164

چین کا اعلان‘ بھارتی بوکھلاہٹ

پاکستان میں تعینات چین کے قونصل جنرل لانگ ڈنگ بن نے کہا ہے کہ چین پاکستان کی معیشت کے استحکام کے لئے نقد رقم دینے کی بجائے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔ نجی ٹی وی کو اپنے انٹرویو میں چینی سفارتکار کا کہنا ہے کہ پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے نئے منصوبوں کی صورت میں بیل آؤٹ پیکیجز فراہم کئے جائیں گے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سی پیک کے 22 میں سے 18 منصوبے سرمایہ کاری کی بنیاد پر تھے جو معیشت کو مضبوط بنائیں گے دوسری جانب سی پیک منصوبے کے آغاز کے ساتھ شروع ہونے والی بھارت کی پریشانی اور بوکھلاہٹ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ بھارت کی اپنی سرزمین پر راجستھان میں ہونے والے نوجوت سنگھ سدھو کے جلسے میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں‘ ساری صورتحال سے پریشان بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے بیان کو گمراہ کن رنگ دے رہی ہیں۔ ان کا مقصد بھارت میں سکھوں کو پاکستان سے متنفر کرنا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دو ٹوک انداز میں کہہ رہے ہیں کہ یہ مذموم سازش کسی صورت کامیاب نہیں ہوگی۔

وہ واضح کرتے ہیں کہ گگلی والا بیان بھارت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے بارے میں تھا جسے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ بھارتی وزیر خارجہ نے اپنی ہرزہ سرائی میں کہا تھا کہ شاہ محمود قریشی کے گگلی والے بیان نے انہیں بے نقاب کردیا ہے اور یہ کہ پاکستان سکھ برادری کا احترام نہیں کرتا۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ اقوام متحدہ کی مقبوضہ وادی سے متعلق قراردادیں بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔ پاکستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت فراہم کئے جاچکے ہیں‘ بھارت میں برسراقتدار مودی حکومت ساری صورتحال سے دنیا کی نگاہیں ہٹانے کے لئے بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ امن کے قیام کے لئے پاکستان کی کوششوں کو بھارت ایک سے زائد مرتبہ سبوتاژ کرچکا ہے اب پاکستان کی معیشت کے استحکام میں سی پیک کا آنا بھارت سے کسی طور ہضم نہیں ہورہا۔ صورتحال کا تقاضا ہے کہ سفارتی سطح پر بھارتی ہتھکنڈوں کا اسی طرح موثر جواب دیا جاتا رہے جیسا کہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز دیا ۔


تجارتی خسارہ‘ صدر مملکت کا مشورہ

وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو ملک کا بجٹ خسارہ 230 ارب روپے تھا جو اب کم ہوکر ایک 130 ارب رہ گیا ہے۔ اکانومی کے استحکام کے لئے ضرورت ایک جانب غیر ملکی قرضوں کا بوجھ کم کرنے کی ہے تو دوسری طرف تجارتی خسارے کو قابو میں رکھنے کی۔ صدر مملکت عارف علوی مسئلے کا حل یہ بتاتے ہیں کہ عوام ملکی مصنوعات خریدیں۔ صدر مملکت کا مشورہ بالکل درست ہے تاہم عوام کو مارکیٹ میں ملکی اشیاء مناسب نرخوں پر فراہم کرنے کے لئے اقدامات بھی ضروری ہیں جس کے لئے پروڈکشن کاسٹ ہر صورت کم کرنا ہوگی تاکہ ایکسپورٹ بڑھ سکے اس مقصد کے لئے توانائی بحران پر قابو پانے کے ساتھ فارورڈنگ کے اخراجات بھی کنٹرول کرنا ہوں گے۔ ملک میں مارکیٹ کو ایک ضابطے میں رکھنا ہوگا۔ چیک اینڈ بیلنس کا نظام دینا ہوگا۔ صنعتوں کو ارزاں نرخوں پر بجلی اور گیس کی فراہمی کے لئے اقدامات اٹھانا ہوں گے جن میں پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کیلئے منصوبے ناگزیر ہیں۔