390

خطرناک تعطل

یکم جنوری 2018ء کوامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ امریکہ پچھلے پندرہ برس میں پاکستان کو 33بلین ڈالر بطور امداد دینے کی حماقت کر چکا ہے اور بدلے میں پاکستان نے ہمارے لیڈروں کو محض احمق سمجھتے ہوئے ہمیں دروغ گوئیوں اور دھوکوں کے سوا اور کچھ نہیں دیا‘ جن دہشت گردوں کو ہم افغانستان میں ڈھو نڈتے ہیں‘ انہیں پاکستان نے اپنے یہاں محفوظ ٹھکانے فراہم کئے ہوتے ہیں‘ یہ کام مزید نہیں چلے گا‘اس کے بعد جولائی میں امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے بھی یہی بات کہی کہ امریکی صدر پاکستان کے ساتھ ایک بار پھرکام کرنے کی کوشش کریں گے ۔ تاہم اگر پاکستان نے دہشت گرد گروہوں کی حمایت جاری رکھی اور اپنا رویہ نہ بدلا تواس ضمن میں ہر ضروری اقدام اٹھانے کیلئے بھی صدر ٹرمپ تیار ہیں‘ جم میٹس نے متنبہ کیا تھا کہ اگر پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے میں ناکام رہا تو نہ صرف یہ کہ غیر نیٹو حلیف کے طور پر اسکی حیثیت ختم ہو جائے گی بلکہ عالمی سطح پر یہ سفارتی تنہائی کا بھی شکار ہو سکتا ہے‘جب یہ دھمکی بھی کارگر ثابت نہ ہوئی اور مطلوبہ نتائج اس سے حاصل نہیں ہو پائے تو امریکی صدر نے یہ کہتے ہوئے پاکستان کیلئے تمام تر مالی امداد روک دی (1.3 بلین ڈالرز) کہ پاکستان ہمارے لئے کچھ نہیں کرتا، یہ لوگ ذرا سا بھی کچھ نہیں کرتے! پچھلے ہفتے پاکستان کی جانب سے ایسی تمام دھمکیوں کے نظر انداز کئے جانے کے بعد صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم عمران خان کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے افغان جنگ کے مسئلے کی مذاکراتی تحلیل کیلئے اسلام آباد کا تعاون چاہا ہے صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ افغان مسئلے کی تحلیل اس خطے میں انکی ا ہم ترین ترجیح ہے۔

تاہم اس کے ساتھ ساتھ پاکستان پر امریکہ کی جانب سے دباؤ بھی مسلسل بڑھتا جا رہا ہے‘نکی ہیلی نے بھی حال ہی میں پاکستان کیخلاف زہر افشانی کی ہے‘یہ موصوفہ اقوام متحدہ میں امریکی سفارت سے سبکدوش ہونیوالی ہیں اور 2020ء میں صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتی ہیں‘ وہ کہتی ہیں کہ ہم نے پاکستان کو اربوں ڈالر دئیے لیکن وہ لوگ پھر بھی دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں اور یہ دہشت گرد پھر ہمارے ہی فوجیوں کو قتل کرتے ہیں‘ اب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کر کے بلیک لسٹ کر دیا ہے کہ جہاں مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہوتی ہے‘FATFکی بلیک لسٹ میں شامل ہونے کا خطرہ بھی پاکستان کے سر پر منڈلا رہا ہے‘امریکہ کا مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ سترہ سال سے افغانستان میں طالبان کیساتھ جنگ کے دوران اس نے کھربوں ڈالر خرچ کئے ہیں اور اسکے ہزاروں فوجیوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ افغان نیشنل آرمی بھی امریکہ نے ہی نہ صرف یہ کہ بنائی بلکہ اسے تربیت اور اسلحہ بھی اسی نے فراہم کیا تاہم یہ بھی سالانہ سات ہزار فوجیوں سے محروم ہو رہی ہے۔آدھے ملک میں طالبان ایک بار پھر اپنا قبضہ جما چکے ہیں اور جب جہاں چاہیں حملہ کر دیتے ہیں‘یہ جنگ پہلے ہی سے ہاری جا چکی ہے‘ اب اگر طالبان کو واضح فتح مل گئی تو یہ خطہ واپس 2001ء والے حالات میں واپس چلا جائے گا کہ جب یہاں امریکی مداخلت شروع ہوئی تھی۔

صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ کابل کی کٹھ پتلی حکومت کیساتھ شراکت اقتدار کی شرائط پر طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کوئی امن معاہدہ طے ہو جائے‘ یہ امن معاہدہ امریکہ کو افغانستان سے اپنی تیرہ ہزار افواج کے انخلاء کا جواز فراہم کر دے گا‘تاہم وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس عمل کے بارے میں تاثر فوجی شکست کا نہ ابھرے بلکہ اسے ایک بہت بڑی سفارتی فتح سمجھا جائے‘اسی لئے امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان طالبان کے ٹھکانے ختم کر کے ان پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ نہ صرف یہ کہ امریکہ سے بات چیت پر راضی ہوں بلکہ شرائط بھی ساری امریکہ کی ہی مانیں۔ تاہم ‘پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک تو طالبان پر اسے اس قسم کا رسوخ حاصل ہی نہیں ہے جو ان امریکی مطالبات کی تکمیل کیلئے درکار ہے‘یہ رسوخ تو اسے 2001ء میں بھی حاصل نہیں تھا کہ جب طالبان نے اسامہ بن لادن کو اپنے ملک سے نکالنے سے انکار کر دیا تھا‘ اور اب تو بالکل نہیں۔ اب توطالبان پہلے سے زیادہ طاقتور ہیں اور اس جنگ میں امریکی عزم و ہمت کی شکست و ریخت محسوس کر کے تو انہیں اپنی فتح کا امکان واضح نظر آ رہا ہے۔دوسری بات یہ کہ اگر پاکستان نے حقانی نیٹ ورک کو طاقت کے ذریعے نکال باہر کرنے کی کوشش کی تو افغان طالبان اسکے بھی اتنے ہی شدید دشمن ہو جائیں گے جتنے کہ وہ امریکہ یا اس خطے میں اس کی کٹھ پتلیوں کے ہیں‘افغان طالبان افغانستان کی سرزمین میں ٹھکانہ بنانیوالے پاکستانی طالبان کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے پاکستان میں انتقامی کاروائیاں شروع کر سکتے ہیں صرف فاٹامیں پاکستانی طالبان کیساتھ مقابلے میں چھ سال لگے ہیں اور ساٹھ ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ذرا تصور کیجئے کہ اگر پورے ملک کو ہزاروں لاکھوں طالبان کی کاروائیوں سے محفوظ کرنا پڑے تو کن حالات سے گزرنا پڑے گا؟ تیسری بات یہ کہ پاکستان کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ افغان طالبان کا رویہ پاکستان کے حوالے سے نیوٹرل ہے تو پھر آخر کس لئے ایک ایسی افغان حکومت کی حمایت کر کے ان کی مخالفت کا خطرہ مول لیا جائے کہ جس میں ایسے تاجک‘ ازبک اور پختون قوتیں شامل ہیں جو واضح طور پر پاکستان کیخلاف اور اسکے دیرینہ دشمن بھارت کی حامی ہیں؟

یہ مسئلہ شدید نوعیت کا اس لئے بھی ہے کہ امریکہ نے افغانستان اور بھارت کے اس گٹھ جوڑ کو توڑنے کی کوئی کوشش نہیں کی جس کا مقصد پاکستان میں دہشت گرد اور علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت اور معاونت کر کے اس ملک کو غیر مستحکم کرنا ہے‘اسکے بر عکس جب جم میٹس ایسی باتیں کہتے ہیں کہ امریکہ کابل اور نئی دہلی کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم کاری کا خیر مقدم کرتا ہے اور امریکہ بھارت کیساتھ ملکر اس خطے میں دہشت گردی کا خاتمہ کریگا تو ان سے پاکستان کے خدشات مزید بڑھ جاتے ہیں‘طالبان پاکستان کیساتھ ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور وہ خطے کے ان گروہوں کو بھی ٹھکانے فراہم کرتے ہیں جو چین ‘روس اور وسط ایشیائی ریاستوں کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں ‘اسی لئے اس خطے کا کوئی بھی ملک افغانستان سے امریکہ کے انخلاء کے حق میں نہیں کیونکہ کوئی یہ نہیں چاہتا کہ امریکہ جائے اور سارا اختیار طالبان کے ہاتھ آئے۔سٹیٹس کوسبھی کیلئے موافق ہے سوائے خود امریکہ کے۔موجودہ تعطل کی صورتحال میں امریکہ حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانوں کیخلاف یک طرفہ کاروائی کرسکتا ہے تاکہ اسے بامعنی مذاکرات پر مجبور کیا جا سکے۔آئی ایم ایف میں اپنے رسوخ کا استعمال کر کے یہ پاکستان پر بھی دباؤ ڈال سکتا ہے‘ان حالات میں پاک امریکہ تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں اور اس کے نتائج خطے کیلئے اور بھی منفی ہوں گے۔