77

صدر مملکت کی یقین دہانیاں

صدر مملکت عارف علوی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ دستور میں اٹھارہویں ترمیم کو نہیں چھیڑا جارہا‘ پارلیمانی نظام چلتا رہے گا‘ وہ یہ بھی یقین دہانی کراتے ہیں کہ قبائلی اضلاع میں صوبائی انتخابات 25جولائی تک کرانے ہوں گے گورنر ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کو قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں تین فیصد اضافی حصہ ملے گا صدر مملکت کھلے دل سے کہتے ہیں کہ جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانا آسان نہیں جبکہ پشاور کے بس منصوبے کی تکمیل کیلئے وہ 30جون 2019ء کی ڈیڈلائن بھی دیتے ہیں‘ صدر مملکت خیبرپختونخوا اور وطن عزیز کے قانون کو قبائلی اضلاع تک توسیع دینے کے کام کو ارجنٹ قرار دیتے ہیں‘ ڈاکٹر عارف علوی لاپتہ افراد کے معاملے کو سنجیدہ گرادنتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکومت‘ فوج اور عدلیہ سب چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ حل ہو‘ ماضی میں وفاق کے زیر انتظام رہنے والے قبائلی اضلاع کا خیبرپختونخوا میں انضمام ایک بڑا فیصلہ ضرور ہے تاہم اس عمل کی تکمیل سے جڑے امور کو یکسو کرنا ایک بڑا کام ہے جس کی رفتار پر نظر رکھنا ناگزیر ہے‘۔

قبائلی عوام کو تبدیلی کااحساس دلانے کیلئے ضروری ہے کہ یہاں بنیادی شہری سہولیات فراہم کی جائیں‘صدر مملکت صوبائی اسمبلی میں نمائندگی کیلئے 25جولائی کی ڈیڈلائن دے رہے ہیں تاہم بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے اس تیزی کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا کہ جس کی ضرورت ہے‘ صدر مملکت قبائلی اضلاع کیلئے 30ہزار نوکریاں دینے کا اعلان ضرور کرتے ہیں لیکن ان علاقوں میں موجود معدنیات سے استفادہ کرنے اور صنعتی وکاروباری سرگرمیوں کے فروغ کیلئے کوئی قابل عمل حکمت عملی نہیں دی جارہی‘ اس پلاننگ کے فقدان ہی کا نتیجہ ہے کہ وطن عزیز میں روزگار کیلئے سرکاری ملازمتوں پر ہی انحصار کیاجاتا رہا ہے‘موجودہ معاشی بحران بھی اسی صورتحال کا نتیجہ ہے‘ ہمارا سارا انحصار درآمدات پر ہے جبکہ صنعتی پیداوار میں اضافہ اور ایکسپورٹ بڑھانا تجارتی خسارے جیسے بڑے چیلنج سے نمٹنے میں معاون ثابت ہوسکتاہے‘ این ایف سی ایوارڈ ‘قبائلی اضلاع کے انضمام کی تکمیل اور دوسرے اہم قومی معاملات کیساتھ عوام کو درپیش مشکلات اس بات کی متقاضی ہیں کہ ان کو یکسو کرنے پر بھرپور توجہ دی جائے‘ سیاسی قیادت میں اتفاق رائے کیساتھ متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے اور کارکردگی کی کڑی نگرانی ناگزیر ہے۔

پن بجلی کی پیداوار؟

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا صوبے میں پن بجلی کی پیداوار بڑھانے کو ناگزیر قرار دے رہے ہیں جبکہ پانی وبجلی کے وفاقی وزیر عمر ایوب کا کہنا ہے کہ پیسکو کا ماہانہ خسارہ 4ارب روپے تک پہنچ چکا ہے‘ گزشتہ دور میں صوبے کی حکومت پن بجلی کے حوالے سے وفاق کیساتھ بعض معاملات پر گلہ مند رہی‘ اب جبکہ مرکز اور صوبے میں ایک ہی جماعت برسراقتدار ہے تو لائن لاسز کے کیس میں پیسکو اور صوبائی انتظامیہ مشترکہ کاروائی کرسکتی ہیں جبکہ پن بجلی سے جڑے معاملات وفاق کیساتھ طے ہوسکتے ہیں‘ ایسے میں ضروری ہے کہ مزید وقت ضائع کئے بغیر مشترکہ حکمت عملی طے کی جائے تاکہ عملی نتائج سامنے آسکیں‘ اب بھی اگر بات صرف بیانات واعلانات تک محدود رہی تو لوگوں میں مایوسی مزید بڑھ جائے گی۔