496

100 دن

اپنی حکومت کے پہلے سو دنوں کے دوران اپنی کہی گئی باتوں کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہنے پر وزیر اعظم عمران خان کو اسوقت بہت کچھ سننا پڑ رہا ہے‘ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ہٹلر و نپولین کے حوالے دیکر اپنے یوٹرن لینے کی عادت کا جوا ز پیش کر کے اسے ایک پر حکمت پالیسی قرار دیکر خود اپنا مذاق بنایا ہے‘ انہوں نے چونکہ اپنی حکومت کی کارکردگی کی جانچ کیلئے خود ہی سو دنوں کا وقت مانگا تھا‘ اسلئے اگر اسوقت میڈیا والوں نے انہیں نکتہ چینیوں کا نشانہ بنایا ہوا ہے تو اسکے ذمہ دار وہ خود ہی ہیں‘ خان صاحب کے ایجنڈے پر سب سے ضروری نکتہ اسوقت معاشی بحران کا ہے معیشت کی ابتری‘ادائیگیوں کے توازن میں بڑھتے ہوئے فرق‘ زرمبادلہ کے گرتے ہوئے ذخائر اور روپے کی کم ہوتی قدر سے واضح ہے۔ حزب اختلاف میں ہوتے ہوئے تو وہ حکومت پر خوب گرجتے برستے تھے کہ حکمران آئی ایم ایف اور بیرون ممالک سے بھیک مانگتے ہیں‘ ان کی امیدیں اصل میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے وابستہ تھیں کہ وہ اربوں روپے امداد کے طور پر دیں گے ‘دوسرے‘ ان کو یہ بھی توقع تھی ملک سے لوٹے گئے اربوں کھربوں روپے بھی واپس وطن لائے جائیں گے‘ تاہم اقتدار میں آنے کے بعد وہ اسی فریب خیالی میں مبتلا رہے تومسئلہ گھمبیر سے گھمبیر تر ہو تا چلا گیا ‘جب خان صاحب کے وزیر خزانہ اسد عمر نے سرکشی دکھائی تو انہیں بھی بعد میں اپنے الفاظ سے واپس پلٹنا پڑا تھا‘ اسکے بعد جب جنرل قمر جاوید باجوہ منظر پر تشریف لائے تو بادل نخواستہ خان صاحب کو اپنی اچکن زیب تن کر کے ہاتھوں میں کشکول پکڑ کر سعودی عرب اور چین کا رخ کرنا ہی پڑا اور اسد عمر صاحب بھی آئی ایم ایف والوں کیساتھ مل بیٹھنے کو بھی تیار ہو گئے۔ تاہم‘ دیر سے کئے گئے اس درست دانشمندانہ فیصلے کے بھی مطلوبہ مثبت نتائج بر آمد نہیں ہو سکے ۔چین تو اپنی مدد کی نوعیت تک سے پردہ اٹھانے کیلئے تیار نہیں‘سعودیوں نے بطور امداد جو رقم فراہم کی ہے وہ ہمارے حکمرانوں کی توقعات کے مقابلے میں کافی کم ہے۔آئی ایم ایف کا وفد بھی کوئی وعدہ کئے بغیر واپس واشنگٹن لوٹ چکا ہے اور اسوقت ہمارے وزیر اعظم اور انکے وزیر خزانہ مایوسی میں سر پکڑے بیٹھے ہوئے ہیں۔

خان صاحب کے ایجنڈے کا دوسرا نکتہ حکومت کی مؤثر اور دیانتدارانہ کارکردگی کے بارے میں ہے‘ اس حوالے سے تو تضادات اور کنفیوژنز اور بھی زیادہ ہیں‘ پارلیمان کی کارکردگی درست طور پر ا س وقت تک ظاہر نہیں ہو سکتی جب تک متعلقہ کمیٹیوں میں پبلک اکاؤنٹس اور قوانین کی اصلاحات پر متفقہ طور پر کام نہ ہوتاہم خود عمران خان کی ہدایات کے تحت وزارت داخلہ اور ایجنسیاں حزب اختلاف کی جماعتوں کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں جسکی وجہ سے ان کمیٹیوں میں سارا کام رکا پڑا ہے‘ اس سے بھی بد تر بات یہ ہے کہ خان صاحب پنجاب جیسے صوبے کا نظام ایک کمزور اور نا شدنی قسم کے وزیر اعلیٰ کے ذریعے خود بنی گالہ سے چلانا چاہتے ہیں‘دوسری طرف پنجاب میں صوبے کے گورنر اور اسمبلی کے سپیکرسمیت اقتدار کی دوڑ میں متعدد دیگر لوگ بھی شامل ہیں اور یہ تمام عوامل بیوروکریسی اورانتظامیہ میں ڈیڈلاک پر منتج ہو رہے ہیں‘اعلیٰ سطحی تقرریاں اورتبادلے تواتر کے ساتھ ہو رہے ہیں‘ اقتدار کی دوڑ میں شامل ایک صاحب کے کہنے پر تقرری ہوتی ہے تو دوسرے کے کہنے پر تبادلہ ہو جاتا ہے۔ ایسی باتیں سمت اور جوش و جذبے کی معدومی کا سبب بن رہی ہیں۔

ایجنڈے کا تیسرا نکتہ خارجہ پالیسی کا ہے‘اس حوالے سے بھی حکومت لڑکھڑارہی ہے اور شرمندگی کا باعث بن رہی ہے‘ایک ایسے وقت میں جبکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ امریکہ کے وحشیانہ پن کو زیادہ نہ چھیڑا جائے کہ کہیں وہ ہمارے بارے میں آئی ایم ایف کے فیصلوں پر اثر انداز نہ ہو اور کہیں سعودی عرب کو ہم پر دباؤ ڈالنے پر مجبور نہ کر دے‘ خان صاحب نے ڈونلڈ ٹرمپ کیساتھ ٹوئٹر پر تکرار کرڈالی‘ افغانستان کے محاذ پر بھی لفظی تکرار اور پراکسی دہشت گردی جاری ہے حا لانکہ ہمارے حکمران یہ کہتے رہے ہیں کہ پاکستان مسئلے کی بجائے حل کا حصہ بننا چاہتا ہے۔

کرتارپور راہدار ی کے افتتاح کو بھی امن کے حوالے سے ایک بڑا سنگ میل ٹھہرایا جا رہا ہے لیکن حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں۔ آئی ایم ایف کے وفد کی آمد اور چین و سعودی عرب کے دورے کی طرح یہ بھی در اصل اسٹیبلشمنٹ کی مہربانی ہے وزیر اعظم عمران خان کی حلف برداری کی تقریب میں جنرل صاحب نے نوجوت سنگھ سدھو کے ساتھ جو معانقہ فرمایا تھا جسکے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اورریاست پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ کافی مشکلات کا شکار ہو گئے تھے‘ اسی کا یہ کرشمہ ہے‘پنجاب میں اگلے برس ہونیوالے انتخابات میں ان دونوں میں سے کسی سیاستدان کی جیت کے امکانات کچھ زیادہ روشن نہیں‘اسی لئے انہوں نے پاکستان کی یہ تجویز قبول کی ہے تاکہ کم از کم سکھوں کی حمایت تو انہیں حاصل ہو سکے‘ یہ ایک مختصر المیعاد قسم کا انتظام ہے جیسا کہ امریندر سنگھ اور سشما سوراج کے پاکستان مخالف بیانات سے پتہ بھی چلتا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نے سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت سے مسلسل تیسری بار انکار کیا ہے بلکہ جس وقت کرتار پور کے حوالے سے سارے معاملات طے ہو رہے تھے تو اسوقت بھی کراچی میں چینی قونصل خانے پر پراکسی دہشت گردوں کے ذریعے حملہ کروایا گیا تھا افغان سرحد پہ جب طاہر داوڑ کا جسد خاکی پاکستانی حکام کے حوالے کیا جا رہا تھا تو اسوقت بھی خود کش بمبار زیریں اورکزئی ایجنسی میں حملہ آور تھے اور مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی بربریت اور جارحیت میں کسی طور کی کوئی کمی نہیں آئی‘پاکستان کی جانب سے بھی کرتارپور راہداری کھولنے کا مقصد یہ ہے کہ بھارت کیساتھ تعلقات کی کشیدگی کچھ کم ہو کیونکہ لائن آف کنٹرول پر مسلح جھڑپیں نہ صرف یہ کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرتی ہیں بلکہ انکی وجہ سے خان صاحب کو بھی حکومتی معاملات کی طرف متوجہ ہونیکی مہلت نہیں ملتی۔یہی لوگ تھے کہ جنہوں نے پہلے نواز شریف کیخلاف لبیک والوں کو کھڑا کیا اور پھرعمران خان کیلئے ان کوختم کروادیا اور بھارت کیساتھ پینگیں بڑھانے پر میاں صاحب کو اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا جبکہ خان صاحب کوکرتارپور جیسے معاملات کے ذریعے پینگیں بڑھانے کا کہہ رہے ہیں‘ اسٹیبلشمنٹ کا سارا انحصار اس وقت عمران خان پر ہے۔اس شخص سے ان کا اعتماد ختم ہونے کیلئے سو سے کہیں زیادہ دن درکار ہوں گے۔