214

سپریم کورٹ کا سانحہ ماڈل ٹاؤن پر نئی جے آئی ٹی بنانے کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ماڈل ٹاؤن کیس میں پنجاب حکومت کو نئی جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے نوٹس نمٹادیا۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے ماڈل ٹاؤن شہید ہونے والی خاتون کی بیٹی کی درخواست پر سماعت کی۔ پاکستان عوامی تحریک کےسربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور انہوں نے خود دلائل دیئے۔

طاہرالقادری نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ واقعہ کے روز 10 افراد جاں حق اور 71 زخمی ہوئے تھے، ہمارے اعداد و شمار کے مطابق 510 افراد زخمی ہوئے، پہلی ایف آئی آر پولیس کی مدعیت میں درج ہوئی اور پہلی جے آئی ٹی پولیس کی ایف آئی آر پر بنی۔ طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ جسٹس نجفی کمیشن بھی بنا جس کی رپورٹ بڑی مشکل سے ملی، ساڑھے چار سال سے انصاف نہیں ملا، اب محسوس ہوتا ہے انصاف کا دروازہ کھل گیا ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں کہہ چکا ہوں اس ٹرائل کی روزانہ سماعت ہو، آپ نے درخواست دی کہ ہفتے میں دو دن سنیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ٹرائل میں کتنے گواہ بیان ریکارڈ کرا چکے ہیں، طاہرالقادری نے بتایا کہ 157 گواہ تھے اور 23 گواہان کے بیان ہو چکے ہیں۔ جسٹس آصف سعید نے کہا کہ مشتاق سکھیرا کو ملزم بنانے کے بعد تمام بیانات دوبارہ ہوں گے۔

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے دلائل میں کہا کہ ٹرائل دوبارہ صفر کی سطح پر آگیا ہے، لارجر بنچ کی تشکیل سے مظلوموں کو انصاف کی امید ہوئی ہے۔ اس موقع پر سانحہ میں جاں بحق خاتون تنزیلہ کی بیٹی بسمہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ طاہرالقادری کے بعد ان کی قانونی ٹیم کی جانب سے بھی دلائل دیئے گئے اور کہا گیا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) پر اعتماد نہ ہونے کے سبب گواہان پیش نہیں ہوئے۔

اس پر چیف جسٹس پاکستان نے پنجاب حکومت کا مؤقف جانا تو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ پنجاب حکومت واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات چاہتی ہے، اسے نئی جے آئی ٹی پر کوئی اعتراض نہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل کے مؤقف پر جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس  دیئے کہ اگر اعتراض نہیں تو جائیں اپنا کام کریں جب کہ ساتھ ہی عدالت نے حکم دیا کہ پنجاب حکومت سانحہ ماڈل ٹاؤن پر نئی جے آئی ٹی بنائے، اس کی فائنڈنگز کو سامنے لایا جائے اور ٹرائل کا حصہ بنایا جائے۔ عدالت نے نئی جے آئی ٹی کے حکم کے ساتھ نوٹس کو بھی نمٹادیا۔

طاہرالقادری کی میڈیا سے گفتگو

دوسری جانب عدالتی فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طاہرالقادری نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے ثابت کردیا کہ عدل کے چراغ ابھی گل نہیں ہوئے، سپریم کورٹ نے آج انصاف کا بول بالا کردیا اور مظلوموں کی داد رسی کی۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے حکومت پنجاب نے نئی جے آئی ٹی بنانے کی یقین دہانی کرائی اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ جے آئی ٹی بننی چاہیے۔ طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے حکومت پاکستان کے لیے ہدایت جاری ہوگئی، عدلیہ کے فیصلے میں پنجاب حکومت نے جے آئی ٹی بنانے کی مخالفت نہیں کی۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کا پس منظر

17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آپریشن کیا گیا۔

پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت اور پولیس آپریشن کے نتیجے میں 14 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین بھی شامل تھیں جبکہ پولیس کی فائرنگ سے درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنائی گئی جس کی رپورٹ بھی منظرعام پر آچکی ہے۔