683

مینوپاز( Menopause)

عورتوں کی ایک اور بیماری جس کو Menopauseکہتے ہیں مینو پازMenopauseکا لفظی مطلب ماہواری کا ختم ہونے کا ہے جب عورت کی ماہواری بارہ مہینے مسلسل نہ آئے تو ڈاکٹری حساب سے اس کی تولیدگی کی مشین قدرتی طور پر ٹھپ ہوچکی ہوتی ہے یہ کسی بیماری کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ قدرتی عمل ہے اور یہ اکثر عورتوں میں 45سے 50سال کے درمیان کسی وقت بھی ہوسکتا ہے اس کو انگریزی میں ’’تبدیلی‘‘ کہتے ہیں اس کے بعد کوئی عورت بچہ پیدا کرنے کے قابل نہیں رہتی ۔ ہمارے ہاں گاؤں کی عورتوں سے جب پوچھا جائے تو ان کی ماہواری آرہی ہے کہ نہیں تو وہ ان لفظوں میں جواب دیتی ہیں کہ اب میری مثال مرد کی سمجھیں ۔ اس تولیدگی کے عمل کے خاتمے کے بعد بعض عورتیں جن کی تعداد تقریباً 10سے 15فیصد ہے ان کو ایسی تکلیف ہوتی ہے جو اگر شدید اختیار کرجائے تو کئی کئی سال عورت کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے اس کو ڈاکٹری اصطلاح میں Meniopausal Syndromeکہتے ہیں اس میں سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ تھوڑ تھوڑی دیر کیلئے جوکہ دس پندرہ منٹ سے آدھا گھٹہ تک ہوسکتی ہے عورتیں گرمائش محسوس کرتی ہیں اور شدید کیسسز میں سینے سے اوپر چہرے تک بھبکھے سے اٹھتے ہیں گرم پسینہ آتا ہے ‘ عورتیں گرمی کے موسم میں بار بار چہرے اور سر پر پانی ڈالتی ہے چھینٹے مارتی ہیں حتیٰ کہ بعض عورتوں کو نہانے بغیر آرام نہیں آتا ‘ چہرے کی رنگت کافی دیر کیلئے سرخ ہوجاتی ہے جسم میں سوئیاں سے چھبتی ہیں اس گرمی کی لہر کے بعد بعض عورتوں کو سردی محسوس ہوتی ہے یہ بھی پانچ دس منٹ یا زیادہ دیر کیلئے ہوسکتی ہے اس گرمی کی لہر یا گرمی کے بعد سردی کی لہر ایک خاص ہارمون کی پیدائش کے کم ہوجانے کی وجہ سے ہوتی ہے۔
مینو پاز کے آنے سے پہلے دو چار پانچ سال ہارمونز میں بتدریج کمی کی وجہ سے عورت کے جسم اور خاص کر حیاتیاتی یا جنسی اعضاء اندر اور باہر سے خشک ہونے لگتے ہیں خارش ہوتی ہے جنسی اعضاء کی چمڑی بلکہ سارے اعضاء کی چمڑی خشک ہونے لگتی ہے کبھی کبھی خون آتا ہے یا پانی بہتا ہے پیشاب پر کنٹرول کمزور ہوجاتا ہے یا پیشاب بار بار آتا ہے کبھی کبھی وہاں زخم اور پیپ کا خطرہ بھی ہوجاتا ہے دوسری بڑی اہم تبدیلی ہڈیوں کا کمزور ہوجا نا ہوتا ہے معمولی سی ٹھوکر سے ہڈی ٹوٹ سکتی ہے کمر اورجوڑوں کا درد کم یا زیادہ اور کبھی کبھی بہت شدید ہوجاتا ہے پستان لٹکنے لگتے ہیں یا اس کے برعس بعض عورتوں کا وزن بہت بڑھا جاتا ہے سینوں کا سائز حد درجہ بڑھا جاتا ہے بڑی بڑی خوبصورت عورتیں بھی بھدی نظر آتی ہے جس سے عورتیں پریشان اور غمزدہ رہنے لگتی ہیں موڈ بگڑا بگڑا سا رہتا ہے غصہ آتا ہے جلدی تھکاوٹ ہوجاتی ہے توجہ اور یاداشت کی اہلیت کم ہونے لگتی ہے نیند کا دورانیہ بھی کم ہوجاتا ہے اور آنکھ بار بار کھل جاتی ہے ساتھ ساتھ ڈپریشن یا گھبراہٹ کے دورے سے پڑتے ہیں اور کبھی کبھی موڈ کی یہ تکلیف خودکشی کے خیالات یا عمل کو جنم دے سکتی ہے اگر صحیح تشخیص ہوجائے تو بناوٹی ہارمونز سے اور ڈپریشن کی دواؤد سے عورت کی تکلیف دہ علامات ڈرامائی طور پر کم ہوجاتی ہے اور عورت آرام کی زندگی بسر کرنے لگتی ہے عمر کے اس حصے میں کیلشیم کی ضرورت بڑھ جاتی ہے اور خورا ک میں دودھ یا دہی کا استعمال بہت اہمیت کا حامت ہوجاتا ہے ۔