249

صدر ٹرمپ اور افغان جنگ

دسمبر کے مہینے میں صدر ٹرمپ نے افغانستان سے سات ہزار امریکی افواج کی واپسی کا اعلان کیا تھا اب دو جنوری کو وائٹ ہاؤس میں ایک طویل پریس کانفرنس کے دوران صدر امریکہ نے افغان جنگ کے بارے میں کچھ ایسی متنازع باتیں کہیں جن پر انڈیا اور افغانستان کی حکومت نے ناراضگی کااظہار کیا ہے‘صدر ٹرمپ کے افغانستان کی تاریخ کا حلیہ بگاڑنے والے اس غیر ذمہ دارانہ بیان پر انکا اپنا سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ بھی تلملا اٹھا اور اس نے بھی دھیمے لہجے اور دبے لفظوں میں ریکارڈ درست کردیا‘اس پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے پاکستان کی نئی قیادت سے ملاقات کی خواہش کا اظہار بھی کیا ایک طویل اور شدید مخاصمت کے بعدڈونلڈ ٹرمپ کے اس غیر متوقع اظہار التفات کو اسلام آباد کے پالیسی ساز حلقوں نے ایک مثبت تبدیلی قرار دیا اور اسکے بعد کچھ ایسی خبریں بھی آنے لگیں کہ وزیر اعظم عمران خان عنقریب واشنگٹن کا دورہ کرنیوالے ہیں‘گذشتہ ہفتے افغانستان کیلئے امریکہ کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد بھی دوحہ اوردبئی میں طالبان کیساتھ مذاکرات کر چکے ہیں‘یہ بات چیت اگرچہ کہ کسی نتیجے کی طرف بڑھتی ہوئی نظر نہیں آ رہی مگر اسکے اس مثبت پہلو کو غنیمت سمجھا جا رہا ہے کہ یہ سلسلہ جنبانی جاری رہیگا۔

طالبان اور امریکہ کے درمیان اس رابطے کا کریڈٹ بھی بجا طور پر پاکستان کو دیا جا رہا ہے‘ یوں ہفتہ رفتہ میں ہونیوالے واقعات کی رو سے امریکہ پاکستان تعلقات کچھ بہتر ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں‘دیکھا جائے تو صدر امریکہ کی دو جنوری کی پریس کانفرنس کے بارے میں نئی دہلی‘اسلام آباد اور کابل سے تین مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں‘انکی اہمیت اپنی جگہ مگر امریکی میڈیا نے افغان جنگ کے بارے میں صدر ٹرمپ کی لاعلمی اور بے خبری پر انکی جو بھد اڑائی ہے اس نے انکی افغان پالیسی کو متنازع بنا دیا ہے‘یہاں ہم پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے کیا غلط بیانی کی پھر امریکی دانشوروں کے چند تبصروں سے محظوظ ہونگے‘ صدر امریکہ نے دو جنوری کی پریس کانفرنس میں کہا کہ 1979 میں سوویت یونین نے اسلئے افغانستان پر حملہ کیا کہ دہشت گرد روس جا رہے تھے اس میں انہوں نے یہ اضافہ بھی کیا "They were right to be there, the problem is it was a tough fight." یعنی وہ ایسا کرنے میں حق بجانب تھے‘ یہ ایک سخت جنگ تھی‘اپنے صدر کی اس لاعلمی پر برہم ہو کر میڈیا نے خاصی تفصیل سے افغان جنگ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سوویت یونین نے 1979 میں افغانستان میں ہونیوالی خانہ جنگی کے دوران پہلے اپنی فوج بھجوائی پھر ایک سوشلسٹ حکومت کو برقرار رکھنے کیلئے دس سال تک اسکی ہر طرح سے مدد کی امریکی میڈیا کی اس وضاحت سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر یہ کہنا کہ ماسکو نے دہشت گردوں کی وجہ سے فوج بھجوائی تھی ایک نہایت ہی مضحکہ خیز بات ہے‘اس بیان کے بارے میں صدر اشرف غنی کی حکومت نے تین جنوری کو یہ کہا ’سوویت یونین کے حملے کے بعد تمام امریکی صدور نے نہ صرف اس حملے کی مذمت کی بلکہ مقدس افغان جہاد کی حمایت بھی کی۔

اس جنگ کے دوران افغانوں نے کسی ملک کیلئے خطرہ بنے بغیر اپنی آزادی کی جنگ لڑی‘کابل حکومت کے ترجمان نے اس بیان میں یہ ذومعنی بات بھی کہی " we undrestand there is difference between remarks and the official policy of a country" اس جملے کا اسکے علاوہ کیا مطلب ہو سکتا ہے کہ افغان حکومت یہ سمجھتی ہے کہ صدر ٹرمپ کے ریمارکس اپنی جگہ مگر اصل بات امریکہ کی سرکاری پالیسی ہے‘صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ سوویت یونین کا انہدام بھی اس دس سالہ طویل جنگ کی وجہ سے ہوا تھا‘اس حوالے سے ریکارڈ درست کرتے ہوئے نارتھ کیرو لائینا کے سینٹر فاریورپین سٹڈیز نے کہا کہ سوویت یونین کا زوال صرف اس جنگ کی وجہ سے نہ ہوا تھا بلکہ اسکی چند دوسری وجوہات بھی تھیں ان میں سے ایک بڑی وجہ امریکہ کیساتھ جوہری اسلحے کی دوڑ تھی اور دوسری وجہ سوویت بلاک کے ممالک کی مالی اور جنگی امداد تھی جس نے سوویت اکانومی کو سخت نقصان پہنچایا تھا۔

دو جنوری کو ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والی پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے داخلی اور خارجی معاملات پر کھل کراظہار خیال کیا تھا اس روز انکا اصل موضوع فیڈرل گورنمنٹ کا شٹ ڈاؤن تھا جسکی وجہ یہ تھی کہ صدر ٹرمپ نے میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے کیلئے کانگرنس سے پانچ ارب ڈالر مانگے تھے‘ ایوان نمائندگان میں کیونکہ اب ڈیموکریٹس کی اکثریت ہے اسلئے انہوں نے یہ رقم مہیا کرنے سے انکارکر دیاتھا جسکے بعد صدر امریکہ نے سالانہ بجٹ پر دستخط نہیں کئے‘ اسکے نتیجے میں ملک بھر میں اسی ہزار سرکاری ملازمین کو دو ہفتوں سے تنخواہ نہیں ملی‘اس بہت بڑی خبر نے خارجہ پالیسی سے متعلق تمام معاملات کو پردے کے پیچھے دھکیل دیا ہے دو جنوری کی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے ممتاز کالم نگا ر Timothy Egan نے پانچ جنوری کے نیو یارک ٹائمز میں We Need To Keep Laughing کے عنوان سے ایک دلچسپ کالم لکھاہے اس کالم کا ایک چبھتا ہوا فقرہ یہ ہے کہ" " Trump is the most darkly comic person to occupy the White House یعنی ٹرمپ وائٹ ہاؤس پرتصرف رکھنے والا مذاحیہ ترین شخص ہے انگریزی کے اس جملے میں darkly comic کا تعلق کیونکہ امریکی ادب کی خصوصی صنفdark comedy سے ہے اسلئے اسے رہنے دیتے ہیں Timothy Egan نے مزے کی یہ بات بھی لکھی ہے کہ صدر ٹرمپ کی باتوں میں جھوٹ اور غلطی ہائے مضامین اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ رات دیر تک چلنے والے کامیڈی شوز کی چاندی ہو گئی ہے ان پروگراموں کے اینکر پرسنز کے پاس مٹیریل کی اتنی بھرمار ہوتی ہے کہ وہ اسے سنبھال نہیں سکتے۔

امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ کیونکہ ایک نہایت سنجیدہ معاملہ ہے اسلئے خارجہ امور کے ماہرین نے صدر ٹرمپ کی افغان پالیسی پر بڑے فکر انگیز مضامین لکھے ہیں‘امریکی جنگوں پر کئی کتابوں کے مصنفRobert Kaplan نے صدر ٹرمپ کی افغان پالیسی کے بارے میں لکھا ہے کہ زلمے خلیل زاد کا مشن یہ ہونا چاہئے کہ امریکہ اس طرح سے اپنی افواج افغانستان سے نکالے کہ افغان حکومت اپنی جگہ برقرار رہے انکی رائے میں اگر کابل حکومت ختم ہو جاتی ہے تو پھر امریکہ کو افغانستان ا سی طرح چھوڑنا پڑیگا جس طرح اس نے 1975 میں ویتنام چھوڑا تھا رابرٹ کپلن کی رائے میں امریکہ کی افغانستان سے واپسی ہر صورت میں ویتنام سے مختلف ہونی چاہئے کپلن نے مشورہ دیا ہے کہ امریکی افواج کی واپسی جب بھی ہو اسکاٹائم ٹیبل خفیہ رکھنا چاہئے اس طرح سے دشمن انخلاکے راستے میں رکاوٹیں کھڑی نہ کر سکیں گے‘ مصنف نے لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی منتشر اور نااہل حکومت سے اس طرح کے کارنامے کی امید رکھنا ایک بڑی حماقت ہے ۔

امریکہ کی داخلی صورتحال میں عمران خان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات ایک ایسا پیچیدہ معاملہ ہے جسکی چھان پھٹک نہایت ضروری ہے یہ ایک بالکل الگ موضوع ہے اس میں افغان جنگ سے صدر ٹرمپ کی نا واقفیت سے زیادہ یہ دیکھنا پڑیگا کہ انہوں نے کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو‘ فرانس کے صدر ایمانول میکرون اور برطانیہ کی وزیراعظم تھیریسامے کیساتھ کیا سلوک کیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ تین امریکی جرنیلوں کو کھری کھری سنا کر اپنی کابینہ سے رخصت کر چکے ہیں ان سے ملاقات کا شوق رکھنے والے مرزا غالب کے اس مشہورشعر سے استفادہ کر سکتے ہیں
بوئے گل‘ نالہ دل دود چراغ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا