328

امریکی انحلا اور طاقت کا نیا توازن

بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے شام سے دو ہزار امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کر کے امریکی اسٹیبلشمنٹ‘میڈیااور نیٹواتحادیوں کو ایک نئے ہیجان میں مبتلا کر دیا ہے اسی روز صدر امریکہ نے افغانستان میں موجود چودہ ہزار فوجیوں میں سے نصف کو واپس بلانے کے احکامات بھی جاری کئے‘اگلے روز انکے وزیر دفاع جنرل جیمز میٹس وائٹ ہاؤس گئے جہاں انہوں نے صدر امریکہ کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ ان فیصلوں کے دور رس منفی اثرات مرتب ہوں گے‘ نیٹواتحادیوں میں مایوسی بڑھے گی ‘روس اور ایران کے اثررسوخ میں اضافہ ہو گا ‘ امریکہ کے عالمی کردار میں کمی واقعہ ہو گی‘ چین کو جنوبی اور وسطی ایشیا میں آگے بڑھنے کے مواقع ملیں گیاور مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن بدل جائے گا‘یہ وہ بحث ہے جو صدر ٹرمپ اور جنرل میٹس میں دو سال سے چلی آرہی ہے اس دوران وزیر دفاع کافی حد تک صدر ٹرمپ کوانتہائی اقدامات اٹھانے سے روکنے میں کامیاب رہے ہیں مگر انہیں اکثر ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے‘ وہ ایران کیساتھ صدر اوباما کے کئے ہوئے نیوکلیئر معاہدے کومنسوخ ہونے سے نہ بچا سکے ‘ اسرائیل میں دارالخلافے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے میں بھی انہیں کامیابی حاصل نہ ہوئی‘ صدر ٹرمپ نے کئی مرتبہ جنوبی کوریا سے امریکی افواج واپس بلانے کی دھمکیاں دیں مگر جیمز میٹس نے امریکہ کی ستر سال پرانی دفاعی پالیسیوں کو برقرار رکھنے کی کوششیں جاری رکھیں۔

بدھ کے دن صدر ٹرمپ کو ایک مرتبہ پھر اپنے موقف کے حق میں قائل نہ کر سکنے کے بعد انہوں نے استعفیٰ دیدیا ‘وہ جب تک وزیر دفاع رہے یورپی اتحادیوں کی یہ امید قائم رہی کہ امریکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد بنائے گئے ورلڈ آرڈر پر قائم رہیگا اور کسی نہ کسی صورت یورپی مما لک کی دفاعی ضروریات پوری کرتا رہیگا‘ چند ہفتے پہلے ٹائمز میگزین نے کور پیج پر جیمز میٹس کی تصویر پر Last Man Standing کی عبارت لکھی تھی‘ اسکا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ آخری آدمی ہے جو صدر ٹرمپ کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوا ہے اب اس آخری آدمی کے چلے جانے کے بعد بظاہر صدر امریکہ کو نیٹو سے ترک تعلق کرنے سے روکنے والا کوئی بھی نہیں رہامگر امریکی میڈیا نے شام اور افغانستان سے انخلا کی شدید مخالفت شروع کر دی ہے اور کانگرس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو پینٹاگان کا سربراہ نہ بنائے جو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں سے مکمل اتفاق کرتا ہو بعض دانشوروں نے اس خیال کا اظہار بھی کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی داخلی مشکلات سے توجہ ہٹانے کیلئے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے اسکے جواب میں صدر ٹرمپ کے حمایتی قدامت پسندمیڈیاکا موقف یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ طویل امریکی جنگوں کو ختم کرنے کے وعدے پرہی صدر منتخب ہوئے تھے۔

ٹرمپ ہمیشہ سے نیٹو اتحادیوں کو Freeloader یعنی مفت میں مزے کرنے والے کہتے رہے ہیں وہ دو سال سے مسلسل پرانے عالمی نظام کی بیخ کنی میں اسلئے بھی لگے ہوئے ہیں کہ انکے ووٹر ابھی تک انکے ساتھ کھڑے ہیں‘انکے جلسوں میں ابھی تک لوگوں کا جوش و خروش پہلے کی طرح پایا جاتاہے گیلپ کے حالیہ سروے کے مطابق 38 فیصد امریکی اب بھی انہیں پسند کرتے ہیں مگر اگلے سال انہیں میڈیاکے علاوہ کانگرس کی طرف سے بھی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑیگا جنوری میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوان نمائندگان کی قیادت سنبھال لے گی اسکے فوراً بعد صدر ٹرمپ کے مواخذے کے مطالبے میں شدت آجائیگی یوں امریکہ میں طاقت کا توازن بدل جائیگا‘صدر ٹرمپ دو سال تک جس طرح من مانیاں کرتے رہے ہیں اب وہ نہ کر سکیں گے مگر بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ محاذ آرائی کی سیاست کو پسند کرتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھانا جانتے ہیں۔

ملک کے اندر جو صورتحال بھی ہو مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیاکا منظر نامہ بدلتا ہوا نظر آرہا ہے تین برس پہلے جب امریکی فوج شام کے میدان جنگ میں اتری تو اسوقت داعش یا ISIS نے عراق اور شام کے کئی علاقوں پر قبضہ کیا ہوا تھا‘ امریکہ نے سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے پراکسی گروپوں کی مدد سے ایک طویل جنگ کے بعد اس عسکری تنظیم کو شکست سے دوچا رکر دیا مگر داعش کی پسپائی کے بعد بھی عراق اور شام میں جنگیں جاری ہیں اب امریکی افواج کی شام سے رخصتی کے بعد داعش کی واپسی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا‘دمشق میں بشارالاسد کی حکومت کو امریکی افواج سے جو خطرات لاحق تھے اب ان میں بھی کمی آجائیگی یوں روس ‘ایران اور شام محور کو مشرق وسطیٰ میں قدم جمانے کے مواقع مل جائیں گے۔

شام کی خانہ جنگی کے دوران ایران نے ہزاروں کی تعداد میں جنگجو بھیج کرنہایت مشکل وقت میں بشارا لاسد حکومت کا دفاع کیا تھا‘ اب اسکے پراکسی گروپ حزب ا للہ کی مشکلات میں کمی آئیگی روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے امریکی انخلا کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہےDonald is right and I agree with him پیوٹن کے اس معنی خیز جملے کو امریکی میڈیا نے خوب اچھالا ہے امریکہ اگر بشارالاسد کی حکومت گرانے میں کامیاب ہو جاتاتوروس کو مشرق وسطیٰ میں بھی افغانستان کی طرح ایک بڑی شکست سے دو چار ہو کر نکلنا پڑتا‘ماسکو نے دمشق حکومت کے دفاع کیلئے پانچ ہزار فوجی اور تین درجن لڑاکا طیارے بھیجے ہوئے تھے شام میں روس کی کامیابی نے عالمی سیاست میں اسکی واپسی کی راہ ہموار کی تھی اب اسے اس خطے میں اپنا اثررسوخ بڑھانے کے مزید مواقع ملیں گے ترکی بھی سکھ کا سانس لے گا کیونکہ اب امریکہ پہلے کی طرح کردملیشیا کی مدد نہ کر سکے گا شام سے امریکی فوجوں کی رخصتی کا سب سے زیادہ نقصان کردوں کو ہو گا انہیں امریکہ نے پاکستان کی طرح دل کھول کر استعمال کیا اور پھر اچانک اسے دشمنوں کے نرغے میں پھنسا کر خود چلتا بنا اب انکی بے بسی کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے ۔

تنہا کھڑا ہوں میں بھی سر کربلائے عصر
اور سوچتا ہوں میرے طرفدار کیا ہوئے

کرد ملیشیا کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس جنگ میں انکی تنظیم نے ہزاروں جنگجوؤں کی قربانی دی ہے وہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں فرنٹ لائن پر لڑتے رہے ہیں اب انہیں لگتا ہے کہ انکی تمام قربانیاں رائیگاں چلی جائیں گی صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد اسرائیل اسلئے تشویش میں مبتلا ہے کہ اب ایران کی پوزیشن اس خطے میں پہلے سے زیادہ مستحکم ہو جائے گی‘ صدر ٹرمپ کے طرفدار میڈیا نے مشرق وسطیٰ اور افغانستان میں اپنے اتحادیوں کو یہ تسلی دی ہے کہ انہیں گھبرانے کی اسلئے ضرورت نہیں کہ خلیج فارس میں امریکہ کا پانچواں بحری بیڑہ اور بحیرۂ روم میں چھٹا بحری بیڑہ تباہ کن گائیڈڈ میزائلوں اور لڑاکا طیاروں سمیت انکی مدد کیلئے موجود ہے امریکہ کی فضائی طاقت اگر زمینی حقائق تبدیل کر سکتی تو افغانستان کے ساٹھ فیصد علاقے پر آج طالبان کا قبضہ نہ ہوتا‘ اشرف غنی حکومت بھی امریکی انخلا کے اعلان کے بعد خوف و ہراس میں مبتلا ہے انکے نقطۂ نظر سے اگر چودہ ہزار امریکی افواج طالبان کا راستہ نہیں روک سکیں تو سات ہزار سے کیا امید وابستہ کی جاسکتی ہے کابل حکومت کو خصوصی امریکی مشیر زلمے خلیل زاد کے ابوظہبی میں طالبان کیساتھ مذاکرات کے خاصی حد تک مثبت نتائج برآمد ہونے کے بعد نوشتہ دیوار کو پڑھ لینا چاہئے تھا‘ اب افغانستان میں بھارت کے کردار میں مزید کمی کی توقع کی جاسکتی ہے اور اسکے ساتھ ہی پاکستان پر نہ صرف دباؤ میں کمی آئیگی بلکہ اسکی معیشت کو بھی سہارا ملے گا اور امریکہ سے بہتر تعلقات کی صورت میں اسے عالمی برادری میں بہت جلد اپنا کھویا ہوا مقام بھی واپس مل سکتا ہے امریکہ کے نیٹو اتحادیوں ‘ خلیجی ممالک اور کرد ملیشیا کو اب مشرق وسطیٰ میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا انہیں اور دنیا بھر کو امریکہ یہ کہتا ہوا نظر آرہا ہے۔
میں اگر دشت بلا ہی کو الٹنا چاہوں
کون روکے گا مجھے گھر جو پلٹنا چاہوں