593

شراب ۔ ام الخبائث

شراب اگرچہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مصدر ہے ’’شراب ‘‘ اور ’’مشروب‘‘ شربت ‘ شراب وغیرہ اسی شرب کی مختلف صورتیں ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ شراب عربوں کی ایجاد ہے ۔ سرزمین ایشیاء میں کاشت کاری اور شراب سازی بیک زمانہ آج سے دس ہزار سال پہلے وجود میں آئی لیکن شراب شازی سے بھی پہلے انسان نشہ آور جڑی بوٹیوں کا رس اور پودوں اورر دررختوں سے نکالا ہوا مشروب نشے کے طور پر استعمال کرتا تھا قدیم آیا قوم نشے کے طور پر ایک بوٹی کا رس استعمال کرتی تھی اس بوٹی کا نام’’سوم تھا۔ اور اس نشہ آور مشروب کو ’’سوم رس ‘‘ کہتے تھے موجودہ زمانے میں علم نباتات اس بوٹی کو Ephedraکہتا ہے اور دمے کے مریضوں کیلئے Ephedrine hydrochlorideایک دوا تیار کرتا ہے ۔ سوم رس کے علاوہ کھجور کے درخت سے حاصل کیا ہوا دو دھیا مشروب نشے کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے یوپی اور بہار کے لوگ اس دودھیا مشروب کو ’’تاڑی ‘‘ کہتے ہیں اور جنوبی ہند میں یہ ’’سیندھی‘‘ کہلاتا ہے ۔ تاہم جب انسان نے کھیتی باڑی سیکھی تو شراب خانہ سازی بھی وجود میں آئی اور محنت کش انسان نے سرو وکیٹ کی تلاش میں عمل تبخیریا طریقہ خمیر کے ذریعے شراب سازی شروع کی اگر امیر نے پھلوں اور سبزیوں کی تبخیر و خمیر کے ذریعے شراب بنائی تو غریبوں نے اناج اور سستی خواب سے شراب بنائی۔ چنانچہ خمیر اور تبخیر کے بعد تقطیر کا عمل بھی وجود میں آگیا اس لئے شراب کا ایک نام ’’آب مقطر‘‘ یعنی تقطیر شدہ پانی بھی ہے۔مگر ڈاکٹر زبان میں شراب کو الکوحل یا Ethanolکا نام دیا گیا ہے اگرچہ الکوحل بھی اپنی اصل کے لحاظ سے عربی ہے جزیرہ نمائے عرب میں بودوباش رکھنے والے تقریباً تمام قبائل شراب سے گہری رغبت رکھتے تھے اور اہل ایران میں تو شراب ایک مجلسی مشروب تھا اور ہے بلکہ انگور کی شراب ایران کی مشہور بادشاہ جمشید کی ایجاد ہے البتہ ایران میں مجلسی مشروب ہونے کے سبب شاہی مجالس اور عوامی میخانے آباد ہوئے اور شعر و شاعری کے ذریعے شراب کو سماجی عزت و توقیر ملی۔
اہل مغرب میں بھی شراب نوشی کثرت سے موجود رہی ۔تقریباً ہر کھانے میں شراب کو پانی کی جگہ استعمال کرنے کارواج عام ہوا کیونکہ مغرب کے لوگ پانی کو بیماری کا گھر سمجھتے تھے اور شراب کو آب جراثیم کہا جاتا تھا مگر یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا کی ہر قوم نے شراب نوشی کے نقصانات کا بھی انداززہ لگالیا تھا چنانچہ کسی مذہب نے بھی شراب نوشی کی اجازت نہیں دی بلکہ پابندی لگائی ۔ حمورابی وہ پہلا حکمران تھا جس کی ریاست کے قوانین کی تفصیلات آج کی جدید دنیا تک پہنچے ہیں اس نے اور اس کے بعد آنے والے حکمرانوں نے شراب پر پابندیاں لگانے کی کوشش کی مثال کے طور پر اس نے دوران جنگ شراب پر پابندی لگادی کیونکہ اس کو معلوم ہوگیا تھا کہ شراب کے استعمال کے بعد انسان کے اعضاء میں بھی باہمی ربط کا فقدان ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح فوجی کمانڈر پہلے پہل تھوڑی شراب پلا کر جھوٹی جرات پیدا کرکے لڑنے کا حکم دیتے تھے لیکن جلدہی معلوم ہوگیا کہ ایسا کرنے سے شکست کے امکانات فتح کے مقابلے میں بڑھ جاتے ہیں
گرمیوں میں کچی لسی کے گلاس جب ہم چڑھاتے ہیں خاص کر دوپہر کے کھانے کے بعد تو خوب خمار محسوس ہوتا ہے اور کھانے کے بعد ہم میں سے اکثر لوگ قیلولہ کرتے ہیں لیکن اس میں شراب کی فیصد نہایت قلیل ہوتی ہے شاید ایک فیصد سے بھی کم Beer-تین سے پانچ فیصد تک الکوحل رکھتی ہے اور Wineپندرہ سے بیس فیصد کے قریب الکول رکھتی ہے البتہ کشیدکی ہوئی شرابیں جن کو Spiritsکہا جاتا ہے جن میں Vodka,whiskyیاGinشامل ہیں ان میں الکوحل کی مقدار 90فیصد تک ہوتی ہے اور ان کو پانی میں ملائے بغیر پینا مشکل ہوتا ہے شراب کی عام خصوصیات جو عادت اور نشے کا سبب بنتی ہیں وہ یہی سرور ‘ تھکاوٹ میں کمی ‘ گفتگو میں آزادی ہے ‘ سرور کی وجہ سے انسان نہ صرف یہ کہ اپنے غم و قتی طور پر بھول جاتا ہے بلکہ مستقبل کے متعلق کئی منصوبے بنانے لگتا ہے مزاح کی حس تیز ہوجاتی ہے زبان بدزبانی کرنے لگتی ہے اور فحش گوئی تک نوبت جاپہنچتی ہے زیادہ نشہ ہو تو سرور کی جگہ غصہ اورچڑچڑاپن پیدا ہوجاتا ہے اور لڑائی مارکٹائی ‘ گالی گلوچ سب کچھ ہونے لگتا ہے۔
شراب کا ایکسیڈنٹ سے بڑا گہرا تعلق ہے اس لئے تقریباً ہر ملک میں ڈرائیونگ کرنے والے شخص پر شراب پینے کی پابندی ہے اب ایسے ڈاکٹری آلات آگئے ہیں جو ایک دو منٹ میں خون میں الکوحل کی مقدار کا پتہ لگاسکتے ہیں اور اس کے مطابق اس کو جرمانہ کرسکتے ہیں یا معاف کرسکتے ہیں یوپ کے کچھ ملکوں میں جن میں سوئٹزرلینڈ کے متعلق مجھے پتہ ہے کہہ وہاں ایک قطرہ شراب پینے کے بعد ڈرائیور پکڑا جائے تو اس کا لائسنس ساری عمر کیلئے کینسل ہوجاتا ہے چونکہ شراب کی خرابیاں شروع میں ہی ظاہر ہوگئی تھیں اس لئے دنیا کا کوئی بھی معاشرہ ایسا نہیں ہے جس نے کسی نہ کسی قانون کے تحت شراب کے استعمال پر پابندی لگانے والا قانون کامیاب نہ ہوسکا اور الکوحل کے عادی انسانوں کی تعداد ہر جگہ بڑھتی رہی مثال کے طور پر صرف امریکہ میں ایک کروڑ شراب کے عادی افراد ہیں جن کو انگریزی میں Alcoholicکہا جاتا ہے الکوحل اصل میں اس آدمی کو کہتے ہیں جو کہ بارہ یا ہر چوبیس گھنٹے تک شراب کے بغیر بے چین ‘ بے آرام ‘ بدمزاج رہتا ہے اور شراب کی سخت ضرورت محسوس کرنے لگتا ہے اس کے ذہن پر ہر وقت کسی اور مسئلے کی بجائے شراب کی فراہمی اور اس کیلئے پیسے کا مہیا کرنا سوار ہوتا ہے۔ان لوگوں کی گھریلو زندگی بھی بہت حد تک تباہ ہوجاتی ہے نشے میں رہنے کی وجہ سے یہ کاروبار میں غلطیاں یا حماقتیں کرتے ہیں شراب بے حیائی کی طرف بھی لے جاتی ہے انسان ہر قسم کی جنسی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے خطرے میں رہتا ہے عزت اورشہرت کا جنازہ نکل جاتا ہے اچھے سے اچھے امیرخاندان کا فرد اپنے بچوں کیلئے خوراک بھی مہیا کرنے میں ناکام ہوسکتا ہے اور نہ صرف گھر کے اندر بلکہ گھر کے باہر لڑائی جھگڑے عام ہوتے ہیں زندگی میں میرا بہت نزدیک سے واسطہ دو سوڈانیوں سے پڑا ہے ایک میرا استاد اور دوسرا میرا شاگرد تھا میں ان دونوں کی اپنی اپنی حیثیت سے (بطور استاد شاگر) بہت متاثر ہوا ان دونوں میں سے ایک ڈاکر طہٰ احمد باشرر سے میں نے منشیات کے بارے میں بہت کچھ سیکھا ۔ وہ انتہائی عالم ‘ فاضل اور وسیع المشرب انسان تھے اور وہ جنرل عبود جن کو پاکستان کے جنرل ایوب کے ہم مرتبہ سمجھا جاسکتا ہے کی کابینہ میں وزیر صحت بھی رہے تھے اور جب جنرل عبود کی حکومت ختم ہوگئی تو وہ واپس خرطوم یونیورسٹی میں پڑھانے لگے ان کا خاص الخاص شعبہ مہارت منشیات اور پبلک پالیسی تھا۔میں نے ان سے ایک دفعہ پوچھا کہ اسلام میں منشیات کے نشے کیلئے رسول ؐ نے کونسی پالیسی اپنائی تو انہوں نے اپنے بریف کیس سے British Journal of Addictionکی تازہ کاپی نکالی جس میں پہلا مضمون ان کا تھا اور اتفاقاً اس مضمون کا عنوان گویا میرا سوال ہی تھا انہوں نے اس مضمون میں تفصیلاً بتایا تھا کہ قبل ازاسلام عرب دوسری برائیوں کے ساتھ ساتھ شراب کے حد درجہ عادی تھے بعثت کے رسول کریم ؐ سے جب سوال پوچھا گیا کہ آپ کا شراب کے بارے میں کیا خیا ل ہے تو آپ ؐ نے فرمایا اس میں فوائد تھوڑے ہیں اور نقصانات بہت ۔ یہاں ڈاکٹر طہٰ کہتے لگے کہ وہ سچے دل سے مسلمان ہوگئے تھے انہوں نے اشارہ پالیاں کہ شراب زیادہ تر نقصان دہ ہے البتہ چند فوائد جو ہونگے ان کا استعمال کسی بیماری کی حالت میں جائز سمجھا جاسکے گا۔یوں ان اہل ایمان نے رسول کریمؐ سے یہ شکایت کی کہ فلاں فلاں صاحب جوکہ نماز کی امامت کروا رہے تھے وہ نشے میں بدمست تھے اور انہوں نے چند ناشائستہ حرکات کیں اس کے بعد وحی نازل ہوئی یا ایہااالذین اٰمنو لاتقرب الصلوۃ و انتم سکٰریٰ۔(ترجمہ ، اے ایمان والوں مت جاؤ قریب نماز کے جب کہ تم نشے کی حالت میں ہو) اس زمانے کے بعد بہت حد تک مسلمانوں نے شراب نوشی سے علیحدگی اختیار کرلی۔ تیسری اور آخری بات کہ اس کے بعد آخری خطبہ ( حجتہ الوداع) کے موقع پر شراب کا استعمال ممنوع قرار دیدیا گیا ۔ ڈاکٹر طہٰ نے فرمایا کہ اس میں حکمت یہ تھی کہ شراب نوشی معاشرے میں حد درجہ پھیلی ہوئی تھی اور اس کے تدارک کے سلسلے میں بڑی حکمت سے کام لیا گیا اور اس پر پابندی بتدریج لگائی گئی۔
الکوحلزم کا علاج بھی انتہائی مشکل ہوتا ہے کیونکہ سوائے انسان کے پختہ ارادے کے شراب سے جان چھڑانا انتہائی مشکل ہوتا ہے لیکن عام طور پر ایسے آدمی کی قوت ارادی ختم ہوچکی ہوتی ہے اور بہت سارے ڈاکٹر بھی ایسے میضوں کے علاج سے پہلو تہی کرتے ہیں حکومت کے پاس بھی اتنے موانع و وسائل نہیں ہیں کہ اشیاء منشی پر مکمل پابندی لگائی جاسکے چنانچہ اکثر شراب نوش دوسری بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں جن میں جگر اور دل کی بیماریاں پہلے نمبر پر آتی ہیں اور چونکہ شراب کی زیادہ مقدار دماغ کے کئی حصوں کو نقصان پہنچاتی ہے تو انسان کا ذہنی عمل بھی متاثر ہونے لگتا ہے یاداشت بطور خاص خراب ہوجاتی ہے عام صحت بھی گر جاتی ہے کچھ لوگ ایسے ہیں جوکہ Depressionکے مریض ہوتے ہیں اور اپنی Depressionکو دور کرنے کیلئے شراب کا سہارا لیتے ہیں لیکن شراب ڈپریشن کا کوئی علاج نہیں بلکہ کبھی کبھی تو وقتی طور پر بھی یہ ڈپریشن انسان کا موڈ ٹھیک کرنے میں ناکام رہتی ہے شراب نوشوں میں خودکشی کے امکانات عام لوگوں کی نسبت بہت زیادہ ہوتے ہیں چونکہ مغرب میں عورت شراب استعمال کرتی ہے اس لئے حمل کی صورت میں شراب پینے والی عورت کا بچہ مختلف نقائص لے کر پیدا ہوتا ہے جو بذات خود ایک مضمون ہے شرابیوں کی مدد کرنے کیلئے حکومت کے علاوہ عام لوگوں نے اور خود شرابیوں نے کئی مجالس یا گروپ بنا رکھتے ہوتے ہیں جن میں دنیا کی سب سے مشہور ایسوسی ایشن کا نامAlcoholic Anonymousہے۔