289

جشن صدایام

نیا پاکستان ایک شاندار نعرہ ہے‘ کیوں؟ اسلئے کہ مختلف لوگ اس سے مختلف معانی اخذ کر سکتے ہیں ترقی پسند اس جھیل کے پانی میں ایک جدید ملک کے خواب کی تعبیر دیکھ سکتے ہیں مذہبی عقائد سے وابستگی رکھنے والے ایک اسلامی ریاست کے وعدے کی تکمیل کی امید باندھ سکتے ہیں کچھ زیادہ انتہا پسند افغانستان سے آگے وسطی ایشیا کو بھی فتح کرنے کی تیاریوں کا آغاز کر سکتے ہیں‘محب وطن لوگ کم از کم بھارت کے دانت کھٹے کرنے کا شوق پال سکتے ہیں ‘کوئی چین کے کندھے سے کندھا جوڑ کر ہمالیہ کی کوہ پیمائی پر کمر بستہ ہو سکتا ہے اور کوئی مہاتیر محمد کے ملائیشیا کے قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھنے کے سفر کا آغاز کر سکتا ہے‘ اس قسم کے نعرے کے گرد کسی بھی ملک کی آبادی کی اکثریت کو اکٹھا کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ یہ نعرہ لگانے والا ایک کرشماتی شخصیت ہو یا پھر طاقتور طبقات اسکے مددد گار ہوں ڈونلڈ ٹرمپ اپنی تمام تر برائیوں کے باوجود ایک کرشماتی شخصیت رکھتا ہے امریکی میڈیا پر ربع صدی سے موجود ہونے کے باعث وہ ملک بھر میں جانا جاتا ہے‘ نصف سے کچھ کم آبادی پر مشتمل سفید قوم پرست اسے اپنا ہیرو مانتے ہیں اس نے جب Make America Great Again کا نعرہ لگایا تو ترقی پسند بھی اسکے گروہ میں شامل ہو گئے‘ وہ اسٹیبلشمنٹ مخالف ایجنڈے پر کامیاب ہوا اسکے برعکس عمران خان مقتدر قوتوں کی مدد سے وزیر اعظم بنا مگر اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ مقبولیت نہیں رکھتا‘ اسے یقیناًنظام کہنہ کی ستائی ہوئی نئی نسل کی بھرپور حمایت حاصل ہے‘ ۔

ن نو جوانوں نے ایک ایسے جدید اور ترقی یافتہ ملک کا خواب دیکھا ہے جس میں روز گار کے مواقع ہوں‘ سرکاری محکموں میں رشوت اور کرپشن نہ ہو‘ عام آدمی کو عزت و تکریم حاصل ہواور حکمران عوام کو جوابدہ ہوں‘امریکی قوم پرست نومبر 2016کے انتخابات سے بہت پہلے جانتے تھے کہ ایک طاقتور صدر انکے ایجنڈے پر فوری طور پر عملدرآمد کر سکتا ہے‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف اٹھاتے ہی سات مسلمان ممالک کے باشندوں پر امریکہ کے دروازے بند کر دےئے اس نے دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار اور ڈیپورٹ کرنا شروع کر دیا امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کیلئے اس نے نیٹو کے اتحادی ممالک کے دفاعی بجٹ میں کمی کا اعلان بھی کر دیا اسکے پاس پہلے سو دن میں اپنے انتخابی وعدوں کو پورا کرنے کیلئے آئینی اختیارات بھی تھے‘ایک فعال اور متحرک انتظامی مشینری بھی ملک میں ہر جگہ موجود تھی اور پچھلی ری پبلکن حکومتوں کے تجربہ کار حکمت کار بھی اسکی مدد کیلئے تیار تھے‘ اس تمام بندوبست کے باوجودوہ امریکہ کی قدرو منزلت میں کمی کا باعث بنا ہے مگر اس بات سے اسکے مخالفین بھی انکار نہیں کرتے کہ بے روز گاری چار فیصد سے کم ہے جو کہ تیس برس پہلے رونلڈ ریگن کے دور میں تھی‘ ڈالر کی قیمت عالمی منڈی میں پہلے سے کئی گنا بڑھ چکی ہے‘ معاشی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔

ٹیکسوں میں کمی کے باعث کاروباری طبقہ بڑھ چڑھ کر سرمایہ کاری کررہاہے ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے اسکی حکومت کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے مگر ملک کی اقتصادی ترقی تیز رفتاری سے جاری ہے‘ معروف کالم نگار ڈیوڈ بروکس نے لکھا ہے We are enjoying one of the best economies of our lifetimeقومی معیشت کی اس شاندار کارکردگی کی وجوہات میں سے ایک تو کاروباری طبقے کا حکومت پر اعتماد ہے دوسرا ہر چھوٹے بڑے شہر میں انفرا سٹرکچر یعنی سڑکوں‘ پلوں‘ سکولوں‘ ہسپتالوں‘ ذرائع نقل و حمل اور شہری سہولتوں میں سرمایہ کاری ہے اور تیسری وجہ کارپوریٹ ٹیکسوں میں کمی ہے‘ یورپی ممالک اور چین کیساتھ تجارتی تعلقات کشیدہ ہیں مگر قومی معیشت پر فی الحال اسکے اثرات مرتب نہیں ہوئے ‘ادھر پاکستان میں صورتحال اسکے بالکل برعکس ہے اقتصادی سطح پر اگر چہ کہ ان دونوں ممالک کا موازنہ درست نہیں مگر امریکہ اور یورپ کے علاوہ انڈیا اور چین نے بھی کسی نہ کسی کامیاب اقتصادی ماڈل کو اپنایا ہے کسی بھی ترقی یافتہ ملک نے ایک ہی وقت میں مختلف معاشی نظاموں پر کاربند ہونے کا تجربہ نہیں کیا ہمارے وزیر اعظم سعودی عرب جاتے ہیں۔

تو مدینہ کی فلاحی ریاست کا تصور اخباری سرخیوں کی زینت بنتا ہے چین کے دورے میں چینیوں کے نقش قدم پر چلنے کا عزم صمیم کیا جاتا ہے اورملائیشیا کے مہاتیر محمد تو پچیس برس پہلے ہی ہمارے وزیر اعظم کا رول ماڈل تھے‘ ابھی تک ہم یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ ہم نے اپنی معیشت کو کن خطوط پر استوار کرنا ہے اقتدار سنبھالنے سے پہلے اسد عمر صاحب کے نابغہ عصر ہونے کا شور تھا‘ وہ ابھی تک اس مخمصے میں مبتلاہیں کہ آئی ایم ایف سے قرض لیا جائے یا نہیں‘ لگتا ہے کہ انہیں اور وزیر اعظم صاحب کو یہ فیصلہ کرنے کیلئے مزید سو دن کی ضرورت ہے یہ سو دن کی تلوار کسی دشمن کی سونتی ہوئی نہیں بلکہ وزیر اعظم صاحب نے خود ہی اعلان کیا تھا کہ وہ سو دن بعد اپنی حکومت کی کارکردگی عوام کے سامنے رکھیں گے اس طرح کے پر اعتماد دعوے مغربی ممالک کے حکمران اسلئے کرتے ہیں کہ انکے ملک میں ایک آزمودہ کار انتظامی مشینری موجود ہوتی ہے جو انکے اقتدار سنبھالتے ہی انکے ایجنڈے پر کام شروع کر دیتی ہے اور انکی سیاسی جماعت میں ایسے تجربہ کار افراد کی کمی نہیں ہوتی جو رموز مملکت سے گہری شناسائی رکھتے ہیں‘ اپنے دیس میں صورتحال یہ ہے کہ ارباب اختیار نے بیچارے عمران خان کو اقتدار تو سونپ دیا مگر ایک ایسی ٹیم نہ دی جو کارو بار مملکت کو ڈھنگ سے چلانے کا سلیقہ جانتی ہو‘ نتیجہ یہ ہے کہ آئے روز فواد حسین چوہدری اور فیاض الحسن چوہان اپنے وزیر ریلوے شیخ رشید کی قیادت میں حریفوں کو میدان میں اترنے کا چیلنج دیتے رہتے ہیں آخر کار تکہ بوٹی کرنیوالے انتقام کے جن نعروں پر ووٹ لئے گئے تھے انکے سر سنگیت کو تو بھی جاری رکھنا ہے‘ یہ الگ بات ہے کہ اس قسم کے شور شرابے سے سرمایہ کوسوں دور بھاگتا ہے مگر جب خوابوں ‘ قرضوں‘ نعروں اور یو ٹرنوں کے سوا دینے کو کچھ بھی نہ ہو تو پھر دما دم مست قلندر ہی سہی‘ اس صورتحال میں اصل بات معیشت کی ترقی نہیں رہتی بلکہ اس خواب کی تہی دستی کی ہوتی ہے جو پوری قوم کو دکھایا گیا تھا اور جس کی تعبیر ملتی نظر نہیں آ رہی

اب اس سے بڑھ کے بھلا مفلسی اور کیا ہو
تمام شہر نے اک خواب پر گذارہ کیا

ظاہر ہے جو خواب بہت سے لوگ ملکر دیکھیں اسکی تعبیر سو دنوں میں نہیں مل سکتی مگر وزیر اعظم نے مختلف الخیال اور ناتجربہ کار لوگوں کا جو ہجوم اپنی کابینہ میں اکٹھا کر رکھا ہے وہ تو اگلے تین سو دنوں میں بھی معیشت کے پہیے کو پٹری پر ڈالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا‘ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا اکنامک ماڈل ہے جو پاکستان کی معیشت کو قرضوں سے نجات دلا کر ترقی کے راستے پر ڈال سکے ایسا ماڈل یقیناًموجود ہے اور اسکے لئے ہمیں چین‘ سعودی عرب اور ملائیشیا جانے کی ضرورت نہیں یہ ماڈل پاکستان کے Human Resources کو متحرک کرنے کا ہے اس ملک میں نصف صدی سے کارخانے نہیں لگے ‘بڑی بڑی شاہراہیں صرف سیرو تفریح کیلئے نہیں بنتیں سی پیک سیاحت کیلئے نہیں بن رہا‘ اس پر تجارت ہو گی اگر پاکستان کی مصنوعات نہ ہوں گی تو چین کا مال اس سے گذر کر افریقہ اور یورپ تک پہنچے گا‘آج دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک میں سروس انڈسٹری کو فروغ دینے کی کوشش ہو رہی ہے‘ یہ سروس انڈسٹری کیا ہے اس میں تعمیرات‘ خوراک‘ علاج معالجہ ‘ سیاحت ‘ ٹرانسپورٹ کی صنعتیں شامل ہیں معروف امریکی اکانو مسٹ پال کروگ مین نے تیس نومبر کے کالم میں لکھا ہے Today a prosperous economy can be built on services یعنی آج سروس انڈسٹری کی بنیاد پر خوشحال معیشت کو استوار کیا جا سکتا ہے اس بات کو سمجھنے کیلئے اس پورے کالم کو پڑھنے کی ضرورت ہے انسانی خدمات کی صنعت کو فروغ دینے کیلئے حکومت کو وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کرنا پڑتی ہے جہاں ترقی کا ماڈل یہ ہو کہ وزیر اعظم ترقیاتی بجٹ میں چار سو ارب روپے کی کمی کا اعلان کر دیں وہاں معیشت کی شریانوں میں خون کیسے دوڑے گا وہاں توصرف جشن صد ایام پر ہی گذارہ کیا جا سکتا ہے ۔