710

قانون میں تبدیلی کیلئے 6 نئی تجاویز تیار کی ہیں ٗ عمران خان

اسلام آباد۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے نئی 6 قانون سازی تیار کی ہیں جنہیں پارلیمنٹ میں لے کر جایا جائے گا۔

لا اینڈ جسٹس کمیشن کے زیر اہتمام 'ملک میں بڑھتی آبادی پر توجہ ' کے عنوان پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قانون کی حکمرانی معاشروں کی ترقی کا راز ہے، ہم نے قانون میں تبدیلی کے لیے 6 نئی تجاویز تیار کی ہیں، پوری کوشش کر رہے ہیں کہ قانون سازی کے ذریعے پرانا نظام عدل تبدیل کریں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہماری حکومت نے ابتدائی 100 روز میں ہی نئی قانون سازی تیار کرلی ہے۔

و زیر اعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلا وزیرِ اعظم ہوں جسے چیف جسٹس نے دعوت دی ہے ، میں شکر گزار ہوں کہ میں عدالت میں پیش نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ ریاستِ مدینہ کی کامیابی قانون کی حکمرانی ہی تھی، اور وہی معاشرہ ترقی کرتا ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ ہمارے لیے ڈیمز کی پلاننگ نہیں کی گئی اور پانی کے مسئلے کو اٹھایا لیکن یہ معاملات حل کرنا جمہوری حکومت کا کام تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جمہوری حکومتوں نے اس لیے یہ مسائل حل نہیں کیے کیونکہ وہ حکمران اپنے 5 سال کے دورِ اقتدار کا سوچتا تھا اس نے طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں کی۔پاناما پیپرز کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے ادارے کسی اعلی شخصت کے خلاف کام نہیں کرتے تھے، تاہم سپریم کورٹ نے پہلی مرتبہ ایک موجودہ وزیرِاعظم کو احتساب کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا سب کو قانون کے دائرے میں لانے کا کام سپریم کورٹ نے شروع کیا ، اس سے پہلے کسی نے نہیں سوچا تھا کہ ایک وزیراعظم بھی قانون کے نیچے آئے گا۔انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے ایک وزیرِ اعظم کے ماتحت ادارہ ہے لیکن پھر بھی وہ بنی گالا کیس میں مجھے سے سوالات کرتا ہے اور عدالت کو اس سے آگاہ کرتا ہے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سب کو قانون کے دائرے میں لانے کا کام سپریم کورٹ نے شروع کیا اور طاقتور کو قانون کے دائرے میں لانے کا آغاز پاناما کیس سے ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ برطانیہ میں میگنا کارٹا بادشاہ کو قانون کے نیچے لانا چاہتا تھا، بادشاہ کو قانون کے نیچے لانیکی سوچ سے برطانیہ میں قانون کی جدوجہد شروع ہوئی۔وزیراعظم نے کہا جمہوری حکومتیں صرف 5 سال کا سوچتی تھیں کہ اگلا الیکشن کیسے جیتیں، جب منگلا اور تربیلا ڈیم بنے تب پاکستان میں آگے کا سوچا جاتا تھا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میریکانوں نے یہ بھی سنا کہ اچھا ہوا بنگلہ دیش الگ ہوگیا وہ بوجھ تھا لیکن آج وہی بنگلہ دیش آگے کی طرف جارہا ہے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس میں ثاقب نثار نے اپنے خطاب میں کہا کہ آبادی پر کنٹرول کے لیے ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے جس نے بہت اچھی تجاویز پیش کیں، عدلیہ کے پاس ان تجاویز پر عملدرآمد کا کوئی میکنزم نہیں، اگر کوئی اس پر عملدرآمد کراسکتا ہے تو وہ وزیراعظم ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جو کردار ادا کرنا تھا اس کے لیے حصہ ڈال دیا اور ایگزیکٹو کی ذمہ داری ہے، کسی بھی ترقی یافتہ ملک یا معاشرے کے لیے تعلیم، قانون کی بالادستی، ایمانداری اور مخلص حکومت ضروری ہے۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ہر کام کرنے کے لیے ٹول ہوتے ہیں، ہمارا کنٹریکٹ لا 1872 کا قانون ہے، اس ٹول کو لے کر ہم 2018 میں اپلائی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم قانون سازی نہیں کرسکتے یہ کام پارلیمنٹ کا ہے اور پارلیمنٹ نے ہمیں ٹول دینے ہیں، اتنا وقت گزر چکا اور پرانے قوانین کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ نہیں کیا گیا، آپ ہمیں ٹولز دے دیں، آج کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا ہمیشہ کہا آئین کے بعد اگر کوئی سپریم ادارہ ہے تو وہ پارلیمنٹ ہے، امید ہے نیک نیتی سے چند سالوں میں خوابوں کی تعبیر پالیں گے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ وسائل محدود اور ضروریات زیادہ ہیں،تیزی سے بڑھتی آبادی پر فوری توجہ کی ضرورت ہے،عمل درآمد کا وقت آگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے گذشتہ 60 سال کے دوران آبادی کنٹرول کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، بڑھتی ہوئی آبادی سے ہمارے وسائل مسلسل دباو کا شکار ہیں۔جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ آئین کے بعد پاکستان میں سپریم ادارہ پارلیمنٹ ہے، وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹیرینز اپنا اصل کام یعنی قانون سازی کریں،عدالتی نظام کی بہتری کے لئے پارلیمنٹ کا تعاون درکار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تعمیرات کی بھرمار سے سبزہ زار میں کمی آگئی، گزشتہ 40 سال سے پاکستان میں کوئی ڈیم نہیں بنا،آنے والے سالوں میں پانی کی کمی سے تباہ کن اثرات ہوں گے،2025 میں پانی کی قلت بحران کی صورت اختیار کرجائیگی۔

چیف جسٹس نے یہ بھی کہاکہ کسی بھی معاشرے کے لیے اہم ترین چیز تعلیم ہے، آگاہی نہ دی گئی تو 30سال کے بعد پاکستان کی آبادی 45 کروڑ تک پہنچ جا ئے گی،پاکستان کی بقا کو یقینی بنانے کے لئے آبادی کو کنٹرول کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی نظام میں بہتری کیلئے تعاون درکار ہے ،انصاف کی فراہمی کیلئے ججز کی تعداد کو بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔چیف جسٹس نے بتایا کہ مجھے اپنی جوانی میں کچھ وقت ملا کہ میں دانش ور اور شاعر استاد دامن کی صحبت میں وقت گزارپایا۔پاکستان میں عدالتی نظام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام میں گزشتہ 4 سے 5 سال کا بوجھ نہیں ہے بلکہ اس پر پاکستان بننے سے نہیں بلکہ صدیوں سے یہ بوجھ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس عدالتی نظام میں جن قانون کو استعمال کیا جارہا ہے کہ وہ پاکستان بننے سے بھی پہلے کے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے، ہم قانون سازی نہیں کر سکتے، لیکن چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ ہمیں قانون سازی کرے۔انہوں نے وزیرِ اعظم پاکستان سے درخواست کی کہ پاکستان کے پرانے عدالت نظام اور قوانین میں تبدیلی کروائیں، اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ کو بہترین عدالتی نظام فراہم کیا جائے گا۔آبادی کنڑول کرنے سے متعلق مہم کے سلسلے میں چیف جسٹس نے بتایا کہ یہ میرے اکیلے کا نہیں ہے بلکہ سپریم کورٹ کا ہے۔کانفرنس سے مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بڑھتی آبادی کا مسئلہ علم کی کمی کی وجہ سے ہے، دیہات میں کہا جاتا ہے 5 بیٹے ہوگئے تو مجھے کچھ کمانا نہیں پڑے گا، جتنے بچے پیدا ہوجائیں اتنے مزدور ہوں گے، یہ بچے کے پیدا کرنے کے لیے بہت بڑا ظلم ہے۔مو

لانا طارق جمیل نے کہا معاشرتی دبا اور غربت بھی آبادی میں اضافے کی وجہ ہے، یہاں بچہ اس لیے پیدا کیا جاتا ہے میری ساس کیا کہے گی، لڑکا کہتا ہے کہ اولاد نہ ہوئی تو دوست کیا کہیں گے، یہ بچے کے لیے بہت بڑا ظلم ہے۔مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا مدینہ کی ریاست بنانے والا اللہ ہے حکمران کی نیت سے بڑا فرق پڑتا ہے، یہاں مدینہ کی ریاست کا تصور پیش کرنے پر عمران خان کو سلام پیش کرتا ہوں اور وہ پہلے وزیراعظم ہیں جنھوں نے مدینہ کی فلاحی ریاست بنانے کا اعلان کیا۔ مولانا طارق جمیل نے کہا حکمرانوں کی نیت کے اچھے یا برا ہونے سے ملک پر اثر پڑتاہے، جب بنیادیں بہتر ہوں گی تو ذیلی مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ فلاحی ریاست کی بنیاد عدل، امن اور مضبوط معیشت اور علم ان تینوں کی ماں ہے، فلاحی ریاست کے بنیادی اجزا عدل، امن اور بہتر معیشت ہے، فلاحی ریاست کا پہلا تصور ابراہیم علیہ السلام نے پیش کیا، امن والی ریاست اس وقت بنتی ہے جب نظام عدل مضبوط ہو۔مولانا طارق جمیل نے کہا کہ معزز ججز سے ہی سنا کہ ہمارا قانون بہت کمزور ہے اور ایک کیس کا فیصلہ کرنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں، اس میں بہتری کس طرح لائی جائے اس حوالے سے یہاں بیٹھے ججز بہتر بتا سکتے ہیں۔مولانا طارق جمیل نے کہا کہ پولیس مضبوط اور سیاسی لوگوں کے تسلط سے آزاد ہونی چاہیے، پولیس پر سیاسی لوگوں کا تسلط ہوگا تو انصاف نہیں ملے گا، تاجر سچ بولیں، صحیح تولیں، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی نہ کریں۔

ان سے قبل سیموزیم خطاب سیکریٹری صحٹ زاہد سعید کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی آبادہی پر قابو پانے کے لیے قانون سازی کے لیے کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔سیکریٹری صحت نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کی آبادی 20 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اور ممکنہ طور پر آئندہ 30 سال کے دوران اس میں دگنا اضافہ ہوجائے گا۔زاہد سعید نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے اور اس میں سب سے پہلا اقدام ٹاسک فورس کی تشکیل ہے۔

اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے امریکی ماہر بہبود آبادی ڈاکٹر جان بونگاٹز نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ کچھ دہائیوں کے دوران آبادی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے منصوبہ بندی سے متعلق مہمات کی ضرورت ہے۔جان بونگاٹز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ آبادی سے متعلق سمپوزیم ایک اچھا اقدام ہے۔سمپوزیم کے دوران ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں پاکستان کی افزائش آبادی اور اس کے مسائل کو دکھایا گیا۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ 70 کی دہائی میں پاکستان کے پاس بہبود آبادی اور افزائش آبادی سے متعلق دنیا کا سب سے بہترین پروگرام تھا، اور اس سیکٹر میں پاکستان میں فقدان نظر آتا ہے