326

کرسمس‘ قائداعظم اور مہر

مغربی ممالک میں کرسمس مذہبی سے زیادہ قومی اور انٹرنیشنل تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کرسمس سے لے کر نئے سال تک پورے آٹھ دن کی چھٹی ہوتی ہے اور سارے دفاتر بند ہوجاتے ہیں‘تاہم بازار صرف کرسمس کے دن ہی بند ہوتے ہیں‘ رہ جاتی ہیں ہمارے کام کی جگہیں یعنی ہسپتال‘ وہ تو کسی صورت بند نہیں ہوتے‘ہم ہندو پاک اور بنگلہ دیش والے کم ہی کرسمس مناتے ہیں توسارے ہسپتالوں میں عموماً ہم ہی لوگ کرسمس کے پورے ہفتے ڈیوٹی دیتے رہتے ہیں‘میرے کئی ایک ساتھی توکرسمس سے ایک ہفتہ قبل ہی انگلینڈ روانہ ہو جاتے ہیں کہ چھٹیوں کے دوران ڈیوٹی کی اضافی اجرت ملتی ہے میرے وارڈ میں بھی سبھی کو یقین تھا کہ میں بھی کرسمس کو چھٹی کروں گا‘ تاہم میں نے عین کرسمس کے دن ڈیوٹی کرنے سے معذرت کرلی‘ساتھ ہی ساتھ بتایا کہ یہ میری شادی کی سالگرہ کا دن ہے اسلئے میں گھر میں منانا چاہوں گا‘ وہ حیران ہوئے کہ بھلا کرسمس کے دن کون شادی کرتا ہے؟ ظاہر ہے ہمارے معاشرے میں بھی عید کے دن کوئی بھی شادی کی تاریخ نہیں رکھ سکتانا۔ ہماری شادی کی تاریخ عین کرسمس کے دن رکھنے کی وجہ یہی تھی کہ اسوقت پاکستان میں بھی چھٹی کا دن تھا‘ بہر حال اس مخصوص تاریخ کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ باہر ہو یا ملک کے اندر‘ ہمیں شادی کی سالگرہ منانے کی فرصت مل جاتی ہے کہیں کرسمس کے نام پر اور کبھی قائد اعظم کی تاریخ پیدائش کی وجہ سے۔

شادی ایک ادارہ ہے ‘جس طرح ہم ہر ادارے سے سیکھ کرنکلتے ہیں‘ نشیب و فراز سے گزرتے ہیں‘دکھ سکھ کا پھیر ہوتاہے‘مایوسی اور امید کے درمیان ڈولتے رہتے ہیں اسی طرح سے شادی میں دو انجان بندوں کا ساری عمر ایک دوسرے سے بندھنا ہوتا ہے‘ بلکہ دوافراد سے زیادہ دو خاندانوں کا میل ہوتاہے‘خوشی غمی میں ساتھ ہوتا ہے‘اسکے بعد خاندان بڑھتا ہے‘بچوں کی آمد ہوتی ہے‘ پیشہ ورانہ مصروفیات ہوتی ہیں‘گھریلومشکلات کامقابلہ کرنا ہوتا ہے‘ یہ سب کچھ تو ساری دنیا جاتی ہے لیکن شوہر اور بیوی کے درمیان ایک اور تعلق ہوتا ہے جسے صرف یہی جوڑا سمجھتا ہے‘ ان کو آپس میں خیالات کے تبادلے کیلئے نہ الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ اشاروں کی‘وہ ایک دوسرے کو دیکھے بغیر سمجھ جاتے ہیں‘اسی لئے پیغمبر ؐنے میاں بیوی کے آپس کے تعلق کو دوسروں پر آشکار کرنے سے منع فرمایا ہے۔

آج سے بتیس برس قبل آج ہی یعنی پچیس دسمبر کو میں اور مہراسی قسم کے بندھن میں یکجا ہوئے‘ہم دونوں کلاس فیلو تھے‘ کچھ کچھ ایک دوسرے کو جانتے تھے ‘ تاہم باہر سے جاننا اور پھر گھر کے اندر جاننا ایک دوسرے سے کافی مختلف ہے‘مہر کے والد ایک ملنگ بیوروکریٹ تھے‘ بھلے آدمی نے نہ کوئی مطالبہ پیش کیا اور نہ کوئی قدغن لگائی‘ ورنہ میرے جیسا کم مایہ شخص انکی کوئی فرمائش پوری کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا‘ مہر کے بھائی جو میرے دوست تھے ‘ نے سفارش لگائی اور یوں مہر میرے گھر میں دلہن بن کر آئی‘مہر کے گھرانے کے جوہر ان کے میرے گھر آنے کے بعد ہی کھلے۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ شادی ایک ادارہ ہے میرے لئے یہ ایک یونیورسٹی ثابت ہوئی جس میں وائس چانسلر مہر تھی‘ مجھے چانسلر کے عہدے پر سرفراز کیا لیکن کام چانسلر ہی جتنا تھا یعنی نہ ہونے کے برابر‘ صفائی کا جنون تھا ان کو۔ مجال ہے جو گرد کا ایک نشان گھر میں ملے‘ وہ بھی ڈاکٹر تھی اور گائنی میں سرجری سے کہیں زیادہ مصروفیت ہوتی تھی‘تاہم تھکاوٹ کے باوجود گھر آتے ہی سب سے پہلے کپڑالیکر فرش سے لیکر فرنیچر تک کی جھاڑ پونچھ کرتی۔ غربت تھی اور دو تین خاندانوں کا خیال رکھنا تھا۔ مجال ہے جو کبھی اپنی تنخواہ اور میری تنخواہ میں کوئی فرق رکھا۔ میرا مزاج تیز تھا لیکن مہر کی ملائم طبیعت نے مجھ میں برداشت کا مادہ ڈالا۔ میں من موجی تھا اور کم ہی دوسرے رشتہ داروں سے تعلق رکھتا تھا‘ مہر نے مجھے سوشل بنادیا اور اب تمام رشتہ داروں کی غمی خوشی میں شرکت ہوتی ہے۔ مجھ سے زیادہ میرے رشتہ دار ان سے تعلق رکھتے ہیں۔

کلاس میں میری اور مہر کی پوزیشن ایک جیسی ہوتی تھی لیکن جب ڈاکٹر بننے کے بعد سپیشلائزیشن کی بات چلی تو مہر نے مجھے مقدم رکھا۔ تین چار سال تک مہر نے گھر اور بچے سنبھالے اور مجھے ایف سی پی ایس اور ایف آرسی ایس کرنے کا موقع دیا۔ اسکے بعد کہیں جاکر اپنی سٹڈی شروع کی‘ قابل تو وہ تھی ہی‘ لیکن بچوں کیساتھ ساتھ گائنی جیسی مصروف تخصیص میں بھی پاگلوں کی طرح کام کرتی رہی لیکن مجال ہے جو کبھی زبان پر شکوہ آیا ہو‘ مریضوں میں وہ مجھ سے کہیں پاپولر‘ حلقہ میرے حلقے سے کہیں وسیع لیکن گھر کو ہمیشہ سب سے پہلے رکھا‘اس مصروف زندگی میں گھر سے نکلتے وقت کھانا بنانا ہو یا کپڑوں کی صفائی کا بندوبست کرنا ہو‘ وہ سب کچھ کرکے چلی جاتی۔
مہر نے میرے گھر میں چار پیارے پیارے بچوں کا اضافہ کیا‘ انکی تربیت زیادہ مہر کی مرہون منت اور کم میری وجہ سے ہے‘ہمارے بچوں نے کبھی ہمیں مایوس نہیں کیا‘ گھر کی صفائی ہو کہ آرائش‘ کسی فنکشن کی تیاری ہو یا مہمانوں کی خاطرداری‘ مجال ہے جو مجھے کبھی پتہ بھی چلا ہو‘ بچت کی بات ہو یاکہیں خرچے کی‘ سارا بندوبست مہر کے ذمے۔ اس سب کے باجود ساری محبت مجھی پر نچھاور کردی۔ میری غفلتیں اپنی جگہ‘میری حماقتیں ناقابل قبول سہی‘ میراغصہ ناقابل برداشت سہی‘ میری کوتاہیاں دراز سہی‘ لیکن سہارا ایک ہی رہا اور وہ مہر رہی۔ اس لئے مہر! شکریہ‘ شکریہ میری زندگی جنت بنانے کا‘ مجھے برداشت کرنے کا‘ اس لمبے سفر میں میراساتھ دینے کا۔

یہ صرف میری داستان نہیں‘ زیادہ تر بیویاں یہی قربانیاں دیتی ہیں‘خواہ وہ ورکنگ خاتون ہو یا صرف خاتون خانہ‘ ہم شوہر تو شایدایک دن بھی گھر کا سارا کام نہ نپٹا سکیں‘جو خواتین پیشہ ورانہ ڈیوٹی سے بھی منسلک ہوں ‘ مجال ہے جو گھر کے کام سے ان کو کبھی چھٹی ملے‘ بچے ہوں تو سارا دن ان کیلئے دل دھڑکتا رہتاہے‘ ان کے سکول کا کام ہو یا صحت کا مسئلہ‘ ساری فکر انہی ماؤں کو ہوتی ہے اور اوپر سے شوہر کی فکر کہ اسکے آرام میں کمی نہ آئے۔ ان کی زندگی بیک سٹیج پلیئر کی طرح سے گمنام ہیرو(یا ہیروئن)کی طرح ہوتی ہے‘انکو بھی ستائش چاہئے۔ انکو بھی آرام چاہئے‘ انکو محبت ہی نہیں اس کااظہار بھی چاہئے۔ اللہ سب جوڑوں کو سکھی رکھے۔ آ مین