694

باہمی تعلقات کی اہمیت

میں نے شروع کے مضامین میں صحت کی تعریف جوکہ اقوام متحدہ کے ابتدائی منشور میں دی گئی تھی اس میں صحت کو جسمانی ذہنی اور سماجی آسودگی یعنی Well beingکا نام دیا گیا ہے ۔دوسری طرف یہ عام سی کہاوت ہے کہ انسان ایک سماجی جانورہے تو میں آج کے مضمون میں ذہن ہی کی دنیا میں انسان اور سماج کے تعلقات کو نفس مضمون بنا رہا ہوں بہت سارے امراض کا ذکر پہلی اقساط میں ہوچکا ہے جس میں گھبراہٹ ‘ پریشانی ‘ گڑبڑ باتیں ‘ شکوک و شبہات ‘ وہم اور وسوسے ‘ یاداشت کی کمزور ‘ موڈ کا اتار چڑھاؤ ‘ انسانی شخصیت کا ٹیڑھا پن اور اس طرح کی اور خرابیاں شامل ہیں 
اگرچہ مندرجہ بالا خرابیوں میں سے کوئی بھی خرابی نمایاں نہ ہو اور نہ دوسرے لوگ اس کو کسی طرح بیماری سمجھتے ہوں لیکن پھر بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو نہ خود اپنے آپ کو بیمار سمجھتے ہیں نہ دوسرے لوگ ان کو بیمار سمجھتے ہیں لیکن سماجی آسودگی اور لوگوں میں قبولیت نہ ہونے کے باعث وہ خود اور ان کی روح افسردہ اور مردہ رہتی ہے چڑ چڑا پن رہتا ہے اور اپنے آپ کو نامقبول محسوس کیا جاتا ہے اس کی بنیادی وجہ انسان کے سماجی تعلقات کی خرابی ہے تو ایک سوال جو ڈاکٹر کو اپنے مریض سے خصوصی طور پر پوچھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ آپ کے تعلقات اپنے قریبی رشتے داروں ‘ دوستوں ‘ ہمسایوں اور دفتر یا دکان کے ساتھیوں کے ساتھ کیسے ہیں۔ اس سوال کا جواب سرسری طور پر نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر اپنے ذہن کے مکتلف گوشوں کو چھان چھٹک کردینا چاہیے ذہنی دنیا میں سماجی خوشی بہت اہمیت رکھتی ہے۔
تعلقات کے حساب سے ظاہر ہے کہ ہم اپنے گھر سے ہی شروع ہوں گے بچپن اور جوانی سے پہلے پہلے سوال میں آپ کے ماں باپ‘ بہن بھائیوں اور دوستوں ساتھیوں کے متعلق پوچھا جاتا ہے جیسا کہ ہر مسلمان کو معلوم ہے کہ اللہ پاک نے تین دفعہ قرآن پاک میں خود اپنی ذات کے بعد جس رشتے کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے وہ ماں ہے رسول کریمؐ کی حدیث کے مطابق جب ان سے پوچھا گیا کہ اللہ کے بعد کس سے زیادہ محب کی جائے تو انہوں نے بار بار پوچھنے پر تین دفعہ ماں کا نام لیا اور چوتھی جگہ پر باپ کا نام لیا‘ تو جس صاحب سے جب یہ سوال پوچھا جائے اس کی بھی پہلی توجہ ماں کے ساتھ تعلق پر جانی چاہیے اگر اس کی ماں اس سے خوش نہیں ہے اس حد تک کہ اگر ماں دوسرے مذہب سے بھی تعلق رکھتی ہو جیسا کہ شروع میں مسلمانوں کی تاریخ میں ہوتا آیا تھا کہ ماں یا باپ کا کوئی اور مذہب ہوتا تھا اور بیٹے یا بیٹی کا کوئی اور مذہب تو بھی سوائے مذہب کے کسی اور طریقے سے ماں اور باپ کے حقوق متاثر نہیں ہوتے اور ان کو ہر حال میں پورا کرنا ہمارا فرض ہے ہاں اگر ماں باپ کا مطالبہ خلاف شریعت ہو ‘ مذہب کو ترک کردینے یا چھوڑ دینے کا مطالبہ ہو تو وہ اور بات ہے ورنہ خوراک‘ پوشاک‘ فرماں برداری‘ عزت اور محبت کے وہ اتنے ہی مستحق ہیں جتنے کہ کوئی مسلمان ماں باپ ورنہ آپ کے دل میں ایک کھٹک ایک چھبن رہے گی جو آپ کو سچی خوشی سے محروم رکھے گی ماں باپ کے علاوہ اساتذہ کی عزت اور ان کا احترام بھی بہت لازمی ہے کیونکہ اساتذہ روحانی ماں باپ کا درجہ رکھتے ہیں اس لئے اساتذہ کے حقوق کا بھی بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔
ماں باپ کے بعد بہن بھائیوں کی باری آتی ہے بچپن میں ضرور چھوٹے بڑے بہن بھائی چھوٹا موٹا لڑتے رہتے ہیں لیکن بلوغت کی عمر پر پہنچنے کے بعد آپ کی ہر کوشش یہ ہو کہ آپ کے بہن بھائی حتیٰ کہ چچازاد‘ ماموں زاد‘ خالہ زاد اور پھوپھی زاد اور اسی طرح ماں باپ کے دوسرے رشتہ دار بھی آپ سے خوش رہیں آپ ان کی عزت کرینگے تو آپ کا دل آپ کی عزت کریگا آپ سے محبت کریگا اور اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی اور نعمت نہیں ہوسکتی‘ جہاں ضرورت پڑے ان سب رشتہ داروں کی کسی نہ کسی حد تک خدمت کی جائے انکی ضرورت پوری کی جائے جو آسانی سے آپ کے بس میں ہوں یہاں پر مناسب ہوگا کہ بتایا جائے کہ زکوۃ کے اولین حق دار آپ کے رشتہ دار اور اقربا ہوتے ہیں ان رشتہ داروں کے بعد آپ کے پڑوسی آپ کی زکوۃ اور آپ کے حسن سلوک کے حقدار ہیں چاہے وہ آپ کہے گھر کے بالکل قریب ہوں یا آپ
کے محلے میں رہتے ہوں ان کا بھی آپ پر حق ہے عیادت اور تعزیت کے موقع پر حاضری لازمی شمار کی جاتی ہے میں نے کسی دینی کتاب میں پڑھا ہے کہ رسول کریمؐ جس طرح بار بار پڑوسیوں کے حقوق پر زور دیتے تھے تو بعض صحابہ کو یہ شک پرا کہ کہیں رسول کریمؐ پڑوسیوں کو ہماری دولت اور جائیداد میں حصہ دار نہ بنادیں‘ آپ سب کو معلوم ہے کہ رسول کریمؐ کی حدیث ہے کہ اگر کسی مسلمان نے خوب پیٹ بھر کے کھانا کھایا اور اس کا پڑوسی یا اس کے بچے رات کو بھوکے سوئے تو اس کی مسلمانی شک میں پڑجاتی ہے۔

باہمی تعلقات کی اہمیت (2) پچھلے کالم میں باہمی تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی تھی آج اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہیں‘ میں تازہ زمانے کی ایک مثال دینا چاہتا ہوں‘ خان عبد الغفار خان پختونوں کے محبوب رہنما ہیں اور ان کی مقبولیت کی بنیادی وجہ سیاست سے بڑھ کر سماجی خدمت تھی اور سماجی خدمت میں بھی وہ یہ کہ جہاں پختونوں میں دشمن داری ایک ادارے کی حیثیت اختیار کرچکی تھی اس وطن میں انہوں نے لوگوں کو اپنی دشمنیاں بھلا کر محبت کا سبق دیا اور اس سلسلے میں وہ بہت آگے تک گئے‘ وہ عدم تشدد مہماتما گاندھی کی نقل میں نہیں کررہے تھے بلکہ وہ انسانیت کی بنیادی خوبیوں کو اپنانا چاہتے تھے اور اسی لئے وہ بابائے افاغنہ کہلائے۔
شادی کے بعد بیوی آپ کی زندگی میں داخل ہوتی ہے‘ نہ صرف وہ بلکہ اس کے عزیز اور قریبی رشتہ دار یعنی آپ کے سسرالی رشتہ دار بھی آپ کے ابنوں میں شمار ہونے لگتے ہیں۔ بیوی تو آپ کی جیون ساتھی بن جاتی ے اس لئے آپ پر لازم ے کہ آپ اس محبت کریں اس کے وفادار ہیں‘ اور اس کے حقوق پورے کریں وہ حقوق جو شریعت نے صریحاً اور صاف طور پر واضح کردیئے ہیں‘ آپ کا اپنی بیوی کے ساتھ محبت اور وفاداری کا کسی طور پر آپ کے ماں باپ کے ساتھ محبت میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہونا چاہئے‘ کیونکہ دو نوں فریقوں کے حقوق بالکل واضح طور پر مختلف ہیں۔
ایک بات جو واضح کرتا چلوں کہ قرآن پاک یا حدیث شریف میں آیا ہے کہ عورت اگر الگ مکان کا مطالبہ کرے تو یہ اس کا حق ہے اور اس کو تلخی یا وجہ نزاع نہیں بنانا چاہئے‘ یہاں میں بھی ذاتی طور پر ایک مشکل میں پڑا کہ جب آپ کے ماں باپ بیمار ہوں تو آپ اپنی عورت کو علیحدہ کیسے کرسکتے ہیں‘ میرے خیال میں ضعیف اور بیمار ماں باپ کی موجودگی میں عورت یہ مطالبہ کرے تو آپ کے لئے مشکل پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ آپ کے مالی حالات یا دوسرے مسئلے آپ کو اس مطالبے کو پرا کرنے میں دقت پیدا کرسکتے ہیں۔ یہاں میرا جواب ہے کہ جس طرح مرد کو یہ تلقین کی جارہی ہے اسی طرح عورت پر بھی یعہ فرض ہے وہ مرد کی مجبوریوں کا لحاظ رکھے اور اسی لگن اور محبت سے اس کا ہاتھ بنائے اور ساس سسر کی خدمت میں خاوند کا ساتھ دے۔
ان سب باتوں کے علاوہ میں آپ کی اپنی ذات کی طرف آتا ہوں کیا آپ اپنی ذات اور گھر یا باہر اپنی حیثیت سے مطمئن ہیں‘ کیا آپ کے خیال میں آپ کے ساتھ یا شریک کار آپ کی عزت کرتے ہیں۔ اگر ان سوالوں میں سے کسی ایک کا جواب بھی نفی میں ہے اور دوسری طرف ڈاکٹر کے اپنے خیال میں آپ کو آپ کے حق کے مطابق عزت یا مدد نہیں مل رہی یا آپ کی دل جوئی نہیں کی جارہی تو سب سے پہلے توجہ آپ اپنی ذات کو دیں‘ اپنی ذات کا ایک حقیقت پسندانہ اندازہ لگائیں کہ آپ کتنے لائق ہیں‘ کتنے اور کس چیز کے حقدار ہیں اور آپ کی توقعات غیر مناسب اور غیر حقیقت پسندانہ تو نہیں ہیں۔ اگر ہیں تو اس کا سب سے بڑا نقصان آپ کی اپنی ذات کو پہنچے گا‘ بڑی مشہور کہاوت ہے کہ ایک ٹوکری میں رکھے ہوئے برتن بھی آپس میں ٹکراتے ہیں لیکن اس ٹکرانے کو کتنا طول دیا جائے‘ اگر ٹکرانے میں آپ کی غلطی تھی تو بجائے سالہا سال کڑنے کے کہ دوسرے نے آپ سے زیادتی کی اور آپ کے اندر کی آواز بتا رہی ہے کہ غلطی آپ کی ہے تو خدارا اپنی غلطی تسلیم کرکے معافی اور معذرت کرلیں ورنہ یہ چھپا ہوا غم آپ کو سالہا سال متاثر کئے رکھے گا آپ کو اپنی آسودگی (well being) سے محروم رکھے گا اور آپ کی عزت اور قدر آپ کی اپنی نظروں میں گری رہے گی۔
یہاں ایک اور بات ضروری ہے کہ رشک کہیں یا حسد کہیں‘ یہ ایک ہی جذبے کی دو مختلف شکلیں ہیں‘ حسد کو سب سے برا کہا جاتاہے یہ بڑا تباہ کن جذبہ ہے آپ کی اپنی ذات کے لئے بھی اور جن کے لئے آپ کے دل میں ایسا جذبہ پیدا ہو ان کے لئے بھی چھوٹے سے چھوٹا بچہ بھی اپنے چھوٹے سے بھائی چاہے وہ ایک نمبر بڑا ہو یا اس سے چھوٹا ہوحسد کرتا ہے‘ اگلے بچے کی پیدائش پر جب اس سے پہلے والا بچہ گود سے اتارا جاتا ہے تو آپ اس کے دل سے پوچھیں وہ سمجھتا ہے کہ اس کو گویا جنت سے نکال دیا گیا ہے‘ یہاں ماؤں کو بڑی احتیاط سے کام لینا چاہئے اور آہستہ آہستہ گود والے بچے کو اپنے سے ضرورت کے مطاق دور کرنا چاہئے‘ خاص کر جب نوزائیدہ بچے کو دودھ پلایا جائے تو جہاں تک ہوسکے مائیں ایسا چھپ کر کریں کیونکہ اتنی چھوٹی عمر کی حسد اگر جڑ پکڑ لے تو ساری عمر کے تعلقات بہن بھائیوں میں خراب ہوسکتے ہیں‘ یہاں باپ یا گھر کے دیگر افراد بھی ماں کی مدد کرسکتے ہیں کہ بڑے بچے کو زیادہ توجہ دی جائے کیونکہ جب چھوٹا بچہ بہت چھوٹا ہو یعنی چند مہینوں کا تو اس کو رقابت کا احساس نہیں ہوتا لیکن جیسے جیسے وہ بڑھتا ہے تو آپ آپ کو کلی طور پر ماں کا مالک سمجھنے لگتا ہے اور گود کا حاکم بن بیٹھتا ہے۔
ایک ہی ماں باپ کے ہاں پیدا شدہ بچے صورت و شکل اور خاص کر ہمارے ملک میں رنگت میں مختلف ہوسکتے ہیں اس کے علاوہ دو بہن بھائیوں میں ذہانت کے درجے میں فرق ہوسکتا ہے اور رقابت کی بنیاد بن سکتا ہے میرا مطالعہ مجھے یہ بتلاتا ہے کہ کسی ایسے فرق کی وجہ سے ماں باپ میں سے کوئی ایک بچے کے مقابلے میں دوسرے بچے کو ترجیح دینے لگتا ہے اور متاثرہ بچہ احساس کمتری کا شکار ہونے لگتا ہے ۔ 
میرے پاس ایک لڑکی مریضہ کے طور پر آتی ہے جس کو کبھی ایک بیماری کبھی دوسری بیماری لگ جاتی تو میں نے نوٹ کیا کہ اس کا باپ جو اس کے ساتھ آتا تھا اس کو تورے یعنی کالی کے نام سے پکارتا تھا میرے تحقیق کرنے پر مجھے پتا لگا کہ وہ لڑکی اس نام سے اتنی دکھی اور شرمندہ تھی کہ وہ احساس کمتری کا شکار ہوگئی اور خودکشی تک کے لئے تیار ہوگئی اور یہ محترم بڑی بزرگ شکل‘ باریش‘ سیاہ چشمہ پہنے ہوئے‘ ہاتھ میں تسبیح لٹکائے ہوئے‘ بولنے میں خوب قادر الکلام لیکن باپ کی شفقت سے عاری معلوم ہوتے تھے اور ان کو احساس تک تہیں تھا کہ کالے کو کالا کہنے میں کیا برائی ہے کسی کو اس کے عیب کے ساتھ نہیں پکارنا چاہئے جیسے اندھا‘ کانا‘ لنگڑا‘ کالا اور ٹگنا وغیرہ۔