181

نشے کا ’’گیٹ وے ‘‘’’ تمباکو‘‘ کا استعمال

منشیات کے سلسلے مضامین کے حوالے سے میں آج تمباکو پر لکھنے جارہا ہوں شاہد کچھ یا بہت سارے قارئین یہ سمجھتے ہوں چرس ‘ افیون اور ہیروئن جیسی خطرناک منشیات کے مقابلے میں تمباکو کی کیا حیثیت؟ کہ جس پر مضمون لکھا جارہا ہے لیکن اگر آپ صبر اور تحمل کے ساتھ پڑھیں تو آپ کو یقین آجائے گا کہ تمباکو ایک لحاظ سے اپنی جگہ ایک مہلک نشہ ہے بلکہ دوسرے نشوں کیلئے انگریزی محاورہ Gate Wayکے مصداق ایک بنیاد فراہم کرتا ہے اگر تمباکو نہ ہو تو شاید چرس والے سگریٹ میں چرس نہ پئیں اور ہیروئن والے سگریٹ میں ہیروئن نہ پئیں ‘ مدت ( افیون کی تیارہ کردہ ٹکیاں ) بچینے والے چلم میں مدک کی ٹکیاں رکھ کرکش نہ لگائیں ۔ آئیں اب تمباکو کی کہانی پڑھیں۔
جب سپین ‘ پرتگال اور بعد میں دیگر یوپین ممالک بشمول برطانیہ اور فرانس اپنے زعم میں نئی دنیا دریافت کرنے نکلے تو انہوں نے نئی دنیا کے مختلف حصوں پر اپنا قبضہ جمایا ‘ ایک طرف ایشیاء اور افریقہ میں سامراجی طاقتیں آپس میں دست و گریباں ہورہی تھیں تو دوسری طرف مغربی کرہ ارض کو جس کو انہوں نے پہلے پہل ہندوستان سمجھا وہاں پائی جانے والی ہر چیز پر انہوں نے قبضہ جمانا شروع کیا تو اس میں وہاں کی جڑی بوٹیوں کو اٹکھا کرنے میں بھی انہوں نے شرم محسوس نہ کی مقامی آبادی کیس اتھ میل جول کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ تمباکو ایک اچھی دوا ہے وہاں کے مقامی طبیب اس کو کئی بیماریوں کے علاج کیلئے استعمال کرتے تھے تقریباً سب منشیات کا استعمال سب سے پہلے دوا کے طور پر شروع ہوا پھر یہ تفریح اور نشہ ور سرور کیلئے استعمال ہوتے تھے خاص طور پر سکون آور دوا کے طور پر اس کا استعمال بہت مقبول تھا ۔ پرتگال میں فرانس کے سفیر نے تمباکو کا پودا اپنے بادشاہ کے دربار میں شہزادی کیتھرائن کو تحفے کے طور پر بھیجا ۔یہ سولہویں صدی کا وسط تھا یوں یہ پودا یورپ میں متعارف ہوا زیادہ زمانہ نہ گزار تھا کہ اس پودے کا باقاعدہ کاشت ہونے لگا پہلے پہلے تو یہ پودا صرف مغربی کرہ ارض میں ہی پایا جاتا تھا وقت گزرنے کے ساتھ یہ آسٹریلیاں ‘ افریقہ ‘جنوبی بحرالکاہل کے جزیروں میں دریافت ہوا اور یوں بتدریج یہ ساری دنیا میں پھیل گیا کہاں جاتا ہے کہ تمباکو کا پہلا استعمال ہندوستان کے اس وقت کے شہنشاہ اکبر نے کیا ۔ 
تمباکو کا استعمال موجودہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی بالغ آبادی کا ایک تہائی حصہ مختلف شکلوں میں استعمال کرتی ہے جیسے سگریٹ اور حقہ میں پیا بھی جاتا ہے سونگھا بھی جاتا ہے اور ہماری ملک میں نسوار کے طور پر خیبر سے کراچی تک بہت ساری لوگوں کے نچلے ہونٹ سوجھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ شاید دنیا کے کئی لوگ یہ کسی اور طرح بھی استعمال کرتے ہیں زراعت میں جراثیم کش کے طور پر بھی استعمال بھی کیا جاتا ہے نصف کروڑ سے زیادہ لوگ موت کا شکار ہوتے ہیں پچھلے چالیس پچاس سالوں میں خوشحال تعلیم یافتہ مغرب میں اس کا استعمال ڈاکٹروں اور حکومت کی کوششوں سے کم ہوا ہے لیکن غریب دنیا بشمول چین کے ‘ اس کا استعمال بڑھاہے ایک اور دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ جہاں مردوں نے ڈاکٹروں کی بات مان کر اس کا استعمال کم کیا ہے وہاں مغرب کی نوجوان خواتین نے مردوں کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش میں سگریٹ نوشی زیادہ کردی ہے ایک دو نسلیں پہلے مغرب میں کسی عورت کا سرعام سگریٹ پینا بے حیائی شمار ہوتا تھا اب یہی عورت خاص کر نوجوان لڑکیاں سگریٹ کو اپنی ترقی اور آزادی نسواں کے ایک نشان کے طور پر تہراتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
گزشتہ پانچ صدیقوں میں یہ جڑی بوٹی سے ترقی کرکے بہت سارے ملکوں کی زراعت کا اہم جزو بن گیا ہے بڑے پیمانے پر اس کی تجارت ہونے لگی ہے تمباکو کی کتنی قسمیں ہیں کیسے کیسے اگایا جاتا ہے کیسے کیسے پیا جاتا ہے اس پر کئی کتابیں بھی ناکافی ہونگی۔ حقہ ‘چلم ‘ سگریٹ ‘ پائپ اور سگار ۔ صدیوں سے ان گنت محفلیں تمباکو کی وجہ سے آباد وشاداب رہیں ۔ سگار کے ساتھ چرچل صاحب کا نام گرامی ضرور یاد آتا ہے ۔ کیوبا کے ہوا نانامی سگار دنیا میں بہت مقبول ہیں اتنے ہی جتنا کہ کیوبا کے عظیم انقلابی رہنما فیڈرل کاسترو۔ چرچل کا برانڈی اور سگار کا جوڑا بہت مشہور ہوا۔ کتنے شاعروں ‘ ادیبوں ‘ فنکاروں نے سگریٹ سے زیادہ خود کو جلادیا ۔ ڈنگ سیاؤپنگ نے ‘ جن کا تعلق چین کی کمیونسٹ پارٹی سے تھا اورجن کی عمر92سال تھ۔ مرتے دم تک سگریٹ نوشی ترک نہیں کی۔
ب کرتے ہیں ذکر ہندوستان کا ۔ یہ تحفہ ایک سوداگر اپنے ساتھ لایا تھا اور دربار اکبری میں پیش کیا اس کے لئے اس نے چاندی کا حقہ جس کی نڑی سونے کی تھیں خصوصی طور پر بنوایا ۔ کہتے ہیں بادشاہ اکبر نے ایک دو کش لے کر اس کو چھوڑ دیا اور شاید پھر کبھی استعمال نہیں کیا لیکن درباری کہاں پیچھے رہنے والے تھے پھرمشغلہ دربار تک کیوں محدود رہتا یہ نشہ عوام الناس میں بادشاہ کے حوالے سے مقبول ہوگیا لیکن ہر کمال رازوال کے مصداق مغرب میں تمباکو کے استعمال کی فروخت پر اتنی پابندیاں لگیں کہ اب کم ازکم باشعور ملکوں میں اگر آپ نے سگریٹ پینا ہے تو اس کیلئے علیحدہ کمرہ ( جیسے کے ٹائیلیٹ دوسری حاجتوں کو روا رکھنے کیلئے ) مخصوص کیا جاتا ہے تمباکو برہمن کے بلند و بالا درجے سے گر کر شو دربن کے رہ گیا ہے ہم ہر وقت غریب ملکوں کی برائی کرتے رہتے ہیں لیکن تمباکو کے سلسلے میں بھوٹان واحد ملک ہے جہاں تمباکو اتنا ہی حرام ہے جتنی کہ شراب اسلام میں ۔
تمباکو صحت کو بے پناہ نقصان پہنچاتا ہے دل کے امراض خاص کر ہارٹ اٹیک ‘ خون کی نالیوں کا بند ہوجاتا اور دیگر بہت سی بیماریاں تمباکو کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جن میں پھیپھڑے اور سانس کی نالیاں خاص کر ان کا کینسر تمباکو کا مرہون منت ہے ۔ سگریٹ نوشوں میں ٹی بی چار گنا زیادہ پائی جاتی ہے اور فالج بھی ہوجاتا ہے اس کے علاوہ برون کائیٹس اور دیگر بھاری بھر کم ناموں والی کئی بیماریاں انسان کی صحت اور دولت کو بربادت کرتی ہیں جو تمباکو چوستے ہیں جیسے ہمارے ہاں نسوار خو تو ان کو منہ کا کینسر ہوسکتا ہے سگریٹ پینے والوں میں جراثیم کے حملے سے بچنے کی مدافعت بدرجہا کم پائی جاتی ہے حد درجہ سگریٹ نوشی بتدریج جنسی کمزور ی پیدا کرکے انسان کو نامرد کردیتی ہے سگریٹ کے نفسیاتی اثرات میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ نکوٹین کی عادت پیداکرتی ہے چین سموکر(Chain smoker)کسی حال میں بھی سگریٹ کے بغیر نہیں رہ سکتے سگریٹ ملنے میں تھوڑی دیر بھی ہوجائے تو ان کا موڈ خراب اور چڑ چڑا ہوجاتا ہے ۔ لڑائی جھگڑا بھی کوئی زیادہ دور نہیں ہوتا وہ سگریٹ کا کش لگائے بغیر کوئی کام نہیں کرتے اور ٹائیلٹ میں جانے سے پہلے بھی سگریٹ لگاتے ہیں۔
بیسویں صدی کے وسط میں جب تحقیق نے یہ ثابت کیا کہ سگریٹ پینے والوں کا دھواں ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کو جو غیرارادی طور پر اس دھویں کو Inhaleکرلیتے ہیں وہ تقریباً ان ساری بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں جن کا ایک سگریٹ نوش ہوسکتا ہے۔اس کو Passive smokerیا Second hand Smoker کہا جاتا ہے ‘ لوگوں نے سگریٹ نوشوں کے ساتھ بیٹھنا چھوڑ دیا ۔ اب آپکو معلوم ہوگا کہ جہاز ‘ گاڑی یا کسی دفتر میں آپ سگریٹ نہیں پی سکتے ۔ گویاسگریٹ نوشی سے یوں پرہیز کی جانے لگی جیسے کہ چھوت والی بیماری کے انسان سے دوری اختیار کی جاتی ہے ‘ عورتیں چاہیں خود سگریٹ نوشی کریں یا جن کے خاوندگھر میں یا بستر میں ان کی موجودگی میں سگریٹ نوشی کرتے ہیں ان عورتوں کا حمل ضائع ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے سگریٹ کی کمپنی والوں نے ابھی تک ہار نہیں مانی ۔ وہ کروڑوں اربوں روپے خرچ کرکے وکیوں کے ذریعے حکومت کے ہاتھ باندھنے کی کوشش میں مسلسل لگے ہوئے ہیں سگریٹ کمپنیوں کی مجموعی کمائی کا مجھے صحیح اندازہ تو نہیں ہے مگر اتنا جانتا ہوں کہ اگر کھربوں میں نہیں تو اربوں میں ضرور ہوگی۔ اور ان کیلئے وکیوں کو فیس دینا اور مقدمے لڑنا کوئی مشکل بات نہیں ۔ تمباکو کی ساری برائیاں بیان کرنے کے بعد میں یہ کہتا جاؤں طبی تحقیق اس کے بعض فائدوں کی تلاش میں بھی ہے کئی قسم کے کینسر اور مغرب میں بہت عام بیماری جس کو M.Sکہتے ہیں اس میں ڈاکٹروں کی نگرانی میں اگر ریسرچ کرنے والوں کو پکے ثبوت مل گئے تو شاید دوا کے طور پر اس کا استعمال شروع ہوجائے لیکن دوا اور نشے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
قائرین کو اپنی طرف سے معلومات پہنچانے کے بعد میں یہ التماس کرونگا کہ خدارا تمباکو اور سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں اور حکومت کی خدمت میں بھی عرض کرونگا کہ وہ تمباکو پر لگائے ہوئے چند ٹکوں کے ٹیکس کی لالچ سے بلند ہوکر سوچے آخر تمباکو کی تباہ کاریوں سے علاج کا خرچہ بھی ٹیکس دینے والوں کی جیب سے ہی نکلتا ہے اور حکومت کے بجٹ سے بھی خرچ ہوجاتا ہے ۔