کے قریب ہیروئن کے عادی افراد تھے۔ ہیروئن کے متعلق یاد رہے کہ یہ افیون سے نکالا جانے والا ست ہوتا ہے جسے بعض نشئی رگ کے اندر انجکشن لگا کر لطف اندوز ہوتے ہیں اور سگریٹ میں بھر کر بھی استعمال کرت یہیں انہیں دنوں پاکستان کے ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق پر وحی نازل ہوئی کہ افیون خوری اور افیون نوشی گناہ کبیرہ ہے اور انہوں نے ایک مارشل لاءئی حکم نافذ کیا کہ افیون کے استعمال پر پابندی ہے۔
ہمارے ملک میں صدیوں سے آبادی کا ایک چھوٹا سا حصہ جس کا صحیح شمار کزنا مشکل تھا حکومت کے لائسنس یافتہ ٹھیکیداروں کی دکان سے دو تولہ تک افیون ایک ہفت میں خرید سکتے تھے اس افیون خور آبادی میں اکثر و بیشتر بوڑھے یا بیمار تھے جو کسی نہ کسی بیماری یا بہانے سے افیون کا استعمال کرتے۔ ہر افیون خور بڑا پرامن، خاموش اور اپنی عادت کو خفیہ رکھتا تھا اور نہایت امن پسند بلکہ بزدلی کی حد تک امن پسند تھا، ان غریبوں کیلئے قیامت ٹوٹ پڑی کہ افیون ہو یا شراب اس کے عادی کیلئے یکدم پابندی لگانا اور وہ بھی ایک مارشل لاء حکمران کے حکم کے تحت پابندی لگانا موت کے آرڈر سے کم نہیں تھا۔ ان کی چیخ و پکار ڈکٹیٹر کے دربار تک پہنچی اس کے دینی مشیروں نے اس مسئلے کا یہ حل نکالا کہ حالت اضطرار میں افیون کا کچھ حصہ استعمال کیا جاسکتا ہے بشرطے کہ وہ کسی ڈاکٹر سے ایسا تصدیق نامہ لے آئیں کہ وہ حالت مذکور میں ہے۔ افیون خوروں یا افیون نوشوں کا طبقہ انتہائی غریب اور جسمانی طور پر کمزور اور نحیف ہوتا ہے ان کے لئے حکومت کے مقرر کردہ ڈاکٹروں سے سرٹیفیکیٹ لاناا جوئے شیر لانے کے برابر تھا۔ بہرحال چند ہفتوں کے اضطراب اور ہلچل کے بعد سماج دشمن عناصر نے اس کا حل نکال ہی لیا۔
اس سے پہلے میں ہی ذکر کرنا بھول گیا کہ امیر المومنین نے ایک پاکستان کونسل برائے انسداد منشیات بنانے کا حکم دیا تھا جس میں خوش قسمتی سے سائیکاٹرسٹ کی اکثریت تھی۔ ان سب کی متفقہ رائے تھی اور انہوں نے ایک فوری سفارش حکومت کو پیش کرنا تھی جس کا مضمون اور مسودہ تیار ہوگیا تھا کہ افیون پر فوری پابندی سے گریز کیا جائے کیونکہ جن ملکوں میں افیون بند کی گئی وہاں ہیروئن کی پیداوار شروع ہوگئی۔اس کا ہیروئن بنانے والوں کو یہ فائدہ تھا کہ جہاں جتنا نشہ دس کلو افیون میں تھا وہ ایک کلو ہیروئن میں نشے کے برابر تھا۔ حجم کے اعتبار سے دس گناہ کمی آجانے سے سمگلنگ کا کام آسان ہوگیا۔ اور چند ہی دنوں میں قبائلی علاقوں میں جگہ جگہ افیون کو ہیروئن میں تبدیل کرنے کی فیکٹریاں معرض وجود میں آگئیں۔ حالت انگریزی کے اس محاورے کے مصداق ہوگئی کہ کڑاہی سے نکلا آگ میں گرا۔ ان کا طریقہ واردات یہ تھا کہ وہ چند دنوں کے لئے نوجوانوں میں ہیروئن کی پڑیاں مفت تقسیم کرتے تھے اور ان سے کہتے کہ ایک دفعہ مزہ لے کر دیکھوجو اس میں لذت ہے وہ کسی اور میں کہاں؟ اور یوں آہستہ آہستہ وہ ان کے مستقل گاہک بن جاتے۔ ہیروئن فروشوں نے ان قسمت کے مارے نشہ استعمال کرنے والوں سے منہ مانگے دام وصول کرکے ان کو حالت اضطرار سے نجات دلائی لیکن ساتھ ہی ساتھ ایسے سینکڑوں نہیں ہزاروں بلکہ غیر مستنداعداد و شمار کے مطابق لاکھوں نئے ہیروئن نوش مختلف طریقکوں سے ہیروئن کا نشہ کرنے لگے۔ اسمگلروں کے لئے ہیروئن کے پاؤڈر کو سارے ملک میں پھیلانا بائیں ہاتھ کا کام بن گیا۔ نہ صرف یہ بلکہ پاکستان کی بنی ہوئی ہیروئن امر یکہ تک پہنچنے لگی۔ہمارے اکثر قبائلی اسمگلروں کو شروع میں پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ نسبتاً خالص ہیروئن برآمد کررہے ہیں ملاوٹ کا طریقہ انہوں نے بعد میں سیکھا۔ تازہ تازہ خالص ہیروئن جو سفید رنگ کے پاؤڈر کی طرح تھی جب امریکہ پہنچی تو وہاں کے عادی لوگوں نے اتنی ہی مقدار استعمال کرنی شروع کردی جتنی اس سے پہلے کی ہیروئن جوکہ امریکہ میں ملتی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کئی نشئی خالص ہیروئن کے زیادہ اثر سے مرگئے۔ اس راقم نے امریکہ کے اخباروں میں اس عنوان کی خبریں پڑھیں کہ پاکستان کی ہیروئن نے کئی نشئیوں کی جان لے لی۔ پاکستان میں جب ہیروئن فروشوں کو یہ پتہ چلا تو انہوں نے پہلے دو نمبر اور پھر تین نمبر کی ہیروئن بیچنی شروع کردی۔ سفید ہیروئن جوکہ خالص تھی براؤن ہیروئن جس میں پچاس فیصد ملاوٹ تھی اور آخر میں سیاہ ہیروئن جس میں آٹھ یا دس فیصد ہیروئن کا جزو ہوتا تھا بازار میں بکنے لگی اور بیرون ملک سمگل ہونے لگی۔
نفع کی یہ کیفیت تھی کہ ایک روپے کی خالص پاکستانی ہیروئن امریکہ کے ایک ہزار روپے یا اس کے برابر ڈالروں میں تھی۔ منافع کا یہ مارجن کس نے سنا اور دیکھا تھا پیشہ ور سمگلروں نے تو سونا اور چاندی پیدا کرہی لیا عام لوگوں نے بھی جس میں بعض معاشرتی طور پر معزز شمار ہوتے تھے رسک لینا شروع کردیا۔ امریکہ جانے والوں میں کئی لوگوں نے قسمت آزمائی کرنے کے لئے ایک کلو نہیں تو آدھا کلو اپنے سامان میں طرح طرح سے چھپا کر امریکہ پہنچائی۔ ہر سقم کے جرائم پیشہ لوگوں کا ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر ایک نیٹ ورک ہوتا ہے ہیروئن کے سمگلروں کا بین الاقوامی نیٹ ورک بھی دنوں مںی قائم ہوگیا ہیروئن کو س مگل کرنے کے لئے قسمت آزمائی کی ہمت درکار تھی۔ بڑے لوگوں نے بہت دولتیں کمائیں۔ ایک مصدقہ خبر ہے کہ پاکستان کے ڈکٹیٹر ضیاء الحق سرکاری دورے پر جب امریکہ پہنچے تو ان کے جہاز میں اونٹ کے چمڑے سے تیار شدہ کچھ لیمپ بھی تھے۔ ان لیمپوں کے اندروں خانوں میں ہیروئن کا پاؤڈر بھر دیا گیا تھا ان لیمپوں کی تعداد کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے لیکن جہاز کے اترتے ہی امریکہ کے ڈرگ انفور سیمنٹ ایجنسی کے اہلکاروں نے دیگر سامان کی تلاشی کے علاوہ ان کی بھی تلاشی اور مبینہ خانوں میں بھرا ہوا پاؤڈر ہاتھ لگ گیا امریکیوں نے کس سے پوچھ گچھ کی؟ کیا امیرالمومنین کو اس بات کا علم تھا؟ مجھے اس کا علم نہیں۔ یہ معاملہ یہیں ٹھپ ہوگیا۔
1980 ء میں امریکہ میں قیام کے دوران وہاں ایک نارکاٹکس کنٹرول افسر سے میری ملاقات ہوئی۔ اس نے مجھے بتایا کہ امریکہ کا صرف منشیات کو کنٹرول کرنے والی پولیس فورس کا خرچہ بیس بلین ڈالر سالانہ ہے لیکن درآمد ہونے والی ہیروئن میں صرف پانچ یا دس فیصد پکڑی جاتی ہے باقی سارے انتظامات کے باوجود امریکہ میں سمگل ہوجاتی ہے مجھے مطالعاتی دورے میں ایک سابق نشئی سے ملاقات کا موقع ملا جس کو حکومت امریکہ نے ملازم رکھا ہوا تھا اس مصداق کے مطابق کہ چور کو پکڑنے کے لئے چور کی خدمات سے فائدہ اٹھاؤ۔ یہ ملاقات نیویارک کے ٹون ٹاور کی ستاسٹھویں منزل پر نارکاٹکس کے دفتر میں ہوئی جو نائن الیون کے تخریبی حادثے میں منہدم ہوگیا۔ مجھے آج تک یاد ہے کہ وہ شخص ایک ٹانگ سے بری طرح لنگڑا تھا ۔ وہ پہنچتے پہنچتے لیٹ ہوگیا اس سابق نشئی، اور بعد میں پتہ چلا کہ اس نے دو قتل بھی کئے تھے نے انتہائی معذرت کے لہجے میں معافی مانگی کہ وہ تین منٹ لیٹ ہوگیا اور اپنی ٹانگ کو کوس رہا تھا کہ یہ سب کچھ اس نکمہ پن ہے ۔ وہ آتے ہی یوں گھل مل کر باتیں کرنے لگا جیسے سال ہا سال کا واقف ہو اور مجھے نہایت ملائمت کے ساتھ ملامت کرتے ہوئے بولا۔اوہ ڈاکٹر تم کس چکر میں پڑ گئے جاؤ نیویارک کی سیر کرو اس بگ ایپل (Big Apple) کی رنگینیوں کا لطف اٹھاؤ نیویارک کے مقامی لوگ نیو یارک کو بگ ایپل کہتے ہیں جہاں تک منشیات کا تعلق ہے اس نے بلاجھجھک ہوکر بتایا اور امریکن زبان کی موٹی موٹی گالیوں اور امریکی اور پاکستانی حکومت کو نواز کر کہا کہ ان دونوں کی ملی بھگت سے منشیات کا جرم ہو یا کوئی اور جرم ہو یہ حکومتی اہلکاروں کی آشیر باد کے بغیر ممکن نہیں وہ اپنا حصہ لیتے ہیں اور پاکستانی اپنا حصہ لیتے ہیں اور تمہیں ایسے ہی بیوقوف بنارہے ہیں تمہیں پتہ ہے کہ اس ٹاور کو بارہویں منزل سے میں نے چھلانگ لگائی تھی پولیس میرے تعاقب میں تھی اور بھی بہت کچھ کرچکا ہوں دو آدمی میرے ہاتھ سے مارے گئے اور میں اپنی جوانی کے زمانے میں سال کے تین سو پینسٹھ دن چوری کرتا تھا۔ اس سابق نشئی کا یہ کہنا کوئی لاف زنی نہیں تھی۔ درجنوں مریضوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ ہر روز کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ چوری کیا کرتے ہیں تاکہ نشے کے لئے رقم مہیا ہوسکے۔ جو لوگ امریکہ اور یورپ میں گھرم چکے ہیں ان کو معلوم ہے کہ shop lifting کوئی اتنا مشکل جرم نہیں ہے۔

جہاں تک سائنسی معولمات کا تعلق ہے اس دنیا میں انسان واحد جانور ہے جو نشے کا عادی بن سکتا ہے۔ نشہ کرنے کی عادت کتنی پرانی ہے اس کے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن میرا خیال ہے جب سے انسان پیدا ہوا ہے کسی نہ کسی نشے کا سہارا لیتا رہا ہے اس لئے آپ دنیا کے کسی خطے میں چلے جائیں کوئی نہ کوئی چیز منشیات کے طور پر استعمال ہوتیہے انڈوپاک جس کے ساتھآپ بنگلہ دیش، افغانستان اور نیپاک کو بھی شامل کر لیں ان چاروں پانچوں ملکوں میں وہ ادویات یا اشیائے خورد ونوش جو انسان کو نشے کا عادی بناتی ہیں پانچ چھ ہی ہیں جن میں سرفہرست تمباکو نوشی یا تمباکو خوری ہے۔ ہمارے صوبہ سرحد میں نسوار گویا قومی نشان بن چکی ہے کیونکہ جہاں جہاں پٹھان وہاں وہاں نسوار۔ اب غیر پٹھان بھی عادی ہو چکے ہیں اور پاکستان کے باقی حصوں میں بھی اس کا استعمال پھیل رہا ہے عرب امارات اور شاید سعودی عرب میں بھی نسوار کا استعمال عام ہو چکا ہے پنجاب میں حقہ، چلم، بھنگ، پان، سپاری، شراب، سگریٹ اور افیون کا استعمال عام ہے۔ میں منشیات میں سب سے پہلے افیون کا ذکر کرونگا افیون کے متعلق یہ کہنا بڑا مشکل ہے کہ کس ملک میں اس کی ابتدا ہوئی لیکن اتنا معلوم ہے کہ چار پانچ ہزار سال قبل مسیح بابل اور نینوا اور آشوری سلطنت میں اس کا استعمال ہوتا تھا ابھی تازہ تحقیقات سے سوئزر لینڈ اور اس کے ارد گرد کے ممالک میں بھی افیون کے استعمال کی شہادتیں ملی ہیں ماہرین کا اندازہ ہے کہ ان ساری منشیات کی ابتدا بطور ادویات شروع ہوئی اور کچھ روحنیات میں اس کا استعمال عام تھا یہ بہت سارے مذاہب میں خاص کر سادھویا ہندو جو جنگلوں میں رہا کرتے تھے مختلف یودوں کو خشک کرکے اور جلا کر ان کی دھونی لیا کرتے تھے آگے بڑھ کر ان کا استعمال دوا کے طور پر شروع ہو گیا سائنس کی شاخ باٹنی میں افیون کی کئی قسمیں ہیں سومنی فرم سب سے مشہور ورائٹی ہے اس کے اندر مورفین ایک الکلائیڈ ہے جس میں ہر قسم کے درد سے نجات، نیدن اور سرور کی کیفیات پوشیدہ ہیں مثال کے طور پر آج کل دنیا کے ہر ہسپتال اور ہر ڈاکٹر ہارٹ اٹیک میں درد کو کم کرنے کیل ئے اس کا استعمال کرتا ہے ساتھ ہی یہ پریشانی کم کرنے اور سرور لاکر ہارٹ کے مریض کی تشویش کو کم کر دیتی ہے اور یوں ہارٹ کا مریض مرنے سے بچ جاتا ہے مورفین کے بدلے میں کچھ مصنوعی ادویات بھی لیبارٹری میں تیار کی گئی ہیں جو مورفین کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتی ہیں ان میں سب سے مشہور پیتھاڈین (Pethidine) سوئیگان (Sosegon) اور ٹمجیسک (Temgesic) وغیرہ ہیں ان میں کوئی دوا بھی اثر انگزیی کے لحاظ سے مورفین کا مقابلہ نہیں کر سکتی لیکن مورفین کی طرح جلدی ہی بندے کو استعمال کا عادی بنا دیتی ہیں چونکہ یہ سب ادویات بلیک میل میں فروخت ہوتی ہیں تو نشئی دس گنا زیادہ قیمت پر ان کو خریدنے پر مجبو رہوتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ خود ہارٹ کے مریض کے لئے بازار میں اس دوا کو ڈھونڈنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوتا۔ ذاتی طور پر مجھے ایک بڑا تلخ اور افسوسناک واقعہ کبھی نہیں بھولنتا میں اپنے خالہ کے بیٹے کی شادی میں شریک تھا کہ اچانک میری خالہ کو ہارٹ اٹیک ہو گیا اور وہ بھی اس وقت جب بارات دلہن کے گھر ڈولی لینے پہنچی ہوئی تھی اس بارات میں شامل ہونے والے تقریباً تین چار لوگ ایسے تھے جو ہمارے رشتہ دار تھے اور کیمسٹ ، ڈرگسٹ تھے لیکن ان کے پاس بھی مورفین یا اس کے متبادل کوئی دوا نہ مل سکی قصہ مختصر کہ وہ محترمہ شدید درد کی حالت میں وہیں دلہن کیگھر وفات پا گئیں جب میں نے جھنجلا کر دوا فروش صاحبان سے پوچھا کہ آپ اتنی ضروری ادودیات اپنے پاس کیوں نہیں رکھتے انہوں نے جواب دیا کہ یہ صرف بلیک مارکیٹ میں ملتی ہیں اگر ہم رکھیں تو ہمیں ایک انجکشن کا حساب رکھنے کے لئے ایک رجسٹر رکھنا پڑتا ہے محکمہ صحت کے ڈرگز انسپکٹر آکر حساب کتاب کے نام پر تنگ کرتے ہیں رشوت مانگتے ہیں اس لئے ہم نے ایسی دوائین رکھنی ہی چھوڑ دی ہیں جن میں حساب کتاب کے چکر ہوں یہ کہانی ایک کہانی نہیں ہے تقریباً ہر مستحق مریض ضرورت کے وقت اس دوائی سے محروم رہتا ہے ہسپتال کے سٹور میں رکھی ہوئی ایسی دوائیں تھوک کے حساب سے چوری ہو جاتی ہیں جس میں کمپاؤنڈر، ن رس کو تو چھوڑیں ڈاکٹر بھی شریک ہوتے ہیں اور مریضوں کو ڈسٹل واٹر کا انجکشن لگا کر ٹرخا دیتے ہیں۔ 
ڈاکٹروں اور طبیبوں کی حماقت کا ذکر کرنا خالی ازدلچسپی نہ ہوگا انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ جب افیونی کو افیون نہ ملے تو پیٹ کے پیچ یا کڑل (cramps) اور ساتھ ہی دست اور پیچس نمایں تکلیف ہو جاتی ہے تو ان کا خیال تھا کہ افیون کا نشئی بننے میں معدہ اور ہاضمے کا نظام ذمہ دار ہوت اہے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے مورفین کو جوافیون کا ’’ست‘‘ ہے علیحدہ کیا اور اس کے ٹیکے بنا کر مریض کو لگانا شروع کئے مورفین کا لفظ مورفیس کے نام سے موصوم ہے جو کہ یونان کی دیومالا (mythology) میں نیند اور کابوں کے دیوتا کو کہا جاتا ہے مورفین استعمال کرنے والون خو بڑے پیار اور دل لبھانے والے خواب آتے ہیں۔ پرانے زمانے میں افیون کو تقریباً ہر بیمار میں آزمایا گیا۔ یہ کہنا پڑے گا کہ انسان کی بڑی بڑی بیماریوں میں افیون کم از کم وقتی فائدہ پہنچاتی ہے غم، افسوس، ڈپریشن، پٹ کا درد، کھانسی، جوڑوں کا درد، جنسی کمزوری اور جانے کیا کیا؟ بعض ڈاکٹر درد کو کنٹرول کرنے کی، سکون اور نیند لانے کی وجہ سے ایفون کو خدا کی بھیجی ہوئی نعمت کہتے تھے۔ تاہم افیون بدترین قسم کی قبض بھی پیدا کرتی ہے مریض کو سردی یا ٹھنڈ زیادہ لگتی ہے اور افیون کا عادی مہینوں نہ نہانے کے لئے مشہور ہوتا ہے اور یوں گندے جسم کے ساتھ جلدی بیماریوں کا مریض بن جاتا ہے کہا جاتا ہے کہ شہنشاہ بابر جب کسی نئی مہم پر روانہ ہوتا تو چہار عرق استعمال کرتا تھا اس میں تین ادویات کے نام تو مجھے یاد ہیں یعنی شراب، چرس اور افیون یا بھنگ چوتھے جزو کا نام یاد نہیں آرہا۔ کہا جاتا ہے کہ نپولین کی فوج کو افیون کی کچھ مقدار روزانہ تقسیم کی جاتی تھی تاکہ زخموں یا تھکاوٹ سے چکناچور سپاہیوں کو آرام کے وقت گہری نیند آسکے۔ محمد بن قاسم کے متعلق جھوٹ یا سچ یہ سنا ہے کہ جب وہ سندھ پر حملے کی تیاری کر رہے تھے تو انہوں نے اپنی فوجوں کو جنگ میں صحیح رکھنے کے لئے ہندوستان کی بڑی بڑی بیماریوں کے متعلق معلومات حاصل کیں ان کو بتایا گیا کہ ہندوستان میں دست وپیچس غیر ملکیوں کی موت کا باعث بنتی ہیں اور یہ کہ افیون دست وپیچس میں بڑی شافی ہے۔ اس لئے بعض دل جلوں نے محمد بن قاسم پر الزام لگا دیا کہ وہ انڈوپاک میں افیون لانے والا پہلا شخص تھا حالانکہ مزید تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ہندوستان کے دوسرے علاقوں مثلاً بہار، اڑیسہ اور بنگال میں محمد بن قاسم کی آمد سے پہلے ایفون کا استعمال عام تھا اسی طرح برطانیہ کے مشہور زمانہ وزیر اعظم بینجامین ڈسٹرائیلی پارلیمنٹ میں تقریر کرنے سے پہلے شراب میں تھوڑی سی افیون حل کرکے پیتے اور کہا کرتے تھے کہ یہ میرے اعصاب کو بڑا پرسکون رکھتی ہے ۔ برطانیہ کے ایک بڑے لارڈ،لارڈ کونسی (Quincy) نے اپنی سوانح حیات جس کا عنوان Confessions of an Opium Eater ہے میں خوب ایمانداری سے افیون کے شروع کے فوائد اور بعد میں اس کے نقائص اور خطرات کابھی بڑے دلچسپ پیرائے میں بیان کیا ہے۔ 
ان منشیات کا مزا چند روزہ ہوتا ہے پھر ہرگزرتے دن کے ساتھ افیون ہو یا مورفین اس کی مقدر بڑھانی پڑتی ہے یہ نشے کا بنیادی نقص ہے اس کی عادت تباہ کن ہوتی ہے افیون، مورفین یا ان کے متبادل دوائیں استعمال کرنے والا جلد ہی غربت کی چکی میں پسنے لگتا ہے کچھ مدت بعد ڈاکٹروں کو یہ پتہ لگا کہ انسان افیون کی طرح موررفین کا بھی محتاج ہو جاتا ہے اور اس کے بغیر بھی وہ ساری تکلیفیں پیدا ہوتی ہیں جو اب تک افیون کے ذمہ لگائی جاتی تھیں۔ لیبارٹری کا سائنسدان کب نچلا بیٹھتا ہے اس نے مورفین سے ایک اور مرکب پیدا کیا اس کے استعمال سے لوگ مورفین کے نشے سے چھوٹ گئے اس لئے انہوں نے موفین کے اس ست کو ہیروئن کا خطاب دیا کہ جو دوا مورفین سے نجات دلا سکتی ہے اس کو ہیروئن کہنا حق بنتا ہے ڈاکٹر اس مغالطے میں کچھ ہی مدت مبتلا رہے پھر پتہ چلا کہ ہیروئن بدترین منشیات کی ماں ہے ۔ چلتے چلتے یہ بھی بتاتا چلوں کہ یورپ کے قانون میں رعایت دی گئی ہے کہ کینسر کے مریض جوکہ انتہائی درد میں مبتلا ہوتے ہیں ان کی تکلیف کو کم کرنے کے لے ہیروئن استعمال کر سکتے ہیں اس کے مقابلے میں شراب جس کو صحیح طور پر ام الخبائث کہا گیا ہے ایسا نشہ ہے جو انسان کے بتہ سارے حصوں کو نقصان پہنچاتا ہے جس جن میں جگر اور دماغ خاص طور پر قابل ذکر ہیں دل ہو یا دماغ معدے اور انتڑیوں کا نقصان ہو تو کچھ دنوں کے لئے فائدہ پہنچانے کے بعد دوائی کی مقدر بڑھانی پڑتی ہے۔ 
انڈوپاک کے علاوہ دوسرا ملک جو افیون کی وجہ سے بدنام اور برباد ہوا وہ چین تھا لیکن پتہ نہیں یہ انگریزوں کا پروپیگنڈا تھا یا حقیقت وہ چین کی افیون کو کمتر مشہور کرنے میں کامیاب ہو گئے اور زوری زبردستی چین میں ہندوستان میں گائی جانے والی افیون کی سمگلنگ کرتے تھے چین اس وقت ایک کمزور ملک تھا جو خانہ جنگی اور غربت کے ہاتھوں برطانیہ جیسے ملک کا سامنا نہیں کر سکتا تھا اخلاق اور انصاف کے علمبردار دنیا کی سب سے بڑی سلطنت برطانیہ نے چین کی طرف سے افیون کی درآمد پر مزاحمت کے خلاف دو جنگیں مسلط کیں ان کو تاریخ کی کتابوں میں افیون کی جنگوں سے یاد کیا جاتا ہے پہلی جنگ ۱۸۳۹ میں ہوئی جس میں نہ صرف چین کو شکست ہوئی بلکہ برطانیہ نے ہانگ کانگ پر بھی قبضہ کر لیا۔ دوسری جنگ ۱۸۵۶ میں ہوئی جس کے بعد چین نے مزاحمت ترک کر دی اور چین افیون خوروں کا ملک بن گیا اور اس کی قسمت میں شکست، ذلت اور ہزیمت لکھی گئی اس سے پہلے جب تک چین میں دم خم تھا چین والے بڑی قیمتی قیمت چیزیں برآمد کرتے قیمت کے لحاظ سے صرف چاندی کی برآمد یورپ کی ساری بھیجی ہوئی اشیاء پر حاوی تھی مگر کسی کو اپنے ملک میں کوئی چیز درآدم کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے حتیٰ کہ کوئی غیر ملکی جہاز چین کی بندرگاہ کے نزدیک سے بھی نہیں گزر سکتاتھا۔
ایک دلچسپ حقیقت ترکی کے متعلق بھی بیان کر رہا ہوں چند عشرے پہلے تک ترکی میں افیون کی کاشت بڑے پیمانے پر ہوتی تھی لیکن ایک بات جو افیون کے ماہرین کیلئے معمہ تھی کہ ترک لوگ افیون کے عادی نہیں بنتے تھے۔ ڈھونڈ دھونڈ کر چند ماہرین نے یہ اندازہ لگایا کہ ترک مائیں اپنے بچوں کو چھوٹی عمرمیں ہی افیون کے کھیوں میں لے جاتیں جہاں افیون کی بو سے ان کے بچوں کا دل خراب ہوتا اور وہ قے کرنے لگتے اور یوں وہ ساری عمر افیون کے نشے سے بچ جاتے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ مگرب والوں نے پاکستان، ایران اور ترکی تین ملکوں کو ہلال افیون کا خطاب دیا تھا۔ ۱۹۷۰ کے عشرے میں پاکستان میں افیون کی کاشت کی مقدار صرف ڈھائی سو میٹرک ٹن تھی لیکن بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی مانگ بڑھنے سے ہمارے کاشتکاورں نے بھی اس کی کاشت بڑھا دی۔ یوں آٹھ سوٹن تک پہنچ گئی جس پر امریکہ نے بہت ہلہ گلہ مچایا اور پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ افیون کی کھڑی فصلوں پر زہریلا سپرے کرکے اس کے پودے کو تباہ کر دے اور اس کی کاشت کو کلی طور پر ممنوع قرار دیدے کچھ مدت خیر رہی پھر جب روس نے افغانستان پر اور بعد میں امریکہ نے بھی اس ملک پر حملہ کیا تو اسی افیون کو بیچ کر افغان جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیار خریدے جاتے ہیں۔ افغانستان کا ذکر ہو رہا ہے تو طالبان حکومت کا ایک اہم کارنامہ بھی بیان کرتا چلوں جس کو بڑے سے بڑا طالبان دشمن بھی تسلیم کرنے پر آمادہ ہے وہ یہ کہ ملا عمر کے ایک حکم سے سارے افغانستان سے افیون کی کاشت ختم کر دی گئی یلکن طالبان حکومت کے ختم ہوتے ہی امریکہ کا عمل دخل بڑھ گیا اور افغانستان میں افیون کی پیداوار تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اٹھارہ سو میٹرک ٹن ہو چکی ہے اس وقت دنیا کے نوے فیصد افیون افغانستان میں پیدا ہوتی ہے ہندوستان ماضی قریب تک چودہ سو میٹرک ٹن افیون پیدا کرتا تھا مگر اس نے عقلمندی اور ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے افیون کی کاشتکاری کو سرکاری نگرانی میں لے لیا اور پکی ہوئی افیون عالمی ادارہ صحت کے پاس اچھے خاصے مہنگے داموں فروخت کرنا شروع کر دی۔ یہ یاد رہے کہ اسی افیون سے مورفین کی ادویاتی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ ہندوستان کے دیکھا دیکھی اب امریکہ کے اندر بھی سرکاری نگرانی میں افیون کی کاشت ہونے لگی ہے۔
افیون کے بارے میں ایک دلچسپ کہانی پاکستان کے حوالے سے بیان کر رہا ہوں جب برصغیر تقسیم ہوا تو پاکستان کے حصے میں آنے والے پنجاب میں افیون زیادہ پیدا ہوتی تھی ور ہندوستان کو اپنے ہاں درآمد کرنا ڑتی تھی جس سے پاکستان کو تھوڑا بہت زرمبادلہ مل جاتا لیکن پنجاب کے زمیندار نے افیون میں دلچسپی لینا بند کر دی۔ اس وقت سوات کا علاقہ بونیر جہاں کچھ بھی نہیں اگتا ہے اور چونکہ یہ سطح سمندر سے دو سے چار ہزار فٹ کی بلندی پر تھا افیون کی کاشت کے لئے نہایت موزوں تھا حکومت پاکستان نے اس وقت کے بونیر کے کسانوں کو ترغیب دینی شروع کی کہ آپ افیون کاشت کریں تاکہ ملک کو زرمبادلہ اک ایک ذریعہ مہیا ہوسکے افیون کا پودا ذرا بھی محنت طلب نہیں ہے بس ایک دفعہ بودیا جائے تو یہ اپنے آپ بڑھتا اور پکتا رہتا ہے زمانہ بدلنے لگا جب امریکہ میں ہیروئن کا رواج بڑھا تو قانون کی پہلی لاٹھی بونیر والوں کو ماری گئی اور ان کو بتدریج افیون کی کاشت ختم کرنے پر مجبور کیا گیا۔ امریکی اور پاکستانی زرعی ماہرین نے بونیر میں افیون کے بدلے مکتلف قسم کی فصلیں لگانے اور درخت اگانے کی مہم کا آغاز کیا۔ اس مہم میں حکومت یا اقوام متحدہ کی کوششیں کس حد تک کامیاب رہیں مجھے اس کا علم نہیں۔ میں ۱۹۸۵ سے لے کر ۱۹۷۵ تک نارکاٹکس کنٹرول ٹیم کا ایک مستعد ممبر تھا پھر مجھے یوں محسوس ہوا کہ زبانی کلامی تو بہت سے منصوبے بنتے رہے لیکن امریکہ خود فنڈ مہیا کرنے کو تیار نہیں تھا جس سے منشیات کے کنٹرول یا متبادل فصلوں کی کاشت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہیروئن کے مریضوں کے لئے مراکز کے قیام کی ضرورتیں پوری کرنے پر آمادہ نہیں تھا زیادہ تر محفلیں نشستیں گفتن برخاستن پر ختم ہوتی تھیں۔ ۱۹۸۵ میں میں نے پروانشل کوارڈی نیٹر کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا اب مجھے صرف یہ پتہ ہے کہ حال بد سے بدتر ہے بلوچستان اور کراچی میں رگ میں لگانے والی ہیروئن عام ملنے لگی ہے پنجاب اور سرحد کے متعلق میں نے ایسی بات نہیں سنی یا دیکھی۔ رگ میں ہیروئن کا یا کوئی بھی انجکشن لگانے سے خطرناک مرض جس کو ہیپاٹائٹس بی یا سی کہتے ہیں پھیل رہی ہے اور نشئی تو ہیروئن کی ایک سرنج پورا گرپ استعمال کرتا ے کسی ایک کو بھی ہیپاٹائٹس کا مرض ہو تو سب کو لگ جاتا ہے اسی طرح ایڈز کا موذی مرض بھی مشترکہ سرنج کے استعمال کرنے سے تیزی سے پھیل رہا ہے۔
بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے