341

خدارااس قوم پر رحم کیجئے

ڈاکٹرنعیم چونکہ اب ولایتی ہوگئے ہیں اسلئے ہر دفعہ انگریزوں کی کوئی نئی اختراع‘ رسم یا روایت سے آگاہ کرتے رہتے ہیں‘ڈاکٹر صاحب میرے کلاس فیلو ہیں اور انگلینڈ میں بہت مشہور سپیشلسٹ ہیں گزشتہ ہفتے چھٹی پر پشاور آئے تو ہم چند دوستوں نے ملکر پرانی یادیں تازہ کیں‘ کافی لمبی نشست رہی‘ سکو ل اور کالج کے دن یاد آئے نعیم‘ میں اور سلمان سکول اور ایڈورڈز کالج کے زمانے سے گرم سرد ایک ساتھ گزارتے رہے میڈیکل کالج کے پانچ چھ سال‘ افغان مہاجرین کی خدمت‘سپیشلسٹ ٹریننگ‘ ولایت کاسفر‘ قیام‘ غرض ہم نے اپنی جوانی ساتھ ہی گزاری اسلئے یادوں کی بارات رات گئے تک جاری رہی‘ ہم سب یادوں میں ایسے کھوگئے کہ جب ریسٹورنٹ بند ہونیکا وقت ہوا تو ہم بادل نخواستہ اٹھ کھڑے ہوئے‘ ان کے بچے تو بچپن اور لڑکپن وہیں گزار چکے ہیں تو وہ ہم سے زیادہ برطانوی کلچر سے واقف ہیں اسکے مقابلے میں انگلینڈ میں ہمارے ابتدائی دنوں میں برطانوی آداب سے ناواقفیت ہمیں کئی مرتبہ شرمندہ کرواچکی تھی اس دفعہ نعیم نے بڑا دلچسپ واقعہ سنایا وہ ایک ویک اینڈ پر کسی دکان پر گئے اور خریداری کرنز چاہی لیکن سیلز مین کیساتھ مختصر سی گفتگو ناخوشگوار احساس پر اختتام پذیر ہوئی ہمارے نعیم خان بہت ہی مرنجان مرنج طبیعت کے مالک ہیں سیلزمین نے ان کو خریداری میں مدددینے سے انکار کردیا نعیم پہلے تو بہت جزبز ہواپھر اپنا قصور پوچھا کہ کیا وہ پیسے نہیں دے رہا سیلزمین نے بتایا کہ آپ نے میرے ساتھ بد تمیزی کی ہے نعیم نے حیرت سے پوچھا کہ وہ کب اور کیسے؟

سیلزمین نے بتایا کہ آپ نے درشت اور تیز آواز میں سیلز مین کو مخاطب کیا ، اسلئے۔ نعیم اپنے بیٹے کی طرف متوجہ ہوا اور اس سے مدد چاہی نعیم کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اسکے اپنے بیٹے نے سیلز مین کی تائید کی‘ بیٹے نے والد کو بتایا کہ آپکی آواز کافی بلند تھی جو برطانوی معاشرے میں بدتمیزی کی نشانی ہے۔ مجھے یاد آیا کہ انگلینڈ میں قیام کے دوران ہمیں اس بات کا احساس جگہ جگہ ہوتا رہا۔ ٹیلیفون کی مثال ہی لیں ہمیں جب بھی فون پر گفتگو کرنی ہوتی تھی ہم احتیاط کرتے کہ کسی اور کی سمع خراشی کی وجہ نہ بنیں ہمیں ان آداب کی عادت نہیں تھی اسلئے محفل میں ہمیں ہر وقت چوکنا رہنا پڑتا ہمارے مقابلے میں انگریز چونکہ بچپن سے ان عادات کے عادی تھے اسلئے یہ ان کیلئے معمول تھامہذب قوموں کا شعار ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت اسی طرح کرتے ہیں جس طرح کے معاشرے کو وہ بنانا چاہتے ہیں معاشرے کی ابتدا بچے سے ہوتی ہے بچے کی پہلے درسگاہ اسکی ماں کی گود ہوتی ہے یوں جس گھر میں ایک بھی بچہ ہوتا ہے وہاں تمام خاندان نہایت احتیاط کیساتھ بول چال اور دوسرے اقدامات اٹھاتا ہے کہ بچے کے ذہن پر کوئی منفی تاثر نہ چھوڑ سکے کوئی بھی والدین بے شک چین سموکر ہوں لیکن اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ پینے سے گریز کرتے ہیں شراب سے بھی احتراز کرتے ہیں۔ زبان کا بھی اسی طرح خیال رکھتے ہیں۔

سکول بچوں کی دوسری درسگاہ ہوتی ہے ہم بھی اپنے بچوں کو اچھے سے اچھے سکول میں داخل کرتے ہیں لیکن ہماری ساری توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ بچے انگریزی کتنا فر فر بول سکتے ہیں تاہم تمام مہذب ممالک میں بچوں کی اخلاقی تربیت پر زیادہ زور دیا جاتا ہے روزمرہ کی زندگی میں شامل کرنے کیلئے انکو قطار میں انتظار کرنے کی تربیت دی جاتی ہے پلیز اور تھینک یو سکھائے جاتے ہیں غلطی پر سوری کہنا سکھایا جاتا ہے ایک دوسرے کیساتھ نظر ملنے پر مسکراہٹ سکھائی جاتی ہے جھوٹ کو نہایت بری عادت کے طور پر اجاگر کیا جاتا ہے بچہ کوئی شرارت بھی کرے تو سچ بولنے پر اسے معاف کردیا جاتا ہے یہی بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو سڑک پار کرتے وقت زیبرا کراسنگ ہی پر کراس کرتے ہیں اور وہ بھی اس وقت جب ٹریفک کا اشارہ اجازت دے ‘معمر اور معذور لوگوں کو عزت اور انکو سہولت دیتے ہیں گھورنا اس معاشرے میں برا سمجھا جاتا ہے ‘کسی شخص کے چہرے پر کتنا ہی بڑا بدنما داغ ہی کیوں نہ ہو کسی بھی محفل میں اسے نظروں ہی نظروں میں تماشا نہیں بنایا جاتا۔اب ان لوگوں کا موازنہ اپنے لوگوں سے کیجئے سنجیدہ سے سنجیدہ محفل میں بھی کسی کا فون آجائے تو نہایت ہی بلند آواز سے اسکا جواب دینا بہت ہی ضروری خیال کیا جاتا ہے مسجد کا تقدس ہو یا کلاس روم کا رعب ہو یا ڈاکٹرکے پاس اہم ملاقات، فون کا جواب سب پر مقدم سمجھا جاتا ہے گزشتہ روز ہی کی بات ہے ہم ایک سائنسی کانفرنس میں بیٹھے ہوئے تھے بیرون ملک سے آئے ہوئے مہمان ’سٹیٹ آف دی آرٹ ‘ لیکچر دے رہے تھے کہ میرے قریب بیٹھے ہوئے ایک سرجن کا فون بجا انہوں نے نہایت بے تکلفی سے فون جیب سے نکالا اور بلند آواز سے جواب دینے لگا وہ اتنی بلند آواز سے گفتگو کررہا تھا کہ مقرر کو اپنی تقریر روکنی پڑی لیکن مجال ہے جو فون پر گفتگو کرنے والے پر کوئی اثر ہوا ہو۔ ہم مذاق میں اپنے ایک دوست کو جو فون پر بلند آواز سے بات کرنے کے عادی ہیں۔

بتاتے ہیں کہ بس فون جیب میں رکھ لیں آپکی آواز ویسے بھی تو وہاں پہنچ رہی ہے۔ دوران گفتگو بلند آواز کے ساتھ ساتھ، ایک بری عادت ہاتھ ہلانے کی بھی ہے بلکہ عام گفتگوبھی تب تک تشنہ رہتی ہے جب تک اسکے ساتھ دونوں ہاتھوں کی تیز حرکت شامل نہ ہو۔ بعض اوقات توآپکے پیچھے سے ایک نعرے کی صورت میں ’السلام علیکم ‘ کی آواز سنائی دیتی ہے آپ وعلیکم السلام کہتے ہوئے پیچھے مڑ کردیکھتے ہیں تو کوئی اجنبی فون کان پر رکھ کر کسی اور سے گفتگو کر رہا ہوگاوہ لوگ جو باتوں میں وزن ڈالنے کیلئے ہاتھوں کو حرکت دیتے رہتے ہیں کبھی کبھار بے احتیاطی سے پاس سے گزرنے والے کو ہاتھ بھی رسید کر دیتے ہیں۔بلند آواز سے گفتگو کرنا اب ہمارا قومی شعار بن گیا ہے۔ خواہ وہ سیاسی لیڈروں کی بڑھک ہو یا ٹی وی چینلوں پر اینکروں کی چیخ و پکار۔ حتی ٰ کہ اب تو خبروں کو بھی چیخ چیخ کر پڑھا جاتا ہے دوسری طرف ہمارے پاکستانی چینل اپنے بنیادی والیوم بھی بڑھاکر رکھتے ہیں اسکا مجھے یوں اندازہ ہوا کہ گزشتہ سال امریکہ سے ان کو وارننگ مل گئی کہ اپنا بنیادی والیوم دوسرے ٹی وی چینلوں کے برابر رکھیں۔روزمرہ کی بول چال ہو یا گاہک اور دکاندار کی گفتگو، ٹی وی اور ریڈیو کی نشریات ہوں ، بسوں کے کان پھاڑ ہارن ہو یا موٹر سائیکلوں کے پھٹے سائلنسر‘ یہ سب اس قوم کے اعصاب پر سوار ہیں اور اس کو پاگل بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے۔ خدا را اس قوم پر رحم کیجئے۔