361

چھوٹی چھوٹی خوشیاں

ولیم میرے بہت اچھے دوست ہیں‘ خیراتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں‘ جب سے انہوں نے ایک پاک برطانوی این جی او کو جوائن کیا ہے تب سے اکثر پشاور آتے رہتے ہیں‘پہلے آتے تو میرے پاس ہی ٹھہرتے‘ ہماری طرح شلوار قمیض پہنتے اور چترالی ٹوپی پہنتے۔ چھوٹی سی داڑھی بھی رکھی ہوئی تھی‘ رمضان کے مہینے میں تو ہمارے ساتھ روزے بھی رکھتے‘اتفاق کی بات کہ ہمارے ایک جاننے والے کی بیٹی بھی اس این جی او میں شامل ہوگئی ۔ مختصر یہ کہ ولیم مسلمان ہوگیا اور سسر کے کہنے پر نام بدلنے کے بعد دونوں کی شادی ہوگئی۔ اب تو ماشاء اللہ تین چار بچے بھی ہیں۔ جب ان کے سسر نے کوئی مناسب نام سوچنے کا کہا تو میں نے اسکی مخالفت کی کہ ناموں میں مذہب کا کوئی رول نہیں ہے‘ پوری اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی عرب نے مسلمان ہونے کے بعد اپنا نام نہیں بدلا۔ ہاں ایک صحابی کا نام ایک بت کی نسبت سے تھا عبدالعزیٰ‘ جو پیغمبر ؐنے بدل دیا تھا‘اپنے پیارے پیغمبر سے لیکر خلفائے راشدہ تک کے سارے نام زمانہ کفر ہی کے رہے‘ اب بھی بہت سے نو مسلم جو مغرب میں اسلام قبول کرتے ہیں تو نام بدلنے کے جھنجھٹ میں پڑتے ہی نہیں۔ ہاں ان میں سے وہ لوگ جو سٹیج اور شہرت کی بلندیوں تک پہنچتے ہیں‘ وہ اپنا کوئی لقب ضرور ایسا رکھتے ہیں جو ہم مشرقی مسلمانوں کو اپنا اپنا محسوس ہوتا ہے۔

نام میں کیا رکھا ہے۔ یہ مجھے یوں یاد آیا اور ہنسی بھی آئی کہ نئے سال کے شروع ہوتے ہی پہلے ہمارے کچھ صالحین ڈنڈا بردار فورس منظم کرتے اور کہیں کوئی مسکرانے والا ملتا تو اس پر پل پڑتے۔ اس دفعہ یوں تو نہ ہوا البتہ سوشل میڈیا پر بڑی لے دے ہوئی۔ ایک دل جلے نے پوسٹ کیا کہ مجھے انگریزی سال کی مبارکباد کوئی بھی دینے کی جرات نہ کرے‘ میں نے پوچھا کہ کیا دن ‘ مہینے اور سال بھی مذہب رکھتے ہیں‘ یہ جسے ہم اسلامی سال کہتے ہیں‘ پیغمبرؐ کے کئی سال بعد شروع ہوا‘ یہ اسلامی مہینے وہی عرب مہینے تھے جو اسلام سے قبل زمانہ کفر سے رائج تھے‘ دنوں کے نام بھی وہی ہیں‘یہ امت کی زوال کی نشانیاں ہیں کہ ہم ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں پھنس گئے ہیں اور اسلام کے بنیادی اصول بھلا بیٹھے۔ بھلا وہ جھوٹ جو دوسرے مذاہب کیساتھ ساتھ ہمارے مذہب میں بھی تمام گناہوں کی جڑ جانا جاتا ہے‘ کیوں ہم میں عام ہے‘ وہ صفائی جو تمام مذاہب کا خاصہ ہے‘ ہم عین مسجد کے وضو خانے میں کیوں بہا دیتے ہیں‘ خیانت پر کوئی ڈنڈا نہیں اٹھاتا۔ نہیں وہ تو مشکل کام ہیں‘ کیوں نہ کرسمس پر یلغار کیا جائے۔ کیا؟ آپ نے کرسمس پر مبارکباد دی؟ توبہ توبہ‘ بھلے مانس عیسیٰ ؑ تو ہمارے بھی پیارے نبی تھے‘ پھر یہ بہانا تراشا گیا کہ وہ تو پچیس دسمبر کو پیدا نہیں ہوئے تھے‘ یہی اختلاف تو عید میلادالنبیؐ میں بھی ہے‘ لیکن ہم لوگوں کو خوشی منانے سے چڑ ہے ۔ خواہ وہ کوئی مذہبی تہوار ہو یا موسمی۔قومی دن ہو یا ویسے ہی موسم اچھا ہو‘ ہم اگر خوشی منانا بھی چاہیں تو ڈر ڈر کر ادھر اُدھر دیکھتے ہیں‘ جب خوشی منانے پر اتنی پابندی ہو تو اسکا انجام یہی نکلے گا کہ شادی بیاہ کے مواقع پر ‘ کرکٹ میچ جیتنے پر ہم آپے سے باہر ہوجاتے ہیں ہوائی فائرنگ کرکے کئی گھروں کے چراغ گل کردیتے ہیں یا موٹر سائیکلوں پر ون ویلنگ کرکے خود ہی جان یا ہاتھ پیروں سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں۔

میرے خیال میں خوشی منانے میں مانع ہماری بہت سی ناقابل یقین روایات ہیں جو صحابہ سے لیکر اولیاء تک سے منسوب ہیں کہ وہ ہر وقت روتے رہتے تھے‘ کبھی انکے چہرے پر ہنسی مسکراہٹ نہیں ہوتی تھی اور ہر وقت اللہ کے خوف سے لرزتے رہتے تھے‘ حالانکہ وہ ہم سے کئی گنا زیادہ اللہ کی رحمت سے واقف تھے‘ بھلا حضرت ابوبکر رضی اللہ جیسے مصروف اور دور اندیش صحابی کے پاس اتنا وقت تھا کہ وہ ہر وقت یہی رونا روتے کہ کاش وہ ایک تنکا ہوتے‘انکو تو اپنے وقت کی سب سے بڑی سلطنت چلانی تھی‘ اسلام یہ نہیں کہ ہر وقت رونا دھونا جاری رہے بلکہ یہ اس دنیا سے بھی حظ اٹھائے لیکن کسی کی حق تلفی کئے بغیر‘ کسی کے اوپر ٹھٹھا کئے بغیر‘ ہمسایوں کو آزار پہنچائے بغیر‘اپنی خوشی میں دوسروں کو شریک کرکے‘ گناہ کبیرہ سے اجتناب کرکے۔ پیغمبرؐ کی سب سے مقبول دعا یہی تھی نا کہ اے اللہ ہماری یہ دنیا بھی خوبصورت بنااور آخرت بھی۔ بھلا رونے دھونے والی کونسی دنیا خوبصورت ہے؟ جب اللہ ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے کہ تم کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤگے تو ان سے مراد اسی دنیا کی نعمتیں ہیں۔ سب سے آسان صدقہ ہی دوسروں سے مسکراکر بات کرنا ہے چاہے وہ کسی کو مبارکباد دینی ہو یا ان کو خوش آمدید کہنا ہو‘ جب امریکہ کا صدر ہمیں عید مبارک کا پیغام دیتا ہے تو ہم خوشی سے پھولے نہیں سماتے ‘ پھر ہمیں کون سا گناہ دوسرے مذاہب کو ان کے تہوار پر مبارکباد دینے سے روکتا ہے۔