476

سب سے ضروری یوٹرن

ہمارے وزیر اعظم مسٹر یوٹرن عمران خان کی آشیر واد کے ساتھ آئی ایم ایف کی پاکستان واپسی ایک اچھی خبر ہے‘یہ سوچ بڑی بے وقوفانہ تھی کہ ہمارے ملک کے اقتصادی مسائل چین و سعودی عرب کی مہربانیوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے فیاضی کے ذریعے حل کر لئے جائیں گے‘ پاکستان جیسے غیر یقینی حالات سے دوچار ممالک کیساتھ اپنے معاہدوں میں خطرات کے عناصر داخل کرنے میں چینیوں کو بڑی مہارت حاصل ہے‘ اور تزویراتی ضروریات کے پیش نظر اسی لحاظ سے وہ قرضوں کی واپسی میں سہولت دے سکتے ہیں اور اپنے ملک میں پاکستانی مصنوعات کی درآمدکی بھی حوصلہ افزائی کر یں گے۔ تاہم‘ غیر ملکی زر مبادلہ کا جو بوجھ ہم پر ہے اسے کم کرنے کے لئے نقد رقوم کی صورت میں وہ ہمیں زیادہ کچھ نہیں دیں گے۔ اس کے علاوہ اپنے معاہدوں کی شرائط کا آئی ایم ایف کے سامنے افشاء ہونا بھی انہیں منظور نہیں ہوگا‘اس سے وہ حکومت پاکستان کو یقیناًروکیں گے جبکہ یہی وہ چیز ہے جسے امریکیوں کیلئے ٹروجن ہارس سمجھا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ خان صاحب چین سے خالی ہاتھ وطن واپس لوٹے ہیں اورپی ایم ایل (ن) کی حکومت کے دوران چینی حکومت سے ہونے والے معاہدوں کی نوعیت اور ان کے متن کو منظر عام پر لانے کے حوالے سے بھی انہوں نے ایک بڑا یو ٹرن لیا ہے۔

سعودی عرب حکومت کے ادارہ جاتی روئیے کا بھی کم و بیش یہی حال ہے پاکستان کی ہر حکومت ریاض جا کر بھیک مانگتی رہی ہے اور ان سبھی کوتیل کی قیمتوں کی ادائیگی میں مہلت دی گئی۔تاہم ‘ نقد رقوم اگر دی جائیں تو پھر اس کی ایک سیاسی قیمت بھی چکانی پڑتی ہے۔خان صاحب نے متحدہ عرب امارات کا جودورہ کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بار یہ قیمت امریکہ اور اسرائیل کے تعاون سے ترکی ‘ شام اور ایران کیخلاف قائم ہونے والے اس سکیورٹی بلاک میں شمولیت کے ذریعے چکائی جائے گی جسکی قیادت سعودی عرب اور محمد بن سلمان کر رہے ہیں اور جس میں مصر‘ امارات‘ اردن وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے بد اور منفی اثرات پاکستانی ریاست اور معاشرے دونوں پر مرتب ہوں گے‘سب سے بڑا مسئلہ امریکہ کا ہے۔صدر ٹرمپ پاکستان کے بارے میں اپنے خیالات کسی لگی لپٹی کے بغیر ظاہر کرتے رہتے ہیں‘افغانستان میں امریکی مقاصد کے حصول میں مدد نہ دینے پر وہ پاکستان کو سزا دینے پر مصر نظر آتے ہیں۔انہیں اس بات کا غصہ ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر پاکستان کو دئیے گئے لیکن اس کا کوئی سیاسی فائدہ امریکہ کو حاصل نہیں ہو سکا ہے۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو ٹرمپ کی مکمل اور بھرپور حمایت حاصل ہے‘چنانچہ عین ممکن ہے کہ سعودی عرب بھی پاکستان کو امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرے‘ اور اگرسعودی امدادی رقوم کی فراہمی کو اسی امر کیساتھ مشروط کر دیا جائے تو اس پرپاکستانی حکومت کو حیران نہیں ہو نا چاہئے۔

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ٹوئٹر پر خان صاحب نے امریکی صدر ٹرمپ کو جو جواب دیا ہے‘ وہ قوم میں چاہے جتنی بھی مقبولیت حاصل کر لے لیکن یہ اقدام ایک غیر دانشمندانہ مشورے کے تحت اٹھایا گیا معلوم ہوتا ہے‘امریکی انتظامیہ پہلے ہی سے واضح کر چکی ہے کہ آئی ایم ایف کو پاکستان کیساتھ ایک سخت معاہدہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے‘اسی لئے تو اس عالمی مالیاتی ادارے کے وفد کے تازہ ترین دورے سے فوری مثبت فوائد حاصل نہیں ہو سکے ہیں‘اگلی ملاقات اب جنوری کے وسط میں ہو گی اور ان دومہینوں کے دوران ہمارے حکمران تواتر کے ساتھ واشنگٹن‘ ریاض اور بیجنگ کے چکر لگاتے نظرآئیں گے‘مطلب یہ کہ اصل مسئلہ تو ہمارے ملکی اقتصاد کا ہے لیکن توجہ ہماری عالمی سیاست اور خطے کی سیاست پر مرکوز رہے گی اور دونوں محاذوں پر معاملات کو چلانے والی پاکستان اور امریکہ کی افواج ہوں گی‘بد قسمتی یہ ہے کہ پاکستانی آرمی چیف کا یہ کہنا کہ اسامہ بن لادن کو پکڑنے میں پاکستانی فوج نے امریکہ کی مدد کی اور یہ بھی طالبان کی دہشت گردی سے نمٹنے میں پاکستانیوں کا خون بہا ہے اور پھر پینٹاگان کی جانب سے پاکستانی فوج کیساتھ مسلسل تعمیری ہمکاری کی باتیں سب بے معنی اور بے فائدہ ہیں کیونکہ دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر قطعی کوئی اعتبار واعتماد نہیں کیا جاتا ۔خان صاحب کی حکومت زیادہ نقصان کے بغیر اقتصادی بحران کو ختم کرنے کے لئے عجلت کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ تاہم بجٹ اور ادائیگیوں کے توازن کے خسارے کو کم کرنے کی کوششوں کے دوران مشکلات مزید بڑھیں گی دفاعی بجٹ کو منجمد کرنا پڑے گا اور غربت کے خاتمے و ترقیاتی سرگرمیوں کے منصوبوں کو بھی ختم کرنا پڑے گا۔

محصولات کیلئے ایف بی آر پر دباؤ ڈالا جائے گا کہ ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھائی جائے‘یہی وہ کام ہے جس میں یہ ادارہ مسلسل ناکام رہا ہے‘ نتیجتاً سارا بوجھ موجودہ ٹیکس دہندگان پر ہی پڑتا ہے اور وہ ٹیکسوں کے نظام سے مزید متنفر ہوجاتے ہیں۔وزارت خزانہ بھی مسئلے کو افسر شاہی طرز پر حل کرنے کی کوششوں میں براہ راست اور بالواسطہ محصولات کی شرح بڑھا دے گی اور روپے کی قدر میں مزید کمی کر دی جائے گی۔آئی ایم ایف کا فارمولا مختصر المیعاد اور وسط مدتی طور پر کساد بازاری و افراط زر پر منتج ہو گا اور فی الوقت اہمیت انہی دو میعادوں کی ہے کیونکہ طویل المیعاد ی لحاظ سے تو صرف اپنی تباہی ہی نظر آتی ہے۔ اس سب کے چلتے حزب اختلاف پر یہی خبط سوار رہے گا کہ کسی طور حکومت کو سزا مل جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ خان صاحب کی حکومت اور اس کے حامیوں اور چلانے والوں کو اپنے راستوں کے انتخاب میں بڑی دانشمندی سے کام لینا ہوگا۔

عالمی سطح پر انہیں جن سے فائدہ ہو سکتا ہے ان کیساتھ ’’عرضِ شوق نہ کر کے زک پہنچانے‘‘ کا گمان اور اندرونی طور پر اختلافی آراء رکھنے والوں کی تادیب نہ صرف سٹیٹس کو کو دوام دے گی بلکہ ریاست‘ حکومت اور معاشرے کو ایک وسیع تر بلیک ہول میں بھی دھکیل سکتی ہے‘دوسری طرف دونوں محاذوں پر درست اور معقول رویہ اپنانے کا راستہ بھی ان کے سامنے موجود ہے جو عمل پسندانہ قومی مفاہمت پر مبنی نظریات کے گرد ملکی سیاسی نظام کو مستحکم کردے گا۔ مرضی اب ان کی اپنی ہے کہ وہ کونساراستہ اپناتے ہیں۔شدید ضرورت اس وقت سب سے بڑے یوٹرن کی ہے‘یعنی اسٹیبلشمنٹ کو قومی سلامتی کی ناکام پالیسیوں پر‘ حزب اختلاف کی جماعتوں اور لیڈروں کو اپنے ناکارہ اور کرپٹ طور طریقوں سے اور پی ٹی آئی کی حکومت کو فرضی دشمنوں سے مسلسل اور بے سود لڑنے کی روش سے یوٹرن لینا ہوگا۔