181

ٹائم لائن کا احساس؟

بعداز خرابی بسیار سہی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے رشکئی اکنامک زون کے منصوبے سے متعلق ہدایات میں واضح کیا ہے کہ ٹائم لائن اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ٗوزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے 50ہزار لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں پن بجلی منصوبوں کی پیداوار کی ترسیل کیلئے اپنی لائن بچھانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے‘ وطن عزیز میں سرکاری منصوبوں کی امکاناتی رپورٹ سے لیکر انکے آپریشنل ہونے تک کے امور پر سوالیہ نشان لگتے رہے ہیں‘ہم اکثر منصوبوں کیلئے سائٹس کا انتخاب درپیش ضروریات کی بجائے مخصوص لوگوں کے مفادات کو سامنے رکھ کرہی کرتے رہے ہیں ٗمنصوبوں کی فیزیبلٹی میں زمینی حقائق نظر انداز ہوتے رہے ہیں ہمارے اکثر پراجیکٹ تکنیکی مہارتوں سے عاری رہے ہیں‘ ٹائم لائن پر عملدرآمد کا فقدان تو عام ہے‘ اس سے نہ صرف منصوبے کے مقاصد کا حصول مشکل ہوتا ہے بلکہ وقت کے ساتھ افراط زر اور مہنگائی کے باعث ان پراجیکٹس پر تخمینہ لاگت میں اضافہ بھی ہوتا ہے‘ جس کی ایک مثال حال ہی میں ایک پاور پراجیکٹ کے حوالے سے اعداد و شمار کے ساتھ منظر عام پر آئی۔

سرکاری منصوبوں کا معیار اس حد تک تنقید کی زد میں رہا ہے کہ ہر ناقص تعمیر کو عام لوگ سرکاری انداز کا نام دیتے ہیں اسوقت خیبر پختونخوا میں برن سنٹر ٗکارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ ٗنشتر آبادکی عمارت اور دوسرے کئی منصوبوں کے آپریشنل ہونے کاانتظار ہے جن پر تاخیر کے باعث لاگت بھی بڑھتی رہی ہے‘ وزیر اعلیٰ خود بس منصوبے کے تعمیراتی کام کی رفتار کا نوٹس لے چکے ہیں ٗاب جبکہ حکومتی سطح پر سرکاری منصوبوں کیلئے ٹائم لائن کا احساس ہونے لگا ہے تو اس پر عملدرآمد کیلئے اوور سائٹ کا انتظام بھی ضروری ہے ضروری یہ بھی ہے کہ تاخیر کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو سٹڈی کیا جائے اس میں سب سے اہم سٹیک ہولڈر محکموں کے درمیان باہمی رابطے کا فقدان ہے‘سڑک کی تعمیر کیلئے واپڈا کو لائن ہٹانے کیلئے ادائیگی کیساتھ پولز کا ہٹانا ایک صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے‘یہی حال دیگر سروسز کا بھی ہے ٗباہمی رابطوں کا فقدان ہی ہے کہ جسکے نتیجے میں تعمیر کیساتھ تخریب بھی نظر آتی ہے‘ایک محکمہ سڑک بناکر فارغ ہوتا ہے تودوسرا اگلے دن اپنی لائن بچھانے کیلئے اسے توڑرہا ہوتا ہے صوبے میں تعمیرات اور خدمات کے معیار اور ٹائم لائن پر عملدرآمد کیلئے ضروری ہے کہ ماہرین پر مشتمل ایک باڈی تشکیل دی جائے جو ہر ماہ اپنی رپورٹ متعلقہ وزراء اور وزیر اعلیٰ کو پیش کرے اور ذمہ دار افراد کی نشاندہی بھی کرے تاکہ ان سے پوچھ گچھ ہو سکے۔

سکیورٹی انتظامات

پشاور کینٹ میں گزشتہ روز ہونے والے کار بم دھماکے اور دستی بم و اسلحہ سمیت ایک افغان باشندے کی گرفتاری کیساتھ سکیورٹی الرٹ کر دی گئی ہے صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کاکہنا ہے کہ دھماکہ معمولی واقعہ نہیں‘ اسلئے سکیورٹی کا ازسرنوجائزہ لیا جائے گا‘کینٹ دھماکہ سکیورٹی انتظامات پر سوالیہ نشان ہونے کے ساتھ ان پرنظرثانی کا متقاضی بھی ہے‘قانون نافذ کرنیوالے اداروں کیساتھ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ تاجر تنظیمیں اور بلدیاتی اداروں کی منتخب قیادت بھی اس حوالے سے ذمہ داریوں کا احساس کرے‘ اس ذمہ داری کی انجام دہی میں حکومت اور خصوصاً پولیس کی جانب سے انہیں تعاون و سرپرستی دینا بھی ضروری ہے شہریوں کو یہ اعتماد بھی دینا ضروری ہے کہ انہیں اس تعاون پر بھرپور تحفظ بھی دیا جائے گا۔