376

حُسنِ ظن اور سوء ظن

میرے ایک دوست کی بیگم کو قدیم کراکری جمع کرنے کا شوق ہے۔ پتہ نہیں کہاں کہاں سے خوبصورت پیالیاں‘گلاس اور مرتبان جمع کرکے گھر میں اچھا خاصا میوزیم بنایا ہوا ہے۔ انہی میں سے ایک بہت ہی قیمتی مرتبان تھا۔ ایک دن ان کا تین سالہ نواسا مرتبان کے تنگ منہ میں اپنا ہاتھ گھسا بیٹھا۔ جب ہاتھ باہر نہیں نکلا تو رونے لگا۔ سب دوڑ پڑے۔ کئی بارکوشش کرنے کے بعد بھی بچے کا ہاتھ نہیں نکال سکے تو دادا نے فیصلہ کیا کہ بس اب مرتبان کو توڑا جائے۔ دادی نے کہا ایک منٹ اور بچے سے کہا کہ بیٹا ہاتھ کی انگلیاں بالکل سیدھی کرلو تو ہاتھ نکل آ ئے گا۔ بچہ توتلی زبان میں کہنے لگا کہ پھر تو میرے ہاتھ سے روپیہ گر جائے گا۔ سب کے جا ن میں جان آئی کہ بچے نے ہاتھ سے مٹھی بنائی ہوئی تھی اور اس لئے مرتبان کے تنگ منہ سے ہاتھ نہیں نکل سکتا تھا۔

اکثر و بیشتر ہم بھی اسی بچے کی طرح ایک معمولی سی شے کیلئے اپنا ہاتھ پھنسا بیٹھتے ہیں اور روتے رہتے ہیں۔ زندگی خوشی اور تردد و مشکلات کا مجموعہ ہے۔ اس کا انحصار ہم پر ہے کہ ہم خوشیوں کو سب سے اوپر رکھتے ہیں یا مشکلات و تکلیفات سے زندگی کو پراگندہ رکھتے ہیں۔ ہاورڈ یونیورسٹی کی مثال لیں۔ ایک مطالعے میں دیکھا گیا کیا کہ وہاں پانچ میں سے چار طلبہ ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر عام سائیکالوجی سے دیکھا جائے تو بظاہر اسی فیصد طلبہ وہاں اچھی حالت میں نہیں ہیں‘تاہم اب سائیکالوجی کی ایک اور شاخ وجود میں آگئی ہے جسے پازیٹو سائیکالوجی یعنی مثبت نفسیات کہا جاتاہے۔ یہ شاخ اس پانچویں طالب علم پر توجہ دیتی ہے جو خوش ہے‘ جب ان طلبہ کا مطالعہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ ہر لحاظ سے کامیاب طلبہ میں شمار ہوتے ہیں ان کو جب لمبے عرصے تک دیکھا گیا تو وہ عام زندگی میں بھی کامیاب بزنس مین یا پروفیشنل رہے۔یہی مطالعہ جب جنوبی افریقہ میں ایک یونیورسٹی کے طلبہ پر کیا گیا تو وہاں خوش طلبہ کا تناسب کہیں زیادہ نکلا۔ وجہ یہ تھی کہ وہاں زیادہ تر طلبہ اپنے مطالعے سے حظ اُٹھاتے تھے اور اپنے کورس کو چیلنج سمجھ کر قبول کرتے تھے۔ عام نفسیات یہ ہے جب ہم کسی میدان میں کمزور ہوتے ہیں تو ساری جدوجہد اسی ناکامی کو کامیابی میں بدلنے میں مرکوز ہوتی ہے اور زندگی کی جن راہوں میں ہم کامیاب ہوتے ہیں، اس کامیابی کی خوشی سے محروم رہتے ہیں۔ یہ محرومی ہمیں زندگی میں آگے بڑھنے سے بھی روکتی ہے۔

کامیابی کیا ہے؟ بظاہر ہر وہ عمل جس سے آپ کو خوشی ملتی ہے‘ کامیابی ہی کہلائی جاسکتی ہے‘تاہم اس خوشی کے بہت وسیع اثرات بھی ہوتے ہیں۔ جب دماغ میں خوشی کے احساسات جاگتے ہیں تو دماغ میں کچھ کیمیکلز جیسے سروٹنین اور ڈوپامین خارج ہوتے ہیں۔ یہ کیمیکلز دماغ کے خلیوں کے درمیان سرکٹ کو تیز کردیتے ہیں۔ گویا دماغ کے خلیوں اور سرکٹ کو جلا بخشتے ہیں۔ اس سے دماغ کی صلاحیت تیزہوجاتی ہے اور بقیہ زندگی کی تکلیفات اور مشکلات کو حل کرنے میں آسانی آ جاتی ہے‘یعنی خوشی ویسے ہی کامیابی کی راہ ہموار کرتی ہے۔ یوں جب ہم اپنی خوشی پر مرکوز رہتے ہیں تو زندگی ویسے ہی آسان ہوجاتی ہے۔ یہی وہ اصول ہے جو اس وقت دنیا کی بہترین اور کامیاب ترین کمپنیوں نے اپنائی ہوئی ہے۔ گوگل‘ فیس بک اور یاہو جیسی کمپنیوں نے اپنے دفاتر میں ملازمین کیلئے مفت کھانا پینا‘ فلمیں اور ویڈیو گیمز‘جم اور آرام کرنے کے سارے انتظام کئے ہوئے ہیں۔

ان کو اپنے بچے ساتھ لانے کی اجازت ہوتی ہے اور ان کی ڈیوٹی بھی فکس نہیں ہوتی‘اسی وجہ سے ان جگہوں پر ملازمت بہت مشکل سے ملتی ہے لیکن ملازمین اتنے خوش ہوتے ہیں کمپنیاں ہر وقت ریکارڈ منافع ہی میں رہتی ہیں۔ بہت سے تحقیقی مطالعوں میں دیکھا گیا ہے کہ وہ لوگ جو صبح اپنے کام پر اچھے موڈ میں جاتے ہیں، وہ دوسروں سے اچھا اور زیادہ کام کرتے ہیں‘ ان کی قسمت میں کامیابی ہی لکھی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ان کی ترقی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ترقی کی وجہ سے خوش نہیں ہوتے بلکہ ان کے خوش رہنے کی وجہ سے کامیابیاں ان کے قدم چومتی ہیں۔ آپ ہی سوچئے جس دن آپ خراب موڈ میں دفتر یا دکان جاتے ہیں تو اس دن نہ تو آپ کے ماتحت سکون سے کام کرسکتے ہیں نہ ہی سائل یا گاہکوں کو اچھی سروس ملتی ہے‘یعنی آپ کی ملازمت یا کاروبار کی ترقی کا دارومدار آپ کے خوش رہنے پر ہے۔

ایک اور تحقیقی مطالعے میں دیکھا گیا کہ وہ لوگ جو زندگی کے مثبت پہلوؤں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں وہ نہ صرف زیادہ خوش رہتے ہیں بلکہ ان کی توقعات بھی زندگی سے زیادہ بہتر ہوتی ہیں۔ جو لوگ زندگی کے مشکل پہلوؤں پر زیادہ مرکوز رہتے ہیں تو وہ نہ صرف ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں بلکہ ان سے مسائل حل ہی نہیں ہوپاتے۔ جب مسائل حل نہیں ہوپاتے تو ذہن مزید ڈپریشن میں چلاجاتا ہے اور یوں حالات خراب سے خراب تر ہوتے جاتے ہیں۔ اس لئے کسی بھی وقت منفی سوچ میں وقت ضائع ہی نہیں کرنا چاہئے۔ یہی فرق ہے حُسنِ ظن اور سوءِ ظن میں۔