384

جوتے

گزشتہ ہفتے میرے ایک عزیز کا انتقال ہوا تھا۔ میں صبح سویرے سے گاؤں کے حجرے میں بیٹھا تھا اور پُرسے کیلئے لوگ آرہے تھے‘ جب رش ذرا کم ہوجاتا تو میں سرنیچے کرکے سوچ میں گم ہوجاتا‘ اس دوران کوئی نئی آمد ہوتی تو مجھے آنے والے کے جوتے سب سے پہلے نظر آتے۔ کوئی شخص پھٹے پُرانے چپل پہنے آرہا ہے تو کوئی پشاوری چپل پہنے لیکن پیچھے سے کھول کر شڑاپ شڑاپ کرتے ہوئے ۔ اکثریت نے پشاوری چپل اچھی طرح سے پالش کی ہوئی تھی‘ چند ایک نے خوبصورت بوٹ پہنے ہوئے تھے۔ مجھے جوتوں پر نظر ڈالتے ہی اندازہ ہوجاتا کہ کس قسم کی شخصیت تشریف لارہی ہے۔ جوتوں سے شخصیت جاننا کوئی نئی بات نہیں‘اس پر سوشیالوجی میں کافی تحقیق ہوچکی ہے اور ایک ریسرچ میں تو مختلف لوگوں کے صرف پیروں میں جوتوں کی تصویریں سو لوگوں کو دکھائی گئیں اور صرف جوتوں سے ان کے پہننے والوں کی عمر‘ جنس‘ آمدن اور شخصیت کا بہت حد تک درست اندازہ لگایا گیا۔

جوتے نہ صرف شخصیت کا نکھار بتاتے ہیں بلکہ پاؤں کو حفاظت اور آرام بھی فراہم کرتے ہیں۔ شاید ارتقا کی لمبی عمر میں جوتے چند ایک دوسری عادات کیساتھ جدید انسان اور غاروں میں رہنے والے انسانوں کے درمیان نمایاں فرق ہے‘اور پاؤں ہمارے جسم کا نہایت اہم عضو ہے‘بے چارے ساری عمر ہمارا وزن اٹھاتے ہیں اور ہمیں ہر جگہ پہنچاتے ہیں‘ انکی اہمیت کے باوجود ہم انکا خیال نہیں رکھتے اور میں اسکا گواہ ہوں کہ لوگ شوگر کے مریض ہوتے ہوئے اپنے پاؤں کو نہ صرف گندا رکھتے ہیں بلکہ پھٹی ایڑیوں کیساتھ نہایت غیر آرام دہ جوتوں میں لاپرواہی سے پھرتے رہتے ہیں جب زخم علاج سے باہر ہوجاتا ہے تو پھر ان کو فکر ہوتی ہے کہ کہیں پاؤ ں نہ کٹ جائے۔

دنیا میں اب پاؤں کی لچک اور حرکت پر بہت تحقیق ہورہی ہے اور نائکے‘ایڈیڈاس اورریبوک نے صرف جوتوں سے جتنا کمایا ہے شاید ہی کسی شے سے کمایا ہو‘ نائکے کے جوتوں کی بدولت دنیا کا تیز رفتار ترین شخص کا اعزاز پانیوالا شخص یوسین بولٹ بنا‘ان کمپنیوں نے مختلف قسم کے جوتے مختلف کاموں کیلئے بنائے ہیں جن میں عام واک‘ دوڑنا‘ فٹ بال اور دوسرے کھیلوں کیلئے الگ الگ جوتے شامل ہیں‘ان میں سے بعض کافی مہنگے ہیں اور انکی قیمت ایک لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے لیکن خدا چین کو ہمت دے کہ اسی مغربی تحقیق سے چراکر ان جوتوں کی نقل بنا کر چوتھائی قیمت پر بیچ رہا ہے۔

عام جوتوں پر بھی بے تحاشا تحقیق ہورہی ہے اور اچھے جوتے لاکھوں میں بکتے ہیں‘تاہم یہ ایک میدان ہے جس میں ہم پاکستانی خوش قسمت ہیں‘ میں نے کینیڈا میں اپنے لئے واک کے جوتے بیس ہزار روپے میں خریدے‘ ان میں واک بہت سہل ہوتی ہے‘ حیرت سے گُنگ رہ گیا جب وہی جوتے یہاں ایک لوکل چین سٹور سے نو سو روپے میں خریدے اوراب وہی استعمال کررہا ہوں‘اسی طرح جو جوتے بالی سے ستر اسی ہزار کے ملتے ہیں یہاں باآسانی تین چار ہزار میں مل جاتے ہیں‘ اور سیل لگی ہو تو یہی جوتے آدھی قیمت پر مل جاتے ہیں۔جوتوں کا سب سے بڑا مسئلہ خواتین کو ہوتا ہے‘ وہ فیشن کے چکر میں اپنے پاؤں کے آرام کو پس پشت ڈال لیتی ہیں اور پھر تقریب سے آکر ہائے ہائے کرتی رہتی ہیں‘ ان جوتوں میں ہائی ہیل بہت عام ہیں جنکی وجہ سے نہ صرف پاؤں کے قدرتی محرابوں بر پر خراب اثر پڑتا ہے‘ بلکہ ان سے انگلیوں کا سیدھا پن بھی متاثر ہوجاتا ہے‘ عمر کیساتھ ساتھ ان خواتین کے انگوٹھے مڑ کر دوسری انگلیوں کی سمت ٹیڑھے ہوجاتے ہیں‘ تاہم ان جوتوں کیساتھ بھی اب ایسے نرم سیلیکون کے قالب ملتے ہیں جو ہر اس جگہ لگائے جاسکتے ہیں جو پاؤں کو تکلیف دے رہے ہوتے ہیں‘ پاؤں کے محراب بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور وہ پاؤں زمین پر رکھتے ہوئے اسکی دھمک کو کم کرتے ہیں
بالکل ایسے جیسے پرانی بسوں کی کمانیاں ہوتی تھیں‘ اسلئے ضروری ہے کہ جوتے میں اندر کی طرف ضرور ایسا ابھار ہو جو اس محراب کو سہارا دے سکے۔
جوتے خریدتے وقت یہی چند چیزیں خیال میں رکھنی چاہئیں کہ سب سے پہلے وہ پہننے اور چلنے میں آرام دہ ہوں‘ عمر کیساتھ ساتھ جھک کر جوتوں کے تسمے باندھنا بہت مشکل ہوجاتا ہے ‘لیکن واہ رے ٹیکنالوجی۔ اب ایسے الاسٹک تسمے آگئے ہیں کہ وہ بوٹ میں پھرولیں تو پھر بار بار باندھنے کی ضرورت نہیں ہوتی بس پاؤں بوٹ کے اندر سلپ کرنے کی دیر ہوتی ہے اور جوتا پہن لیا ‘دوسری چیز جوتے کی بناوٹ ہے‘اچھے چمڑے کے بنے ہوئے جوتے دیرپا ہوتے ہیں اور انکی دیکھ بھال بھی کم ہوتی ہے‘ جوتے میں پاؤں کے محراب کیلئے سہارا اور ایڑھی کے پیچھے نرم اضافہ ضروری ہوتاہے‘ تاہم جوتے کی قیمت بھی دیکھنی چاہئے‘ اب تو ہمارے ملک میں انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے جوتے باہر کی دس فیصد قیمت پر مل جاتے ہیں‘ شوگر کے مریضوں یا معمر افراد کو ایسے جوتوں سے پرہیز کرنا چاہئے جو پیچھے سے کھلے ہوں‘ ان جوتوں میں پیچھے سے کنکر وغیرہ آجاتا ہے اور پاؤں زخمی ہونیکا خطرہ ہوتا ہے ۔

سب سے بڑی بات یہ کہ گھر سے کہیں جانے کیلئے نکلیں تو مناسب جوتے پہن کر جائیں اسلئے کہ مخاطب کو سب سے پہلے آپکے جوتے ہی نظر آتے ہیں اور ہم سب کی طرح وہ بھی آپکی شخصیت کا اندازہ آپکے جوتوں سے لگاسکتے ہیں۔ اپنا پہلا تاثر برباد کرنے کی کوشش نہ کیجئے۔