437

انسانی سمگلنگ اور پاکستان

ماہرین سماجیات ہیومن ٹریفکنگ کو غلامی کی جدید شکل کا نام دے رہے ہیں اور اس سلسلے کو دنیا میں منشیات اور اسلحے کے بعد تیسرا بڑا کاروبار قرار دے رہے ہیں‘ہیومن ٹریفکنگ کی تعریف کچھ یوں کی جاتی ہے کہ یہ اس عمل کا نام ہے جس کے ذریعے انسانوں خصوصاً بچوں اور خواتین کو زبردستی‘ قانونی تقاضوں کے بغیر کسی دوسرے علاقے یا ملک کو منتقل کرکے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جائے اور متاثرہ افراد کو ذاتی اور گروہی مفادات کیلئے استعمال کیا جائے‘ یہ ایک عالمی مسئلہ اور ایشو ہے اور امریکہ سمیت متعدد ترقی یافتہ ممالک سمیت تقریباً ہر ملک کو اس مسئلے کاسامنا ہے‘ ناقص قوانین‘ امیگریشن سسٹم میں موجود نقائص‘ غربت‘ جنگیں‘بڑھتی آبادی اور جہالت اس ناسور یا کاروبار کے بنیادی عوامل ہیں‘ بھارت ورلڈ انڈیکس میں ٹاپ پر ہے جہاں بچوں اور خواتین کو انٹرنل ہیومن ٹریفکنگ کی بدترین صورتحال کاسامنا ہے‘ ساؤتھ ایشیاء‘ افریقہ ‘ روس اور بعض عرب ممالک کے علاوہ کئی دہائیوں سے یورپ کو بھی اس مسئلے یا کاروبار نے گھیرے میں لے رکھا ہے جبکہ پاکستان کو بھی بوجوہ اس ایشو کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے‘ اگرچہ سرکاری اورنجی سطح پر پاکستان میں اس کاروبار کا ڈیٹا دستیاب نہیں ہے تاہم چند برس قبل تک اقوام متحدہ اور امریکہ نے پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کرلیا تھا جہاں یہ مسئلہ مختلف معاشی و قانونی اور معاشرتی عوامل کے باعث بڑھتا جارہا تھا۔

اس کی روک تھام کی بنیادی ذمہ داری ایف آئی اے کی سمجھی جاتی ہے تاہم پولیس‘عدلیہ اور پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کے ذریعے بھی اس پر قابو پایا جا سکتا ہے‘پنجاب کے بعض علاقے اس قبیح بزنس کے لئے بہت بدنام ہیں‘ ان میں گجرات اور گوجرانوالہ سرفہرست ہیں جن کو ہیومن ٹریفکنگ کے مراکز کی حیثیت حاصل ہے تاہم سندھ کے بعض علاقے ‘ ایکس فاٹا اور بلوچستان کے متعدد علاقے بھی اس کی لپیٹ میں رہے ہیں‘ انتہا پسندی کا شکار رہنے والے علاقے اس مسئلے سے بہت متاثر ہوئے‘ ایک تو ان علاقوں سے جنگجوؤں کو دوسرے ممالک اور علاقوں میں بھیجا جاتا رہا جبکہ دوسری طرف بدامنی‘ فوجی کاروائیوں‘ غربت اور نقل مکانی جیسے عوامل کے باعث مختلف مافیاز‘ گروپوں اور گینگز نے بچوں اور خواتین کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہزاروں افراد کواس کا شکار بنایا‘ یہی وجہ ہے کہ بعض متعلقہ ماہرین دہشت گردی اور بد امنی کو بھی اس کی ایک بڑی وجہ قرار دے رہے ہیں۔

بھارت کی طرح پاکستان میں بھی اس عمل سے بچے اور خواتین بڑی تعداد میں متاثر رہے ہیں اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ اسکی روک تھام کیلئے مختلف اوقات میں قانون سازی کی جاتی رہی جن میں ایک حالیہ آرڈی نینس اور اصلاحات بھی شامل ہیں تاکہ اسکی روک تھام کی جا سکے اور اس غیر انسانی کاروبار میں ملوث گروپوں اور افراد کو سخت سزائیں دی جا سکیں‘کہا جارہا ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں اس کاروبارسے 32 سے 40 کھرب ڈالر کی کثیر سرمایہ کاری وابستہ ہے جبکہ ہر سال لاکھوں افراد اس مسئلے کا شکار ہو جاتے ہیں امریکہ جیسے ملک کو میکسیکو اور کینیڈا کے راستے اس مسئلے کا سامنا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسکی روک تھام کیلئے سخت ترین اقدامات کئے جارہے ہیں‘ مشرقی یورپ کیلئے شام ‘عراق‘ لیبیا اور بعض دیگر افریقی ممالک سے آنیوالے لاکھوں افراد کی لہرنے گھیرے میں لے رکھا ہے جبکہ پاکستان سے مختلف طریقوں کے ذریعے منتقل کرنیوالے افراد کیلئے ایران ‘ عراق اور ترکی پر مشتمل روٹ استعمال کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آئے روز پاک ایران بارڈرپر واقعات ہوتے رہتے ہیں‘۔

اسی طرح بعض سنٹرل ایشین ریاستوں کیلئے پاکستان اور افغانستان پر مشتمل روٹ استعمال کیا جاتا ہے‘ ساؤتھ ایشین بیلٹ کے علاوہ چائنا روس اور سنٹرل ایشین ریاستوں کیلئے دبئی ‘قطر ‘ کویت ‘ ترکی اور یورپ بڑی مارکیٹوں کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہر برس ہزاروں افراد ہیومن ٹریفکنگ کے غیر انسانی رویوں اور بزنس کا شکار بن جایا کرتے ہیں‘ ماہرین اس مسئلے کو انسانی حقوق‘ گورننس‘ غربت اور لا قانونیت کے تناظر میں بڑی تشویش سے دیکھ رہے ہیں اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ اس کاروبار کو ’ ماڈرن سلیوری ‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے‘ ماہرین کے علاوہ عالمی اور علاقائی سطح پر کام کرنیوالی تنظیمیں‘تھنک ٹینک اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے اس گلوبل ایشو پر قابو پانے کیلئے نہ صرف کوششوں اور اقدامات میں مصروف ہیں بلکہ عالمی سطح پر اس سے بچنے کیلئے عوامی اور ادارہ جاتی سطح پر شعور پھیلانے پر بھی توجہ دی جارہی ہے کیونکہ اس سے جہاں لا قانونیت کو فروغ ملتا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں بلکہ متعدد انسانی سانحات بھی جنم لیتے ہیں اور معاشروں کی بدحالی ‘ انارکی اور بے چینی کا راستہ بھی ہموار ہو جاتا ہے ۔