157

پاکستانی نامزد سفیر اسد مجید چارج امریکہ پہنچ گئے

واشنگٹن۔ امریکا میں پاکستان کے نئے سفیر ڈاکٹر اسد مجید خان عہدے کا چارج سنبھالنے کے لیے واشنگٹن پہنچ گئے۔ڈاکٹر اسد مجید سبکدوش سفیر علی جہانگیر صدیقی کی جگہ عہدہ سنبھالیں گے، جنہوں نے گذشتہ ماہ 25 دسمبر کو اپنے عہدے کا چارج چھوڑا تھا۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ڈاکٹر اسد مجید کے تقرر کا اعلان گزشتہ برس اکتوبر میں کیا تھا۔ڈاکٹر اسد مجید آئندہ چند روز میں اپنی اسناد سفارت امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کریں گے۔ان کے اولین مقاصد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے درمیان ملاقات کے مواقع تلاش کرنا ہے۔ڈاکٹر اسد مجید اب تک جاپان کے شہر ٹوکیو میں بطور سفیر تعینات تھے جو علی جہانگیر صدیقی کی جگہ سفیر کی ذمہ داریاں سنبھالنے امریکا پہنچ گئے۔خیال رہے کہ علی جہانگیر صدیقی کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنی مدت ختم ہونے سے چند روز قبل نامزد کیا تھاجس پر انہیں خاصی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا البتہ اس کے باوجود وہ سات ماہ سے زائد اس عہدے پر تعینات رہے۔

واضح رہے کہ 2 جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں امن عمل کی امریکی کوششوں پر وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ میں پاکستان کی نئی قیادت کے افراد سے ملاقات کا منتظر ہوں اور مستقبل بعید میں ہم بہت جلد اس پر عمل کریں گے‘۔رواں ہفتے امریکی، پاکستانی اور بھارتی میڈیا میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ واشنگٹن اور اسلام آباد دونوں کے سفارتی حلقے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ااور پاکستانی وزیراعظم کی ملاقات کے مواقع تلاش کررہے ہیں۔تاہم واشنگٹن کے سفارتی حلقوں کا کہنا تھا کہ اس قسم کی ملاقات صرف اس صورت میں ہوسکتی ہے جب امریکااور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کوئی پیش رفت ہوسکے۔واضح رہے کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی متعدد ادوار ہوچکے ہیں تاہم اب آئندہ ماہ سعودی عرب میں متوقع ہے، لیکن اسے اب تک حتمی شکل نہیں دی جاسکی۔ڈاکٹر اسد مجید جو واشنگٹن میں 2015 تک نائب سفیر کے فرائض انجام دے چکے ہیں، ان سے توقع ہے کہ وہ اس معاملے پر زیادہ توجہ دیں گے جس سے تجارتی شراکت داری زیادہ پائیدار ہوگی۔

دوسری جانب ان کے لیے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ امریکی حکومتی حلقوں میں پاکستان کے لیے مضبوط لابی کریں جو دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم کردار ادا کرتی تھی لیکن اندرونی اختلافات اور عدم دلچسپی کے باعث غیر فعال ہوگئیں تھیں۔اس سلسلے کی تجدید کے لیے سابق سفیر علی جہانگیر صدیقی نے کچھ کوششیں ضرور کیں لیکن اپنی مختصر مدت کے دوران اس میں کوئی خاص پیش رفت کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔خیال رہے کہ نئے پاکستان سفیر کی پاکستان اور امریکا کے تعلقات پروان چڑھانے کی کوششوں میں امریکا کی جانب سے پاکستانی سفرا پر عائد سفری پابندی بھی حائل ہوگی جس کے تحت ان کے لیے بغیر اجازت 25 میل سے زائد احاطے سے باہر جانے پر پابندی ہے۔