293

صدر ٹرمپ کے استعفے کی بات

صدر ٹرمپ کے استعفے کی بات فی الحال افواہوں تک ہی محدود ہے مگر یہ بات اب چل نکلی ہے اور اس قسم کی بات جب چل نکلتی ہے تو وہ عام افواہوں کی طرح میڈیا کے ریڈار سے غائب نہیں ہو جاتی بلکہ کہیں نہ کہیں پہنچ کر ہی دم لیتی ہے‘ دو ہفتے پہلے جب سی این این کے سینئر تجزیہ نگار Jeoffery Tubin نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے انجام کا آغاز ہو گیاہے تو کئی پنڈتوں نے انکی مخالفت کی اور جواب دیا کہ ایسے کوئی آثار نظر نہیں آرہے اب Chris Mathews نے اپنے ٹاک شو Hard Ball میں پیر سولہ دسمبر کے دن یہ کہا کہ President Donald Trump could resign as part of a deal with special council Robert Muller یعنی صدر ٹرمپ خصوصی تفتیش کار رابرٹ مولر کیساتھ ایک ڈیل بنا کر استعفیٰ دے سکتے ہیں‘ کرس میتھیوز جو NBC کیساتھ 1994 سے وابستہ ہیں اور آجکل اسی ادارے کے دوسرے چینل MSNBC سے اپنا مشہور ٹاک شو ہفتے میں پانچ دن کرتے ہیں نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ اب صدر ٹرمپ کی بیٹیIvanka Trump اور انکے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر پر بھی سپیشل کونسل فرد جرم عائد کر کے انہیں عدالت میں پیش ہونے کا کہے گی‘ اسوقت صدر ٹرمپ نے اہم فیصلے کرنے ہوں گے وہ یا تو اپنے بچوں کو عدالتوں میں آئے روز پیشیوں اور ممکنہ قیدوبند کیلئے تیار کریں گے اور یا پھررابرٹ مولر کیساتھ یہ ڈیل بنائیں گے کہ وہ صدارت چھوڑ دیں گے۔

بشرطیکہ ان پر اور انکے بچوں پر بنے ہوئے مقدمات ختم کر دےئے جائیں‘Mathews نے کہاہے This would mean giving up the presidency in exchange for acquittals all around ٹا ک شو ہوسٹ نے امریکی تاریخ سے مثال دیتے ہوئے کہاکہ 1973 میں نائب صدرSpiro Agnew نے یہ ڈیل بنا کر استعفیٰ دیا تھا کہ انہیں جیل نہیں بھیجا جائیگاAgnew نے ٹیکس ریٹرن میں کم آمدنی بتائی تھی‘کرس میتھیوزنے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا کہLeverage the office while you have it یعنی اپنی صدارت سے فائدہ اٹھاؤ جب تک کہ یہ تمہارے پاس ہے اس پروگرام کے فوراًبعد ہی صدر ٹرمپ کے طرفداروں نے سوشل میڈیا پرکرس میتھیوز کی خبر لینا شروع کردی‘اس جوابی حملے کا لب لباب یہ تھا کہ کرس اکثر ایسی بے سرو پا پیش گوئیاں کرتا رہتا ہے‘اس حوالے سے اسکے مخالفین نے اس پیش گوئی کا ذکر کیا جو اس نے ہیلری کلنٹن کے صدر بننے کے بارے میں کی تھی۔

اس تجزیے سے قظع نظر اگر صدر ٹرمپ کی صدارت کو لاحق خطرات کا جائزہ لیا جائے تووہ سخت مشکلات میں گھرے ہوئے نظر آتے ہیں‘ریاست کنیٹیکٹ سے ڈیموکریٹک سینیٹر Richard Blumenthalنے صدرٹرمپ کے بارے میں کہا ہے کہThe walls are closing in on him یعنی اسکے گرد حصار تنگ ہو رہا ہے‘ گذشتہ چار دنوں میں امریکہ میں جو کچھ ہوا اسکے بارے میں بلوم برگ نیوز کی تجزیہ نگار Kathleen Hunter نے لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ کیلئے ہفتۂ رواں خاصاناموافق نظر آرہا ہے اس ہفتے میں سینٹ سے جو تین رپورٹیں سامنے آئی ہیں اور واشنگٹن کے ڈسٹرکٹ جج نے صدر ٹرمپ کے سابقہ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل (ر) مائیکل فلن کے بارے میں جو ریمارکس دےئے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگلا سال دونلڈ ٹرمپ کیلئے نہایت مشکل ہوگا‘صدر ٹرمپ نے ایک خبر کے مطابق گذشتہ چار دنوں میں بائیس ٹویٹس کئے ہیں اور یہ سب ان اہم فیصلوں کے بارے میں ہیں جو سینٹ‘ عدالت اور سپیشل کونسل نے انکے خلاف کئے ہیں‘سینٹ میں اکثریت ری پبلکن پارٹی کی ہے مگرجو واقعہ تحقیق کیلئے کسی ریسرچ کمپنی کے حوالے کردیاجائے اور اسکی رپورٹ سینٹ کو مل جائے اسے ایک دن کیلئے بھی اخفائے راز میں نہیں رکھاجاسکتاپیر کے دن سینٹ نے تین ایسی رپورٹیں پیش کیں جن میں2016 کے امریکی انتخابات میں روس کی مداخلت کا جائزہ لیا گیا ہے۔

تین مختلف اداروں سے کرائی جانیوالی ان تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2016 میں روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں صدر پیوٹن کے دوست Yevgeny Prigozhinنے انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی کے نام سے ایک کمپنی قائم کی جس نے لاکھوں کی تعداد میں ایسے جعلی سوشل میڈیااکاؤنٹ بنائے جنہوں نے صدارتی انتخابات کے پہلے حصے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی بھرپور حمایت کی تاکہ وہ دیگر ری پبلکن امیدواروں کو شکست دیکر صدارتی نامزدگی حاصل کر لیں اسکے بعد اس روسی ریسرچ ایجنسی نے دوسرے دور میں ان اکاؤنٹس کی مدد سے ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کی صفات بڑھا چڑھا کر پیش کیں اور دوسری طرف ہیلری کلنٹن کی کردارکشی میں زمین آسمان کے قلابے ملائے‘ رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ اگر چہ یہ بات Quantify( صحیح مقدار میں اندازہ لگانا) نہیں کی جاسکتی کہ روس کی اس سوشل میڈیا مہم نے کتنے ووٹروں کو ڈونلڈ ٹرمپ کے حق اور ہیلری کلنٹن کیخلاف قائل کیا مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ کم از کم 80ہزار ووٹر اس مہم سے متاثر ہوئے ہونگے اس بات کے ثبوت میں ان رپورٹوں میں ان ہزاروں ووٹروں کی گفتگو کا چنا ہواریکارڈ پیش کیا گیا ہے جنہیں اس معاملے کی تحقیق کیلئے انٹرویو کیا گیا تھا ان اسی ہزار ووٹروں نے پنسلوینیا‘مشی گن اور وسکانسن کی ریاستوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیکر الیکشن کا پانسہ پلٹ دیا ان رپورٹوں کے مطابق انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی آجکل بھی سپیشل کونسل رابرٹ مولر کیخلاف ایک میڈیا مہم چلا کر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

منگل اٹھارہ دسمبر کو واشنگٹن کے ایک ڈسٹرکٹ جج Emmett Sullivanنے صدر ٹرمپ کے سابقہ نیشنل سکیورٹی ایڈ وائزر مائیکل فلن کو مقدمے کی سماعت کے دوران مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں تمہارے خلاف اپنے غصے کو چھپا نہیں رہا This crime is very serious. Arguably, you sold your country out. یعنی یہ جرم نہایت سنجیدہ ہے ‘ ظاہر ہوتا ہے کہ تم نے اپنے ملک کو فروخت کر دیا مائیکل فلن کیخلاف ایف بی آئی کئی مقدمات کی تحقیقات کر رہی ہے‘ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو کامیاب کرانے کیلئے روس کی حکومت سے ساز باز کئے‘دوسرا یہ ہے کہ فلن نے جنوری 2017 میں ایف بی آئی کو کئی جھوٹے بیانات دےئے اس نے فروری 2017 میں 23 دن تک نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر رہنے کے بعد استعفیٰ دیدیا پھر دسمبر 2017 میں اس نے ایف بی آئی سے یہ ڈیل بنائی کہ وہ 2016 کے انتخابات میں روس کی مداخلت کے بارے میں مکمل تعاون کریگا بشرطیکہ عدالت سے اسکی سزا کم کرنیکی درخواست کی جائے اب جج Sullivan ایف بی آئی کی اس سفارش کو ماننے پر آمادہ نظر نہیں آرہے لیکن مائیکل فلن کو اس Plea Bargaining کا اتنا فائدہ ضرور ہوا ہے کہ ایف بی آئی نے اسکے خلاف دیگر کئی مقدمات عدالت میں پیش نہیں کئے۔

صدر ٹرمپ کے سابقہ وکیل اور دست راست مائیکل کوہن کہ جنہیں عرف عام میں صدر صاحب کا Fixer کہا جاتا ہے کو گذشتہ ہفتے نیو یارک کی عدالت نے تین سال قید کی سزا سنائی ‘مائیکل نے جس انداز میں یہ سزا سننے کے بعد اپنے گناہوں کا اعتراف کیا اور جس طرح ان دس سالوں کی روئیداد سنائی جس میں اس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے وفادار دوست کا کردار ادا کیا اس نے اسکے دشمنوں کے دل بھی موم کر دےئے‘ اس روز مائیکل کوہن شیکسپیئر کے کسی ڈرامے کا کردار نظر آ رہا تھا ان تمام کرداروں کی کہانی اس لحاظ سے ایک ہی جیسی ہے کہ ان میں سے ہر کوئی اپنی ہی کسی کمزوری کی وجہ سے شہرت کے عروج سے زوال کی پستیوں تک پہنچا‘کرس میتھیوز کی پیش گوئی صحیح ہے یا غلط ڈونلڈ ٹرمپ بھی دھیرے دھیرے شیکسپیئر کے کرداروں کی طرح اپنے المناک انجام کی طرف بڑھ رہا ہے ۔
نہ آسماں سے نہ دشمن کے زوروزر سے ہوا
یہ معجزہ تو میرے دست بے ہنر سے ہوا