410

ڈاکٹر ‘ انسان ہی تو ہیں

جہانزیب خان پہلی دفعہ میرے پاس لائے گئے تو ان کے پاؤں پر بہت گہرا زخم تھا‘اس سے مسلسل پیپ بہہ رہی تھی‘ان کو شوگر کا مرض تو چودہ سال سے لاحق تھا لیکن انہوں نے جم کر علاج نہیں کیا انکی عمر بھی اتنی نہیں تھی پچاس کے پیٹے میں تھے تاہم کمزوری کی وجہ سے زیادہ عمر کے لگ رہے تھے‘ خیر شوگر تو ہمارے مخصوص سپیشلسٹ نے زیادہ تر کنٹرول جلد ہی کرلیا تھا تا ہم ان کو پاؤں کا زخم مسلسل تنگ کرتا رہا‘ وہ میرے پاس دو تین دفعہ داخل ہوئے‘ آخر میں‘ میں نے اپنے ایک ٹیکنیشن کو ان کے گھر پر لگوادیا جو روزانہ ان کی پٹی کرلیتے تھے‘ اس سے زخم بہت حد تک ٹھیک ہوگیا تاہم ایک دن وہ پھر بہت ہی بری حالت میں داخل ہوئے۔ ان کو کئی اعضاء میں انفیکشن ہوگیا تھا اور سنبھل نہیں رہا تھا۔ نوبت آئی سی یو میں داخلے تک پہنچ گئی۔ یاد رہے کہ مجھ سے متعلقہ مرض ان کے پاؤں کا زخم تھا جس کا علاج کامیاب رہا تھا‘ تاہم بعض مریضوں سے انسیت ہوجاتی ہے‘ اصل میں انکے بچے کافی کم عمر تھے ‘ وہ خود بھی کافی خوش مزاج تھے‘ اسی وجہ سے اگرچہ آئی سی یو کا علاج دوسرے ڈاکٹروں کے ذمے تھا لیکن میں روزانہ ایک دو دفعہ ان کو دیکھنے چلاجایا کرتاتھا۔

شوگر ایسا مرض ہے جو بدن کو اندر ہی اندر سے کھا جاتا ہے‘جب اسکا علاج شروع سے صحیح نہ کیا جائے تو ڈاکٹروں کی بھی نہیں چلتی‘ یہاں بھی ہمیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور بالآخرجہانزیب خان داعی اجل کولبیک کہہ گئے ‘لوگ سمجھتے ہیں ڈاکٹروں کا دل سخت ہوتا ہے اور ہسپتال میں مریضوں پر جو گزرتی ہے ‘ان تکالیف سے ڈاکٹروں کو کوئی غرض نہیں ہوتی‘حالانکہ مریض کے درد اور الم سے ڈاکٹر ہی صحیح طور پر واقف ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹروں میں ڈپریشن سے متاثرین زیادہ ہوتے ہیں‘(امریکہ میں ہر سال چارسو ڈاکٹر خودکشی کرتے ہیں‘ ہمارے آس پاس پچھلے چند ماہ میں تین جوان ڈاکٹروں کی مشکوک حالات میں اموات واقع ہوئی ہیں)جہانگیر خان کی موت کا بھی مجھے بے حد صدمہ پہنچا اور میں کئی راتوں کو سو نہ سکا۔ بدقسمتی سے ہم ڈاکٹروں کے پاس شاید اتنا وقت اور موقع نہیں ہوتا کہ ہم اپنے مریضوں کے دکھ ان کے لواحقین کیساتھ شریک کرسکیں اور اسی لئے یہ سارا بوجھ ہمارے ہی کاندھوں پر رہ جاتا ہے۔

ہنری مارش لندن کے مشہور نیوروسرجن ہیں جنہوں نے اپنی آپ بیتی لکھی ہے اور اس میں تفصیل سے بتایا ہے کہ ایک ڈاکٹر پر کیا گزرتی ہے جب وہ مریض کیلئے زندگی اور موت کے فیصلے کے مجازبن جاتے ہیں‘ڈاکٹر بھی انسان ہوتے ہیں‘وہ مریض کی تکالیف کو سمجھتے ہیں اور اس سے مکمل ہمدردی رکھتے ہیں‘تاہم جب ان پرکسی کی زندگی اور موت کی ذمہ داری آن پڑتی ہے تو ان کی ٹینشن بڑھ جاتی ہے اور وہ ہمدردی ایک طرف رکھ کر مریض کی جان بچانے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں‘تاہم بعض اوقات زندگی اور موت سے بھی بڑے فیصلے کرنے پڑتے ہیں‘ مثال کے طور پر ایک دماغی رسولی کا آپریشن کے ذریعے سے ہٹانا ممکن تو ہوتا ہے لیکن آپریشن کے نتیجے میں مریض کے بدن کے کچھ حصے مفلوج ہونے کا واضح خطرہ ہوتا ہے یا مریض اپنے ہوش وحواس سے بیگانہ ہوسکتا ہے‘ پچاس کی دہائی میں نیوروسرجری میں شائزوفرینیا کیلئے ایک آپریشن شروع کیا گیا تھا۔

جس میں دماغ کے سامنے والے حصے کو کاٹ لیا جاتا تھا ‘اس سے مریض کے جذبات سے غصہ اور ماردھاڑ نکل جاتی تھی لیکن ساتھ ساتھ اس سے ایک چلتی پھرتی بدروح بن جاتی تھی جس کے کوئی جذبات نہیں ہوتے تھے‘ اسی لئے بعد میں اس آپریشن پر پابندی لگادی گئی‘ایسے حالات میں مریض کی تکلیف سے تنگ آئے ہوئے عزیزو اقارب ہر صورت میں آپریشن کروانا چاہتے ہیں تاکہ مریض جیسا بھی ہو زندہ رہے۔ انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہوش و حواس سے بیگانہ فرد کیسی زندگی گزارتا ہے اور دوسروں پر کتنا محتاج رہتا ہے۔ ڈاکٹر ایسے مرحلوں پر مریض کے آپریشن سے گریز کرتا ہے کہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ معذوری کی بعض قسم کی زندگی موت سے بدتر ہوتی ہے اور آخر میں وہی عزیز و اقارب بھی خیال رکھنے پر قادر نہیں ہوتے‘یوں مریض کی زندگی بجائے خود ایک عذاب بن جاتی ہے۔ اسی لئے ڈاکٹر اپنی بے بسی کا اظہار کردیتاہے کہ ہر نفس نے ایک دن موت کا ذائقہ چکنا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کا فرض آپ کی زندگی کو مفید اور آرام دہ بنانا ہے اس کے پاس زندگی دراز کرنے کا کوئی جادو نہیں۔

اس قسم کے فیصلے کرنے کیلئے ڈاکٹر کو جذبات و ہمدردی ایک طرف رکھ کر حقائق کا جائزہ لینا ہوتا ہے اور مریض کے حق میں بہتر فیصلہ کرنا سب سے ضروری امرہے‘ اس میں بے شک ڈاکٹر سے غلطی ہوسکتی ہے ۔ غلطیوں کی کمی تجربے سے آتی ہے اور تجربہ غلطیاں کرنے سے آتا ہے‘ تاہم اچھی تربیت اور جدید علوم سے روزانہ کی بنیاد پر آگاہی غلطیاں کم کرنے میں بے حد مددگار ثابت ہوتی ہے۔ دوسروں کی غلطیوں سے سیکھنا اپنی غلطیوں سے بدرجہا بہتر ہے‘ اگر چہ ڈاکٹر جذبات کو اپنے طبی فیصلے سے الگ رکھنے پر قادر ہوتے ہیں لیکن جب کسی قریبی عزیز یا ساتھی کیساتھ یہی معاملہ ہوتا ہے تو ڈاکٹر پر دباؤ بڑھ جاتا ہے کیونکہ قر بت کی وجہ سے وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکتا‘ اسی لئے بیشتر ڈاکٹر اپنے قریبی عزیزوں کا علاج کرنے سے گھبراتے ہیں۔

مریض کے سرجیکل یا میڈیکل پروسیجر میں بارہا ایسے مواقع آتے ہیں جب ڈاکٹر کو مسلسل کئی گھنٹے کھڑے ہوکر نازک کام کرنا ہوتا ہے۔ اس دوران اسکے بدن میں ایسے ہارمون خارج ہوتے ہیں جو اسکے دل کی رفتار تیز کردیتے ہیں‘خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں اور بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ وہ بغیر کھائے پےئے پسینے بہاتا رہتا ہے اور اسے تھکاوٹ کا احساس تک نہیں ہوتا ‘لیکن جونہی وہ عمل ختم ہوتا ہے میں نے خود دیکھا بھی ہے اور میرے ساتھ ہوا بھی ہے کہ فوراً زمین پر گر گئے۔اسی لئے فزیشنوں کے مقابلے میں سرجنوں کی کام کے مواقع پر اموات ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ اس فضا میں کسی بھی ڈاکٹر سے کسی قسم کی غلطی کا امکان ہوتا ہے لیکن یاد رہے ڈاکٹر اپنی پوری کوشش کرتا ہے کہ اسکے مریض کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ ’ضرر کے بغیر‘(Do No Harm)ہنری مارش کی کتاب کا نام ہے اور یہی ایک ڈاکٹر کا نعرہ ہوتاہے۔