112

حکومت کے 100دن

وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے پہلے 100روز کی کارکردگی پیش کردی ہے‘ اس کیساتھ ہی قوم کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آنیوالے دن آسان نہیں بلکہ مشکل ہیں‘ وزیراعظم سابق حکومتوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنانے کیساتھ واضح کرتے ہیں کہ ان کی حکومت نے 375ارب کے جعلی اکاؤنٹس پکڑے ہیں جبکہ 11ارب ڈالر کا سراغ بھی لگالیاہے‘مستقبل کی منصوبہ بندی سے متعلق وہ کہتے ہیں کہ عدلتوں کو ڈیڑھ سال میں فیصلے کاپابند بنایاجائے گا‘ ملک میں 70ہزار نہریں پختہ ہوں گی‘ نظام تعلیم یکساں ہوگا‘ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد ارباب کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے 34میں سے 18اہداف کامیابی کیساتھ حاصل کرلئے دریں اثناء وفاقی کابینہ نے گیس کی لوڈمینجمنٹ کیلئے 20ارب روپے کی منظوری دیدی ہے جبکہ 100روزہ پلان پر اطمینان کا اظہار بھی کیا ہے‘ دوسری جانب حزب اختلاف نے حکومتی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا ہے‘ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ 100دن صرف قرضہ مانگنے میں گزار دیئے گئے‘ کسی بھی حکومت کیلئے اپنے وژن کے مطابق کام کرنے کیلئے 100دن ناکافی ہوتے ہیں تاہم عمران خان نے خود ہی سمت کے تعین کیلئے 100دن کا وقت دیا‘ اعداد وشمار اپنی جگہ آئندہ کی حکمت عملی کے خدوخال ضرور قابل اطمینان ہیں‘ حکومت کو معیشت کے حوالے سے درپیش مشکلات سے کسی کو انکار نہیں‘ اس سارے منظرنامے میں اگر بات صرف بڑے بڑے منصوبوں تک محدود رکھنے کی بجائے عوامی ریلیف پر فوکس کیاجائے تو صرف چیک اینڈ بیلنس کے موثر نظام ہی سے لوگ تبدیلی کا بڑا احساس پاسکتے ہیں حکومت کے کارنامے ضرور قابل اطمینان سہی‘ عام شہری کو مارکیٹ کنٹرول کی کمی نظر آرہی ۔

جسکے باعث اسکی زندگی اجیرن ہو چکی ہے‘ مارکیٹ میں اس مہنگائی سے انکار نہیں جو عالمی منڈی اور ملک میں بجلی‘ گیس وپٹرولیم مصنوعات کے نرخوں سے جڑی ہے‘ عوام کیلئے ریلیف اس مصنوعی مہنگائی پر کنٹرول کرکے ممکن ہے جو زیادہ سرمایہ کمانے کی ہوس میں اس پر مسلط کی گئی ہے‘ ملک کا عام شہری بھاری بل دینے کے باوجود اندھیروں میں رہنے پر مجبور ہے‘ اسے ہر سال 50ارب روپے کی بجلی چوری پر قابو پاکر ریلیف مل سکتا ہے‘ اس شہری کو صرف میونسپل سروسز کے ذمہ اداروں کی کارکردگی بہتر بنا کر صاف ستھری فضا میں سانس لینے کا موقع دیاجاسکتا ہے‘ اسے صرف پلاسٹک شاپنگ بیگز پر موثر پابندی عائد کرکے لاک سیوریج سسٹم سے نجات دی جاسکتی ہے‘ ملک کے غریب شہریوں کو ہیلتھ کارڈ جاری کرنا قابل اطمینان سہی‘ سرکاری شفاخانوں میں صرف موقع پر جاکر مریضوں اور انکے تیمارداروں سے درپیش مشکلات پوچھ لی جائیں تو بجٹ پر ایک پائی کا اضافی بوجھ ڈالے بغیر خدمات یقینی بنائی جاسکتی ہیں۔

صرف یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ایک بڑے سرکاری شفاخانے میں بجلی کی بندش اور جنریٹر میں خرابی کے باعث مریضوں کو ٹیسٹ رپورٹس کے حصول میں کیا مشکلات درپیش ہیں‘ صرف نگرانی کے ایک موثر اور فول پروف نظام کے ذریعے شہریوں کو یہ اطمینان دیاجاسکتا ہے کہ انکا بچہ سرکاری سکول میں بھی ایسی ہی تعلیم حاصل کریگا جیسی کہ نجی میں دی جاتی ہے‘ اس کیلئے فائیو سٹار ہوٹلوں میں تقریبات ‘ اعداد وشمار اور نقشوں پر مبنی بریفنگ کی بجائے ذمہ دار حکام کوخود سکولوں کے اندر جاکر طلباء اور انکے والدین سے ملنا ہوگا‘حکومت جتنے چاہے میگا پراجیکٹ بنالے‘ عوام ریلیف اور تبدیلی گراس روٹ لیول پر خدمات سے پاتے ہیں‘ انہیں اقتصادی اعشاریوں سے کوئی دلچسپی نہیں اور عوامی ریلیف کیلئے حکومت کو کسی بڑے قرضے کی ضرورت نہیں‘ صرف احساس وادراک کافی ہے۔