442

ایک جاسوس شہزادی کی کہانی

شہزادی نور عنایت خان کا تعلق میسورکے ٹیپو سلطان کے شاہی گھرانے سے تھا ٗ ان کے والد عنایت خان کے آباء کا تعلق ہمارے صوبے سے تھا ٗان کا پورا نام عنایت خان رحمت خان پٹھان ‘ عنایت خان تھا‘ بعد میں حضرت عنایت خان کے نام سے مشہور ہوئے ٗ تصوف اور صوفی طریقے میں دلچسپی لیتے تھے ٗعلاوہ ازیں وہ موسیقی میں بھی ماہر تھے اور نظام حیدرآباد کے دربار سے تان سین کا لقب پایا تھا۔ 1910ء میں وہ صوفی عقائد کا پرچار کرنے لندن گئے اور وہاں یورپ میں بہت مقبولیت حاصل کی ‘1926ء میں وہ واپس ہندوستان آئے اور دہلی کے قریب نظام الدین اولیاء کے مزار کے ساتھ اپنی قبر کے لئے جگہ کی شناخت کی اور اس کے فوراً بعد44سال کی عمر میں دہلی میں انتقال کرگئے اور نظام الدین اولیاء کے مقبرے کے پاس دفن ہیں ‘ مغرب کے کئی ممالک میں ان کے شروع کئے ہوئے صوفی طریقے کے پیروکار موجود ہیں اور ٹولیڈو میں جہاں میں رہائش پذیر ہوں حضرت عنایت خان کے مرید موجود ہیں۔ان کی بیٹی نور عنایت خان کی انگلستان اور فرانس میں تربیت اور تعلیم ہوئی ٗ دوسری جنگ عظیم میں شہزادی عنایت خان نے حکومت برطانیہ کو اپنی خدمات پیش کیں اور اس کے انگریزی اور فرانسیسی پر عبور ہونے کی وجہ سے1940ء میں اسے فرانس بھیجا گیا تاکہ وہ وہاں سے جرمن فوجوں کی نقل و حرکت کی رپورٹیں لندن بھیجے‘ ان دنوں فرانس پر ہٹلر کی جرمن فوج نے قبضہ کیا ہوا تھا۔ شہزادی نور کو وائرلیس ٹیلی گرافی پر عبور حاصل تھا۔

جاسوسی کی ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد اسے فرانس بھیج دیا گیا جہاں اس نے ایک گمنام عورت کی طرح رہنا شروع کیا اور وائرلیس کے ذریعے لندن رپورٹیں بھیجنا شروع کردیں۔یہ ایک اہم لنک تھا جس کے ذریعے پیرس اور فرانس میں جرمن افواج کی مزاحمت کرنے والے فرانسیسیوں کو ہدایات ملتی تھیں کہ کہاں حملہ کیا جائے اور پھر حملے کی تفصیلات اور ناکامی یا کامیابی کی تفصیلات وائرلیس کے ذریعے لندن پہنچ جاتی تھیں۔نور عنایت خان پہلی خاتون تھی جس نے وائرلیس کے ذریعے لندن سے رابطہ قائم رکھا‘ جنگ کے دوران اور بھی بہت سی خواتین نے اتحادی افواج کی مدد کی لیکن صرف پیغام لینے اور لانے کی حیثیت سے کوئی اور خاتون اس رینک تک نہیں پہنچی جہاں نور عنایت خان پہنچی تھی۔فرانس میں جرمن حکام اس کھوج میں تھے کہ پیرس میں کون ایسا شخص ہے جو مقامی حالات کی خبریں لندن پہنچا رہا ہے بالآخر ایک ڈبل ایجنٹ نے جرمن حکام کو بتایا کہ یہ سب کام ایک عورت کر رہی ہے‘ انہوں نے نور عنایت خان کو گرفتار کرلیا اور تفتیش شروع کردی اس دوران اس پر بہت تشدد کیا گیا لیکن اس نے نہ کوئی راز اگلے ٗاور نہ ہی باقی جاسوسوں کی نشاندہی کی۔ اسے فرانس سے جرمنی بھیج دیا گیا جہاں بدنام زمانہ کیمپ ڈاچا (Dachau)میں جہاں لاکھوں یہودیوں کو قتل کیا گیا تھاوہاں شہزادی نورعنایت خان کو13ستمبر1944ء کو قتل کر دیا گیا‘ شہزادی نور عنایت خان اپنے والد کی طرح عدم تشدد پر یقین رکھتی تھی ۔

لیکن اس نے اور اس کے بھائی ولایت خان نے فیصلہ کیا کہ وہ جرمنی کے خلاف برطانیہ کی حمایت کریں گے اور اسی جذبے کے تحت اس نے اپنی خدمات حکومت برطانیہ کو پیش کیں ورنہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان لڑکی جسے لٹریچر کے علاوہ موسیقی اور آرٹ پر پورا عبور حاصل تھا جنگ کا زمانہ بڑے آرام سے گزار سکتی تھی۔گزشتہ دہائی میں حکومت برطانیہ نے شہزادی عنایت خان کی جنگ کے دوران اہم ترین خدمات کا اعتراف کیا برطانیہ اور فرانس دونوں ممالک نے اس کے مرنے اور جنگ عظیم کے ختم ہونے کے بعد اسے اعلیٰ ملٹری ایوارڈ عطا کئے لندن کے گورڈن گارڈنز میں اس کا مجسمہ نصب کیا گیا ‘اس کی زندگی اور اسکی لاثانی خدمات پر بہت سی کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں۔