151

معاشی بحران ختم ہوگیا؟

وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری معاشی بحران ختم ہوگیا‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ تمام اقتصادی اعشاریے بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں لہٰذا غلط فہمیاں پھیلانے سے گریز کیاجائے‘ وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ملک میں مالی خسارہ ختم ہوچکا ہے‘ وزیر خزانہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایکسچینج ریٹ کا فیصلہ سٹیٹ بینک کا اختیار ہے عین اسی روز جب وزیر خزانہ اچانک یہ بتا رہے تھے کہ معاشی بحران ختم ہوچکا ہے‘ ہیلتھ سروسز کے وفاقی وزیر عامر محمود کیانی نے سگریٹ اور تمباکو کی دیگر مصنوعات کیساتھ سوفٹ ڈرنک پر نیا ٹیکس عائد کرنے کاعندیہ دیا‘ اس ٹیکس کی شرح 5سے 15روپے تک ہوگی‘ وزیر صحت کا کہنا ہے کہ گناہ ٹیکس کی آمدن ہیلتھ پروگرام پر خرچ ہوگی‘ عین اسی روز ڈیڑھ سال میں 18اداروں کی نجکاری کا عندیہ بھی دیدیا گیا جبکہ پی آئی اے اور یوٹیلٹی سٹورز سمیت 15اداروں کی نجکاری موخر کردی گئی ہے‘ اسی روز اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چینی کا برآمدی کوٹہ 11لاکھ ٹن کردیا جبکہ دوسری جانب جاری اخراجات میں 10فیصد بچت کا فیصلہ بھی کیاگیا‘ ملک میں بظاہر بیرونی قرضوں کا حجم بڑھ رہا ہے‘ گرانی رواں مالی سال کے 5ماہ میں 6.02فیصد بڑھی ہے‘۔

سرکاری اعداد وشمار ایک جانب‘ مارکیٹ میں صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے‘ حکومت کو معیشت کے حوالے سے بڑا چیلنج ضرور ملا اس سے نمٹنے کیلئے حکومتی اقدامات بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں‘ وجہ کچھ بھی بتائی جائے اور فیصلے کااختیار کسی بھی ادارے کے پاس ہو‘ روپے کی قدر میں کمی ضرور آئی ہے اس سے غیر ملکی قرضوں کا والیوم ضرور بڑھا ہے‘ آئی ایم ایف سے بات آگے بڑھے یا نہ بڑھے دوست ممالک سے پیکج لئے گئے‘ اس سب کیساتھ ملک میں غریب اور متوسط شہری مہنگائی کے ہاتھوں سخت پریشان ضرور ہے‘ اب اگر وزیر خزانہ یہ کہتے ہیں کہ معاشی بحران ختم ہو چکا تو اگلے مرحلے پر عوام کے ریلیف کیلئے اقدامات کی فائل بھی کھول دیں‘ بجلی‘ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی کیساتھ حکومت کی جانب سے سبسڈی دی جائے‘ مارکیٹ کنٹرول کا انتظام کیاجائے‘ یوٹیلٹی بلوں کا حجم کم کیاجائے‘ توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے اقدامات کیساتھ بجلی وگیس کی لوڈشیڈنگ ختم کرکے عملی ریلیف دیاجائے‘ اداروں کی اصلاح کرتے ہوئے بجلی وگیس چوری پر قابو پایا جائے‘ لوگوں کو بنیادی سہولیات کیساتھ بہتر خدمات فراہم کی جائیں تاکہ ریلیف کا وہ خوشگوار احساس ہو جس کی توقع عام شہری حکومت سے وابستہ کئے ہوئے ہے۔

وزیراعلیٰ کی ڈیڈلائن

وزیراعلیٰ محمود خان واضح اور دو ٹوک اعلان کرتے ہیں کہ پشاور کا بس منصوبہ مارچ 2019ء میں مکمل ہوگا اور اس سے اگلے ماہ یعنی اپریل میں بسیں چلنا شروع ہوں گی‘ وزیراعلیٰ کا اعلان قابل اطمینان ہے تاہم یہ ڈیڈلائن صرف ایک پراجیکٹ تک محدودنہیں رہنی چاہئے‘ صوبے کیلئے برن سنٹر‘ کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ‘ نشترآباد میں مکمل عمارت کا مستقبل بچوں کیلئے علاج گاہ جیسے منصوبوں کو مکمل آپریشنل کرنے کیلئے بھی حتمی تاریخ کا اعلان ضروری ہے‘ بہتر تو یہی ہے کہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ایک علیحدہ سیٹ اپ بناکر سرکاری منصوبوں کی مانیٹرنگ کا انتظام کیاجائے تاکہ یہ بروقت مکمل ہوکر آپریشنل ہوسکیں اور لوگوں کو سہولت ملے‘ کوئی فنڈز لیپس نہ ہوں نہ ہی تعمیراتی اخراجات میں گرانی کے باعث اضافہ ہو۔