1482

عورتوں کے مخصوص امراض

عورت تیری قسمت میں دکھ اور درد ہیں یہ ایک بڑے شاعر کا قول ہے زندگی میں ہم عام صحت مند خواتین کو جب مختلف وقتوں پر مختلف تکالیف میں مبتلا دیکھتے ہیں تو پھر اس قول کی سچائی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے لڑکیوں کی متعدد تعداد جوان ہونے کے بعد ہر مہینے کئی دن سخت درد میں گزارتی ہے یہ تو ہوئی عام خواتین کی بات ۔ لیکن ایک مرض جس کو انگریزی زبان میں Dysmenorrheaکہا جاتا ہے اس میں یہی تکلیف اتنی شدید ہوتی ہے کہ لڑکی اپنے روزمرہ کے معمولات جاری رکھنے کے قابل نہیں رہتی ‘ مختلف لڑکیاں اس درد کی کیفیت مختلف الفاظ میں بیان کرتی ہیں کچھ اسے تیز چھری کی مانند چھبتی ہوئی محسوس کرتی ہیں یا دھک دھک کرتی ہوئی درد محسوس کرتی ہیں کبھی کبھی یہ درد ایک بوجھ کی مانند ہوتی ہے ۔اس دوران موڈ خراب حتیٰ کہ رونا پیٹنا دستور بن جاتا ہے جلن محسوس ہوتی ہے اور ٹانگو میں یوں لگتا ہے جیسے بجلی کی کرنٹ آجارہی ہے یہ تکلیف خون کی آمد سے پہلے بھی اور بعض اوقات بعد میں بھی کئی کئی دونوں تک رہ سکتی ہے گویا کم ازکم ایک ہفتہ لڑکی کیلئے سخت تکلیف دہ ہوتا ہے یہ درد ناف سے نیچے زیادہ شدت کے ساتھ محسوس ہوتا ہے کمر میں بھی درد رہتا ہے بعض لڑکیوں کو سردرد ‘ انتہائی تھکاوٹ اور نڈھالی محسوس ہوتی ہے راتوں کو نیند متاثر ہوتی ہے طالبات کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے بعض ملازمت پیشہ خواتین کی ملاز مت رہ جاتی ہے بعض لڑکیوں میں درد کے ساتھ ساتھ خون عام مقدار سے زیادہ ضائع ہوتا ہے اور اگر ماہ کے ماہ یہ ضیاع ہوتا رہے تو لڑکی پیلی اور خون کی کمی کی مریض بن جاتی ہے جس کو انگریز میں Anemiaکہتے ہیں ایسی خواتین صرف درد کی مریض ہی نہیں رہتیں الٹراساؤنڈ یا دوسرا معائنہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ بچہ دانی کی بناوٹ میں کوئی خرابی ہے یا کوئی چھوٹی موٹی رسولی ہے وغیرہ وغیرہ ۔ اس کیلئے پھر زنانہ امراض کی ماہر سے مشورہ اور علاج کرنا لازمی ہوجاتا ہے عام درد کی گولیاں ‘ وٹامنز یا ہارمونز کی گولیاں کبھی کام کرتی ہیں کبھی نہیں ۔ کئی قسم کی اور دوائیں بھی ایجاد ہوئی ہیں وہ بھی ایک حد تک فائدہ مند ہوسکتی ہے لیکن ہر مہینے ان کا خرچ ماں باپ پر ایک بوجھ بن جاتا ہے السی کا تیل بھی کار آمد ثابت ہوتا ہے کئی مریضوں پر چینی علاج آکو پنکچر یا چائنی ہربل ادویات بھی استعمال کی گئی ہیں اسی طرح نفسیات کی مختلف تدابیر اختیار کی گئی ہیں کبھی مسئلہ حل اور کبھی لاینحل ہتا ہے ۔ سائنس کے فرنٹ سے آخری اطلاعات یہ کہتی ہیں کہ کچھ جاپانی پودے اور کبھی کبھی امرود کے پتے اس میں بہت مفید رہتے ہیں واللہ اعلم بالصواب ۔ شادی کے بعد اور خاص کر بچے کی پیدائش کے بعد اس ماہانہ تکلیف میں کمی آسکتی ہے اور بعض خوش قسمت خواتین مرض سے مکمل چھٹکارا حاصل کرلیتی ہیں چالیس سال کی عمر کے بعد حالات بہت قابل برداشت ہوجاتے ہیں۔
شادی کے بعد کا دور:۔اکثر و بیشتر خواتین کو حمل کے دوران کوئی بڑا مسئلہ پیش نہیں آتا لیکن چند فیصد عورتیں حمل کے ابتدائی دو تین ماہ میں بڑی تکلیف اٹھاتی ہیں خاص کر صبح کے وقت دل خراب ہونا اور قے ہونا اس زمانہ حمل کی خصوصی علامات ہوتی ہیں کبھی کبھی قے انتہائی درج پر پہنچ جاتی ہے اور یہ زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اس لئے کسی ماہر امراض نسواں سے مشورہ انتہائی ضروری ہوتا ہے حمل کے درمیانی تین ماہ نسبتاً آرام و سکون سے گزرتے ہیں آخری تین مہینوں میں پندرہ سے بیس فیصد عورتوں کا ہر مہینے مکمل ڈاکٹر معائنہ جس میں بلڈ پریشر کا چیک کرنا ‘ پیشاب کا معائنہ بہت ضروری ہوتا ہے اگر بلڈ پریشر بڑھ جائے یا پیشاب میں پروٹین نکلنے لگیں تو یہ خطرے کی علامات ہوتی ہیں اس خطرناک بیماری کو pre-eclampsiaکا نام دیا گیا ہے اور بعلڈ پریشر بہت زیادہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ اگر مرگی نما دورے آنے لگیں تو انتہائی خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے اور اس کا بہترین علاج ہسپتال میں داخل ہوکر کیا جاسکتا ہے ورنہ ماں اور بچے کی زندگی کے جانے کا قوی امکان ہوتا ہے ایسی بیماری سے گزرنے والی عورت کیلئے بچے پیدا کرنے بند کردینے چاہئیں کیونکہ آئندہ حمل کے دوران بھی اسی بیماری کے آجانے کا قوی امکان ہوتا ہے ۔ڈلیوری سے فوراً پہلے یا پہلے چالیس دنوں اور بعض ماہرین خطرے کی معیاد چھ ماہ سے بارہ ماہ تک شمار کرتے ہیں اس کا عمومی نامPost- natal Psychosisاستعمال کیا جاتا ہے جس کا مطلب ہے ڈلیوری کے بعد کی جنونی حالت۔ اس جنوبی حالت میں خاصی تعداد ڈپریشن یا شائز و فرینیا یا Maniaسے ملتی جلتی علامات ظاہر ہوتی ہے ۔ ایک اور قسم جوکہ زیادہ خراب مرض ہے اس میں عورت چھوٹے موٹے بخار سمیت یا اس کے بغیر شناتخ اور پہچان میں گڑ بڑ کر جاتی ہے وقت اور گھر کے بندے پہنچاننے میں بھی متاثر ہونے لگتی ہے اس کو غیبی آوازیں اور شکلیں نظر آنے لگتی ہیں راتیں بے حد بے آرامی سے گزرنے لگتی ہے کبھی تو وہ بچے کی پیدائش سے متعلق بھی بے خبرہوجاتی ہے یا کہتی ہے کہ بچہ مرگیاہے یا بچے سے اس کا رویہ جارحانہ ہوتا ہے حتیٰ کہ اس کو مار ڈالنے تک کی نوبت آسکتی ہے اس بیماری کا صحیح علاج ممکن ہے اور اگر ڈاکٹر بجلی کا علاج کس کو ECTکہتے ہیں کا مشورہ دیں تو ضرور کروالینا چاہیے کیونکہ اس سے بیماری بہت جلدی قابو میں آجاتی ہے خوراک ‘ پانی ‘ دودھ زیادہ دینا چاہیے ۔ عورت کی اس بیماری کے دوران بچے کی نگہداشت بڑی محنت طلب ہوتی ہے کیونکہ ماں کا دودھ نہ ملنے سے بچے میں بیماری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اس لئے خواتین خاص کر بڑی بوڑھیاں بہت کام آتی ہے ۔