120

وزیراعظم کا انٹرویو اور امکانات

وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں برسرزمین حالات کا تجزبہ کرنے کے ساتھ اپنی حکومت کی پالیسیوں کے خدوخال بھی اجاگر کئے ہیں وزیراعظم نے موجودہ حالات کے تناظر میں بعض امکانات بھی ظاہر کئے ہیں۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک میں مڈٹرم انتخابات ہوسکتے ہیں جبکہ وفاقی کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ اگلے 10 روز میں متوقع ہے۔ وزیراعظم دو ٹوک الفاظ میں کہتے ہیں کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو کسی صورت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نہیں بنایا جائے گا۔ وزیراعظم یہ بھی کہتے ہیں کہ فوج ہمارے منشور کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ زلفی بخاری اور ڈی پی او پاکپتن کے کیسوں میں چیف جسٹس آف پاکستان کے ریمارکس پر وہ افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ 100 روزہ پلان سے متعلق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اتنے عرصے میں تو ایک پل بھی نہیں بن سکتا تاہم حکومت کی سمت طے ہوتی ہے۔ عین اسی روز جب عمران خان سینئر صحافیوں کے ساتھ بات چیت کررہے تھے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم پاکستان کو خط ملا جس میں افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے تعاون مانگا گیا۔ دریں اثناء اپوزیشن جماعتوں میں ن لیگ‘ پی پی اور اے این پی کی جانب سے قبل از وقت انتخابات سے متعلق عندیے کو مسترد کردیا گیا۔

وطن عزیز میں گزشتہ دور حکومت سے جاری سیاسی تناؤ کی شدت میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا ہے اور سیاسی گرما گرمی کے نئے منظرنامے میں عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لئے قائم پارلیمانی کمیٹی ٹی او آرز پر ڈیڈ لاک کا شکار ہے اپوزیشن کا کہنا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کو روکا گیا تو دوسرا راستہ احتجاج ہوگا۔ ایسا ہی ڈیڈلاک سابقہ دور میں پانامہ کیس کے حوالے سے قائم کمیٹی میں ٹی او آرز پر رہا دوسری جانب اکانومی کے حوالے سے چیلنج اپنی جگہ ہیں۔ اس صورتحال میں سب سے اہم بات سیاسی استحکام کی ہے۔ اس کے لئے حکومت اور اپوزیشن کو اپنے تمام اختلافات کے باوجود اہم قومی امور پر مل بیٹھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ اس وقت امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑ ہی گئی ہے۔ اب امن کے قیام کے لئے پاکستانی کاوشوں کا ذکر بھی کیا جارہا ہے۔ ایسے میں ضرورت سیاسی استحکام کی ہے اسی سے حکومت کو اپنی حکمت عملی طے کرنے کے لئے وقت ملے گا اور عوام کے لئے ریلیف ممکن ہوسکے گا۔


چیف جسٹس کے ریمارکس

خیبرپختونخوا میں مینٹل ہسپتال اور دیگر شفاخانوں سے متعلق سپریم کورٹ کے ریمارکس میں یہ تک کہا گیا ہے کہ پشاور کے مینٹل ہسپتال میں انسانوں کو جانوروں سے بھی بدتر حالت میں رکھا جارہا ہے۔ یہ ریمارکس ہسپتالوں کے فضلے کی تلفی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں دئیے گئے ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے ریمارکس اس بات کے متقاضی ہیں کہ ذمہ دار ادارے اپنے چیک اینڈ بیلنس کے نظام پر نظرثانی کریں جہاں تک ہیلتھ سیکٹر میں اصلاحات کا تعلق ہے تو خیبرپختونخوا حکومت کے اقدامات ریکارڈ پر موجود ہیں اب بات صرف ان کو ثمرآور بنانے کی ہے اور یہ بغیر چیک اینڈ بیلنس کے کسی طور ممکن ہی نہیں جس کے لئے فول پروف نظام دینا ہوگا۔