440

نشہ آور اشیا کا استعمال

میں نے لکھا تھا کہ حکومت پاکستان کی اپنی قائم کردہ منشیات کی کونسل کی یہ زور دار سفارش کہ افیون کی فروخت پر پابندی نہ لگائی جائے کیونکہ جہاں افیون بند کی گئی ہے، وہاں پر ہیروئن نے جنم لیا ہے اور یہ کہ بدقسمتی سے حکومت وقت نے اپنے لوگوں کی نہ سنی اور امریکہ مہاراج کی سنی تو وہی ہوا جسکا ہمیں خطرہ تھا۔ افیون پر پابندی لگتے ہی ہیروئن کے پاؤڈر نے اس کی جگہ لے لی اور چند ہی سالوں میں منشیات کے لحاظ سے یہ ہمارا قومی مسئلہ بن گئی۔ کتنی ہی جوانیاں اس میں برباد ہوگئیں اور ہو رہی ہیں اور حکومت ایسی ہی بے بس نظرآتی ہے جیسے کہ بہت سے دوسرے مسائل کے حل میں۔ اگرچہ چند سال حکومت کے ایوانوں میں کچھ ہلچل تھی، کچھ ارادہ تھا لیکن امریکہ کے کہنے کے مطابق افیون کی کاشت میں بہت حد تک کمی آگئی ہے تو سب کچھ ٹھنڈا پڑ گیا، سب کچھ روٹین بن گیا۔ اب افغانستان دنیا میں سب سے زیادہ افیون پیدا کرنے والا ملک بن چکاہے اور وہاں سے افیونکی سپلائی کا کوئی مسئلہ باقی نہیں اور ہیروئن کی تیاری اور سپلائی میں کوئی کمی نہیںآئی۔
آگے بڑھنے سے پہلے میں یہ بتاتا جاؤں کہ نشہ کیا ہے۔ یہ وقتی سرور ہے جو دو چارگھنٹوں کے بعد ختم ہوجاتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نشے کی مقدار بڑھانی ہے۔ موڈ خراب، دل خراب، بے چینی، گھبراہٹ،پسینے، وجود میں لرزہ، پیٹ خراب، دست و پیچس اور سب سے بدتر یہ کہ لگتاہے کہ اگر ابھی نشہ نہ ملا تو موت۔ بس آئی کہ آئی۔ یہ حالت پھرنشئی سے سارے برے کام کراتی ہے جس میں جھوٹ، چوری، خیرات مانگنا، تشدد کے ذریعے سے لوگوں سے پیسے چھیننا یہاں تک کہ امریکہ جیسے ملک میں بھی نشئی ہیروئن یا کسی اور نشہ کی ایک خوراک کیلئے قتل بھی کر دیتاہے۔ اس لئے امریکہ میں سیر سپاٹے پر جانے والے لوگوں کی نصیحت کی جاتی ہے کہ جیب میں پچاس ساٹھ ڈالر ضرور رکھا کریں کہیں آپکا واسطہ کسی نشئی سے پڑ گیا تو وہ آپ سے کچھ بھی نہ ملنے پر اتنا مایوس اور دیوانہ ہوجاتاہے کہ وہ آپکی جان بھی لے سکتا ہے۔ اللہ کاشکرہے کہ کم از کم صوبہ سرحد تک میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہاں بہت کم اور قلیل لڑکیاں ہوں گی جو نشہ استعمال کرتی ہیں لیکن ساتھ ہی افسوس کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے آنے والی خبریں خراب ہیں۔ وہاں لڑکیوں میں سگریٹ نوشی کے ساتھ چرس استعمال کرنے کی عادت اپنے قدم جما چکی ہے۔یورپ اور امریکہ میں جہاں عورت کو مرد کے ساتھ ہر قسم کی برابری کا جنون ہے وہاں ہر قسم کی منشیات کا استعمال دونوں جنسوں میں عام ہے اور عورت نشے کی عادت کو پوراکرنے کیلئے اپنے جسم فروشی کو ذریعہ بناتی ہے۔
نشہ وبائی مسئلہ تب بنتا ہے جب نشے والی چیز بازار میں چوری چھپے ملتی ہو یا کوئی ساتھی یا دوست اس عادت کا مارا ہوا ہو۔ وہی ترغیب دیتا ہے کہ نشہ ایک بار استعمال کرکے تو دیکھو تمہیں دنیا بدلی ہوئی نظر آئے گی۔ سب غم بھول جائیں گے۔ دنیا تو بدل جاتی ہے لیکن بہت جلد بربادبھی ہونے لگتی ہے۔
جہاں تک منشیات کے دستیاب ہونے کا تعلق ہے اس کی روک تھام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔ مگر جیسا کہ دوسرے جرائم کا حال ہے پولیس یا دیگر ادارے اپنی اس ذمہ داری کو نہ صرف یہ کہ پورا نہیں کرتے بلکہ ہر سطح پر مک مکا والی پالیسی اختیار کرکے پڑیاں بیچنے والے سے لے کر بڑے سے بڑے اسمگلر ان کو خرید لیتے ہیں۔ دوسری ذمہ داری بہت حد تک ماں باپ یا خاندان کی بنتی ہے لیکن مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر باپ اپنا یہ فرض پورا نہیں کرتے۔ ان کا ایک غم تو روزگار ہوتا ہے جس میں وہ حد سے زیادہ مصروف ہوجاتے ہیں یا ان کے دوسرے مشاغل ہوتے ہیں جس میں وہ اولاد کے غم سے لاپرواہ ہوجاتے ہیں۔ بال بچوں کے لئے ہر قسم کی خوراک،پوشاک کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، غم روزگار یا اپنے ذاتی مشاغل میں یوں الجھتے ہیں کہ اولاد کی تربیت جیسا بنیادی اور اہم فریضہ بھول جاتے ہیں۔ آج کل کچھ نہ کچھ تعلیم کاشوق بھی پیدا ہواہے۔ جیسے ہی بچہ بڑا ہونے لگے جوانی کی حدود میں قدم رکھنے لگے باپ، بڑے بھائی یا چچا وغیرہ کافرض ہے کہ بچوں پر رعب داب یا ڈانٹ ڈپٹ اور بے اثر نصیحت کی بجائے دوستانہ تعلق پیدا کئے جائیں۔ ان کی صحت مند دلچسپیوں میں اپنی دلچسپی بھی دکھائیں، ان کے دوستوں پر نظر رکھیں کہ وہ کیسے لڑکے ہیں یا بچہ اپنا وقت کہاں گزارتا ہے۔ اگرباپ مالدار ہے اس کا یہ مطلب ہرگزنہیں کہ وہ سینکڑوں کے حساب سے بچے کو جیب خرچ دینے لگے۔ نہ ماؤں کو یہ اجازت ہونی چاہیے کہ وہ جھوٹ سچ قسم کی ضرورت کے لئے بچوں کو وافر رقم دیں۔
تیسری ذمہ داری معاشرہ کی ہے جس کافرض ہے کہ وہ صحت مندانہ تفریح کے مواقع مہیا کرے۔ سالہا سال سے چیخ وپکار ہے کہ قبضہ گروپ نے تقریباً سارے کھیلنے والے میدانوں پہ قبضہ جمالیا ہے، باغ باغیچے ختم ہوچکے ہیں، فلمی دنیا جو تھوڑی بہت تفریح کا سامان مہیا کرتی تھی بتدریج انحطاط کا شکار ہے۔ یہاں ایک بہت ضروری مسئلہ یادآگیا کہ تمباکو کی کاشت اور سگریٹ کی صنعت سے صوبائی اور وفاقی حکومت کو بھی ٹیکس کی صورت میںآمدنی ہوتی ہے اپنی حکومت سے یہ کہنا چاہئے تو ضرور لیکن حکومت کے باقی جو اعمال ہیں اس سے اس بات کی توقع کم ہے کہ وہ اس کو معمولی سی توجہ بھی دے کہ تمباکو کی کاشت ختم کی جائے۔ یورپ اور امریکہ کی طاقتور حکومتوں نے بھی بظاہر زور لگایا کہ تمباکو اور سگریٹ سازی کو ختم کرسکیں لیکن آجکل کی دنیا میں جہاں کارپوریشنز کا راج ہے وہ حکومت کو کوئی قدم اٹھانے سے ابھی تک باز رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں مجھے ایک بہت دلچسپ مشاہدہ یاد آتا ہے کہ چارسدہ کے نواح میں دو مختلف گاؤں میں مجھے اور میری ٹیم کو جانے کا موقع ملا۔ ایک گاؤؤمیں نشہ کی عادت بہت عام تھی۔ اس گاؤں کا خان خود منشیات کا بادشاہ کہلاتا تھا اور اتفاقاً اس کے ذاتی نام کا مطلب بھی بادشاہ ہی جا نکلتا تھا۔ لیکن دوسرا گاؤں جو کہ اس گاؤں سے صرف پانچ میل کے فاصلے پر تھا اس میں منشیات استعمال کرنے والے نہ ہونے کے برابر تے۔ مزیدمعلومات کرنے پر پتہ چلا کہ اس گاؤں کا خان خود ایک پاکباز اور صوم وصلوٰۃ کا پابند شخص تھا اور منشیات کی لعنت کے حوالے سے سخت رویہ رکھتا تھا۔ میرے ہنے کا مطلب یہ ہے کہ معاشرتی برائیوں کے تدارک کی تمام تر ذمہ داری صرف حکومتی اداروں پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ سول سوسائٹی، گاؤں کے بڑے خان یا شہروں میں محلے کے معززین اپنے گردونواح میں جو کچھ ہو رہا ہے۔ اس سے بے تعلق نہ رہیں تو حالات بہت بہتر ہوسکتے ہیں۔ 
ایک اور طبقہ جس کی طرف میں نشاندہی کرنا ضروری سمجھتا ہوں وہ ہے علماء کا طبقہ۔ جمعے کے دن مولانا صاحب کا وعظ اکثر و بیشتر نماز روزہ تک محدود رہتا ہے وہ معاشرتی مسائل کو سمجھنے کا یا شعور نہیں رکھتے یا ان کو بیان کرنے میں دلچسپی نہیں لیتے۔ میں نے مولانا حضرات کو بہت کم نشے کے خلاف بولتے ہوئے سنا ہے اور اگر سنا ہے تو وہ صرف شراب کی ممانعت کے متعلق تو بات کرتے ہیں لیکن اور کسی منشیات کا ذکر نہیں کرتے۔ قرآن پاک نے منشیات میں صرف شراب کی تخصیص نہیں کی بلکہ ہر اس چیز کا استعمال منع کیا ہے جو ذہنی کیفیت میں خمار‘ سرور یا مصنوعی تیزی اور بیداری کی تاثیر رکھتی ہو سب کی ممانعت ہے۔ مضمون کے کسی اگلے حصے میں عرض کروں گا کہ صرف شراب اور ہیروئن یا چرس ہی اس زمرے میں نہیں آتے بلکہ سگریٹ‘ نسوار یا چلم بھی منشیات ہیں۔ مجھے نہیں پتہ کہ خود مولوی حضرات میں نسوار استعمال کرنے کی عادت کس قدر ہے۔ چونکہ احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان سے یہ سوال ہی نہیں پوچھا جاسکتا لیکن وہ خوب باخبر ہیں کہ ہمارے لوگ خاص کر صوبہ سرحد میں نسوار استعمال کرتے ہیں یا سارے ملک میں سگریٹ نوشی یا چلم نوشی کتنی عام ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ سگریٹ دیگر بدتر منشیات کی بنیاد بنتی ہے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ چونکہ چرس بھی سگریٹ میں ڈال کر پی جاتی ہے اسی طرح شروع شروع میں ہیروئن یا افیون بھی سگریٹ یا چلم میں استعمال کی جاتی ہے۔ اسی طرح دوسری معاشرتی برائیوں‘ جن میں ملاوٹ‘ بلیک مارکیٹنگ‘ ناجائز منافع خوری‘ ذخیرہ اندوزی وغیرہ شامل ہیں‘ پر علمائے کرام کو بات کرتے ہوئے بہت کم سنا گیا ہے۔ بہرحال اس وقت علمائے سو نے ملک کو اور پریشانیوں میں مبتلا کر رکھا ہے وہ خود طاقت کے حصول کے لئے ملک و قوم کی سلامتی کو داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔
یہاں میں ہر سطح کے تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو بھی معاف نہیں کرنا چاہتا کہ ان کے دل و دماغ میں کہیں دور دور تک بچوں کی تربیت کا خیال نہیں گزرتا۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ کلاس کے علاوہ مہینے میں ایک بار ادارے کے سربراہ معاشرتی مسائل پر خود بھی گفتگو کریں‘ مذاکرے کرائیں اور کبھی کبھی متعلقہ ماہرین کو بلا کر لیکچر اور ورکشاپ کا انعقاد کرائیں تاکہ طالب علموں کو متحرک کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ طلباء تنظیموں کا اس شعور کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر صاحبان بھی کسی نہ کسی حد تک غفلت یا بے علمی میں نشے والی ادویات کو بے دریغ اپنے نسخے میں شامل کردیتے ہیں اور کئے جاتے ہیں نوجوان مریضوں کے لئے کسی بھی خواب آور دوا کا لکھنا انتہائی زیادتی ہوسکتی ہ ے۔ اسی طرح درد کو کم کرنے کے لئے صرف ایسی ادویات کو نسخہ میں شامل کیا جائے جن میں نشہ پیدا کرنے کی خاصیت نہ ہو۔
سب سے آخر میں اور درحقیقت سب سے اہم۔ میں میڈیا کے کردار کا ذکر کروں گا۔ چاہے الیکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا ان کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ سیاست کے جنون سے تھوڑا سا وقت فارغ کرکے معاشرتی مسائل کو اپنے مذاکروں اور مباحثوں کا حصہ بنائیں۔ آج کل ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ میڈیا ایک بڑی طاقت بن چکا ہے۔ یہ طاقت ملک و قوم کو تخریب اور تباہی سے بچانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکتی ہے۔