321

ہم بھولے ہیں نہ بھولیں گیں

بعض سانحات اور واقعات نہ صرف انسانوں اور معاشروں کو ہلاکر رکھ دیتے ہیں بلکہ تاریخ کی شرمندگی اور انسانیت کی بے بسی کا سبب بھی بن جایا کرتے ہیں‘ آرمی پبلک سکول کا واقعہ بھی ایسے ہی سانحات اور واقعات میں شامل ہے‘یہ حملہ 16 دسمبر 2014ء کی صبح کو کرایاگیا جس کے نتیجے میں 122طلباء اور سٹاف کے 20ممبران کو بے دردی سے شہید کیاگیا جن میں چھ گھرانے ایسے تھے جن کے ایک سے زائد بچے شہید ہوئے‘شہداء میں سکول کی بہادر پرنسپل بھی شامل تھیں‘ اس سے قبل ایک امریکی ڈرون حملے میں2006ء کے دوران باجوڑ میں ایک مدرسے کو نشانہ بنایاگیا تھا جس میں 80سے زائد طلباء شہید کئے گئے تھے جبکہ وزیرستان میں بھی ایسے ہی ایک حملے کے دوران 40طلباء کو شہید کیاگیا تھا‘یہ واقعات اس جنگ کے نتیجے میں سامنے آئے جسکا آغاز نائن الیون کے بعد کیاگیا تھا اور پاکستان اس جنگ میں امریکہ کا اتحادی رہا‘اس افسوسناک واقعے نے تعلیمی اداروں کو انتہائی غیر محفوظ اور والدین وسٹوڈنٹس کو بے حد خوفزدہ کردیا‘اسکے بعد آپریشن ردالفساد اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت ٹارگٹڈ آپریشن کئے گئے اور ایسی ہی ایک کاروائی کے دوران اس حملے کے ماسٹر مائنڈ ملامنصور کو بھی ہلاک کیاگیا جسکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ٹاسک اس کوداعش نے دے رکھا تھا‘ واقعہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے تحت اٹھارہ ماہ کے دوران 20 ہزار کاروائیاں کی گئیں جسکے نتیجے میں1300 دہشت گرد مارے گئے جبکہ پانچ ہزارگرفتار ہوئے‘ کاروائیوں کا سلسلہ فاٹا اور خیبر پختونخوا میں دوسرے صوبوں کے برعکس زیادہ رہا اور پنجاب بیسڈ تنظیموں کیساتھ رعایت برتی جاتی رہی جس پر اعتراضات بھی کئے گئے۔

کہاگیاکہ دہشت گرد ختم کئے گئے ہیں یا انکی کمر توڑ دی گئی تاہم دوسری طرف تلخ حقیقت یہ رہی ہے کہ یہ سلسلہ 2017ء تک جاری رہا‘ اسکی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ سال 2017ء کے دوران پاکستان کے مختلف علاقوں میں 170دہشت گرد حملے کرائے گئے جسکے نتیجے میں گیارہ اعلیٰ افسران اور 75سکیورٹی اہلکاروں سمیت 350افراد شہید کئے گئے‘افغانستان بھی بدترین حملوں کی زد میں ر ہا جہاں 2017ء میں 300حملے کرائے گئے جسکے نتیجے میں دستیاب ریکارڈکے مطابق پچیس سوافراد شہید ہو گئے‘صرف کابل کو 2017ء میں 19 خودکش حملوں کا نشانہ بنایاگیا‘ تاہم سال 2018ء پاکستان امن وامان کی صورتحال کے حوالے سے کافی بہتر رہا ‘اسکے باوجود سانحہ اے پی ایس کے بعد مختلف اوقات میں دیگر متعدد تعلیمی اداروں پر حملے کرائے گئے جن میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان‘ باچا خان یونیورسٹی چارسدہ اور پشاور کے ایگریکلچرڈائریکٹوریٹ کا سٹوڈنٹس ہاسٹل شامل ہیں‘ سانحہ اے پی ایس کے بعد والدین کو بعض شکایات رہیں جن میں سے متعدد کا اب بھی پشاور ہائی کورٹ میں کیس چل رہا ہے۔

اور ان کا خیال ہے کہ واقعے کی روک تھام اور بروقت کاروائی میں کوتاہی کا مظاہرہ کیا گیاتھاجس کی تحقیقات ہونی چاہئیں‘دوسری طرف سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ڈسپلن کے تحت متعدد افراد اور افسران کیخلاف کاروائیاں ہوتی رہی ہیں‘ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریاستی خرچ پر واقعے کے بعد نہ صرف زخمیوں کا علاج کرایا گیا بلکہ 260 خاندانوں کے 870افراد کو عمرہ کی ادائیگی کرائی گئی‘ 70طلباء اور انکے والدین ترکی‘ چین اور امریکہ کے دورے پر بھیجے گئے‘ 4زخمیوں کو برطانیہ علاج کیلئے بھیجا گیا‘ 122شہداء کے بہن بھائیوں کو مفت تعلیم کی سہولت دی گئی‘ پرنسپل طاہرہ قاضی اور ٹیچر حایمہ طارق کو ستارہ جرات سے نوازا گیا سٹاف کے20ممبران کے علاوہ شہید طلباء کو قومی اعزازات دیئے گئے‘ شہداء پیکج کے تحت متاثرہ خاندانوں کو کروڑوں روپے دیئے گئے جبکہ صوبہ خیبرپختونخوا کے 108سکولوں اور 4شاہراہوں کو شہداء کے نام سے منسوب کیاگیا‘ کہا گیا کہ واقعے میں ملوث چھ دہشت گرد اس روز ہلاک کئے گئے تھے جبکہ 12دیگر کو بعد میں ہلاک کیاگیا اور بعض سہولت کاروں کو بھی انجام تک پہنچایاگیا‘ بہت سے لوگ حکومتی تحویل میں موجود ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کو بھی اے پی ایس حملہ کی ذمہ داری قبول کرنے کے تناظر میں سزا دینے کا مطالبہ کررہے ہیں تاہم اس سلسلے میں پشاور ہائی کورٹ میں ایک کیس چل رہا ہے اسلئے اس پر تبصرہ مناسب نہیں ہے‘ اس حملے کے دوران بعض اعلیٰ فوجی افسران اور اہم بیوروکریٹس کے بچے بھی شہید ہو گئے اسلئے یہ کہنا کافی نامناسب لگ رہا ہے کہ اس واقعے میں شایدبعض ادارے یا ان کے اہلکار ملوث ہوسکتے ہیں‘ یہ خالصتاً دہشت گردی کا واقعہ تھا جس کا مقصدبدترین ظلم کرکے عوام‘ فورسز‘والدین اور سٹوڈنٹس کو انتہائی حد تک خوفزدہ کرنا مقصود تھا تاہم شہر استقلال پشاور نے دوسرے حملوں کی طرح اس حملے کا بھی جرات سے مقابلہ کرکے تاریخ میں یہ بات درج کرائی کہ یہاں کے باشندے لڑنا‘ صبر کرنا اور زندگی گزارنا جانتے ہیں اور اس کے تعلیمی ادارے ہمیشہ آباد رہیں گے۔