170

اہم فیصلے

وزیراعظم عمران خان نے کچی آبادیوں اور قبضہ شدہ سرکاری اراضی کو خالی کراتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کا حکم دیا ہے کہ یہاں آباد غریب لوگوں کو متبادل اور معیاری رہائش گاہیں فراہم کی جائیں‘عمران خان نے قبضہ شدہ سرکاری اراضی کی نشاندہی کا عمل تیز کرنے کی ہدایت بھی کی ہے‘دریں اثناء وزیراعظم کی زیر صدارت ایک خصوصی اجلاس میں سرمایہ کاری آسان بنانے سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیاگیا‘اجلاس میں کاروبار آسان بنانے کے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر خصوصی دفاتر قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیاگیا تاکہ سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کی جاسکیں‘ وطن عزیز کو درپیش معاشی چیلنج ایک حقیقت ہے جس سے چشم پوشی ممکن نہیں‘ اس چیلنج کے نتیجے میں متاثر عوام ہی ہیں‘ لوگوں کو بھاری ٹیکس‘ بڑے حجم کے حامل یوٹیلٹی بل ادا کرنے کے باوجود مارکیٹ میں گرانی کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے‘اس سب کیساتھ مختلف شعبوں میں بدانتظامی‘ فرائض سے غفلت کے رجحان‘ ناقص منصوبہ بندی اور بدعنوانی نے صورتحال کو تشویشناک بنا رکھا ہے‘کسی بھی ریاست میں سرکاری اراضی پر ناجائز تعمیرات متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ثبت کرتی ہیں ایسے میں اعلیٰ سطح پر کوئی بھی پوچھ گچھ ہونے پر سارا زور غریب مسکین پر چلا دیا جاتا ہے‘ قابل اطمینان ہے کہ وزیراعظم نے اس بات کا احساس کیا ہے اور قبضہ شدہ اراضی کو خالی کراتے ہوئے یہاں آباد غریب شہریوں کو معیاری رہائش فراہم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

بات حکومت کے اس اقدام کو ثمر آور بنانے کے لئے اب عملی اقدامات کی ہے اراضی کی مالیت کا حساب انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے پبلک پراپرٹی کا ضرورت کے مطابق استعمال یقینی بنانے کے لئے فزیبلٹی سے لیکر پراجیکٹ کے آپریشنل ہونے تک کے عمل کو تکنیکی مہارت کے ساتھ شفاف اور اعلیٰ معیار کا حامل بنانا ضروری ہے‘حکومت کی جانب سے معاشی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے سرمایہ کاری کا فروغ ایک قابل اطمینان ٹریک ضرور ہے تاہم اس میں خدمات کی فراہمی کے لئے نئے اداروں کے قیام کے ساتھ پہلے سے موجود اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت بھی ہے‘ ادارے کے اوپر ادارہ بنادینا مسائل کی شدت کم ضرور کرتا ہے تاہم اس کا بوجھ قومی خزانے پر ہی پڑتاہے‘ بہتر یہی ہے کہ نئے ادارے پہلے سے موجود دفاتر سے سٹاف اور انفراسٹرکچر حاصل کرکے بنائے جائیں۔

مہنگائی ‘ادویات کی قیمتیں

صوبائی دارالحکومت میں چینی 8روپے کلو مزید مہنگی ہوگئی ہے جبکہ مہنگائی کے ستائے شہریوں کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے 889ادویات کی قیمتوں میں 40فیصد اضافے کا عندیہ دیا جارہا ہے‘ وطن عزیز میں گرانی کے ہاتھوں غریب اور متوسط طبقے کے شہریوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے‘ سرکاری شفاخانوں میں خدمات کا ناقص معیار مریضوں کو پرائیویٹ کلینکس اور ہسپتالوں سے رجوع پر مجبور کرتا ہے‘جہاں کے چارجز من مانے اور ہر قاعدے قانون سے آزاد ہیں‘اتنے بھاری چارجز ادا کرنے والے مریضوں کو دوائی مہنگی ‘غیر معیاری اور دو نمبر کی ملنا لمحہ فکریہ ہے‘ متعلقہ اداروں کو اس پر بھی نظر رکھنا ہوگی کہ کیوں بعض ادویات صرف مخصوص ڈاکٹروں کے قریبی سٹورز پر ہی ملتی ہیں اور کہیں نہیں ہوتیں۔