336

خطے کی سکیورٹی کو درپیش خطرات

افغانستان 90ء کی دہائی کی طرح ایک بار پھر بحرانی صورتحال سے گزر رہا ہے اور اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ جاری مفاہمتی عمل کے نتیجے میں امن اور استحکام کی راہ ہموار ہوگی‘ اسباب اسکے کئی ہیں ایک تو یہ کہ طالبان سے امن وامان اور سیز فائر کی شرائط منوائے بغیر آدھی افواج کا امریکی اعلان دوسروں کے علاوہ افغان حکومت ایران اور پاکستان کے لئے تشویش کا سبب بنا ہوا ہے اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ بعض اعلیٰ ترین امریکی عہدیدار بھی جاری عمل پر نہ صرف اعتراضات کرتے دکھائی دیئے بلکہ متعدد نے استعفے بھی دیئے ہیں‘صدر ٹرمپ شام اور افغانستان سے فوجوں کے انخلاء کو معاشی پالیسی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں جبکہ امریکہ کے سکیورٹی حکام اس معاملے کو ان دو اہم جغرافیائی علاقوں کے مخصوص حالات اور مستقبل کے سیاسی منظر نامے کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں‘ افغان طالبان کے ساتھ جاری مفاہمتی عمل کی ذمہ داری افغان نژاد زلمے خلیل زاد کو سونپی گئی ہے جو کہ اپنی ایک کتاب کے علاوہ متعدد انٹرویوز میں کئی باریہ کہہ چکے ہیں کہ 90ء کی دہائی میں افغانستان سے روس کی واپسی کے عمل کے دوران روس اور امریکہ نے متبادل نظام لائے بغیر لاتعلقی پر مبنی رویہ اپنا کر بہت بڑی غلطی کی تھی‘ ۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ کل جو پوزیشن مجاہدین اور سوویت یونین کی تھی آج وہی پوزیشن طالبان اور امریکہ کی ہے اور زلمے خلیل زاد غالباً وہی غلطی دہرانے جارہے ہیں جو کہ سوویت پالیسی سازوں سے ماضی میں سرزد ہوگئی تھی‘ یہ طے ہے کہ امریکہ افغانستان سے اپنے اڈے ختم نہیں کریگا تاہم جس طریقے سے طالبان کی اہمیت اور شرائط تسلیم کی گئی ہیں اس کے بعد افغان حکومت اور اداروں کی کیا ساکھ اور اہمیت رہ جائے گی‘ یہ ایک ایسا سوال ہے جس نے دوسروں کے علاوہ افغان حکمرانوں اور طالبان مخالف حلقوں کو سخت تشویش میں مبتلا کردیا ہے‘ جس طریقے سے باضابطہ مذاکرات کے دوران افغان حکومت کو باہر رکھا گیا اس پر دوسروں سمیت عبداللہ عبداللہ ‘ اشرف غنی اور حامد کرزئی نے زلمے خلیل زاد کے ساتھ کابل میں ہونیوالی ملاقاتوں کے دوران بھی اعتراضات اٹھائے۔اگر کوئی متبادل اور محفوظ سیٹ اپ یا پلان بنائے بغیر امریکہ افغانستان سے نکل گیا تو یقینی خدشہ ہے کہ بدقسمت ملک ایک بار پھر خانہ جنگی اور عدم استحکام کی صورتحال سے دوچار ہوجائے گا اور گزشتہ سترہ برسوں کی عالمی سرمایہ کاری ضائع ہوجائے گی۔

اس کے نتیجے میں نہ صرف افغان ادارے بری طرح متاثر ہوں گے اور عوام پھر سے طالبان کے رحم وکرم پر چھوڑ دیئے جائیں گے بلکہ پاکستان ‘ایران اور بعض وسطی ایشیائی ریاستیں بھی بری طرح متاثر ہوں گی‘ اور شاید اسی کا ردعمل یا خوف ہے کہ پاکستان چند ہفتے قبل بعض ایسے ہی خدشات کا حکومتی سطح پر اظہار کرچکا ہے‘ جس کے نتیجے میں خطے کے حالات ممکنہ طور پر پھر سے خراب ہوسکتے ہیں‘ ایران بھی طالبان کے معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتا چلا آرہا ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہر مسئلے کا حل مذاکرات اور مفاہمت ہی سے ممکن ہوتا ہے‘ تاہم جس طریقے سے امریکہ زمینی حقائق اور متوقع خطرات کا ادراک کئے بغیر مفاہمتی عمل کو یکطرفہ طور پر چلانے کی کوشش کررہا ہے اس سے خطے کے حالات پھر سے بری طرح خراب ہوں گے اور شاید امریکہ بھی یہی چاہتا ہے افغانستان کے حالات سے امریکہ براہ راست متاثر نہیں ہوتاتاہم پاکستان ‘ایران ‘روس اور چین جیسے اہم ممالک کا معاملہ امریکہ کے بالکل برعکس ہے اور نئے جغرافیائی منظرنامے میں کوئی بھی غلطی ان ممالک کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے‘ امریکی اعلانات اور بعض شرائط ماننے کے باوجود کابل کے ایک سرکاری کمپاؤنڈ پر حملے اور اس میں 50 کے قریب افراد کی ہلاکت کے واقعے نے مفاہمتی عمل کے مستقبل کو مشکوک بنادیا ہے اور یہ سوال سرکاری سطح پر بھی اٹھایا جانے لگا کہ اگر فریقین کسی فارمولے پر واقعتا پہنچ گئے ہیں تو اتنا بڑا حملہ کسی بھی صورت اطمینان بخش قرار نہیں دیا جاسکتا اور لگ یہ رہا ہے کہ امریکہ وہی غلطی دہرانے جارہا ہے جو کہ ماضی میں سوویت یونین نے کی تھی‘ ایسے میں علاقائی قوتوں کو اپنے طور پر کوئی منصوبہ بندی کرنا ہوگی ورنہ خط پھر سے جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا۔