57

رزق‘ حفاظت اور حکمت

علم و حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے لہٰذا جس کسی کو جہاں کہیں سے ملے بصد تشکر و احترام وصول کر لینی چاہئے‘گردوپیش کے بارے میں دردمند مؤقف رکھنے والے ایک قاری نے توجہ دلائی ہے کہ معاملات اور معمولات زندگی کو شعوری طور پر بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ شکرگزاری اختیار کرنی چاہئے۔ اپنے زور بازو اور عقل پر خود کو خوشحال سمجھنے کی بجائے خالق کائنات کی عنایات میں اِضافے کے لئے کوششیں ضروری ہیں اور دوسروں کی مدد کرنے کے ذریعے اپنی دنیا اور عاقبت سنواری جا سکتی ہے‘ جس کیلئے نیکی کا برابر حکم اور برائیوں سے برابر روکنا ضروری ہے۔ کسی شریر طریقے سے خیر کی برآمدگی بارے توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہئے۔ برسبیل تذکرہ چند ایسے امور بطور خاص توجہ طلب ہیں‘ جن سے چھلکتی سچائی کے بارے میں اکثر زیادہ غور کرنے کا موقع نہیں ملتا۔علم محتاج توفیق ہے اور اسکی بلندیاں سراب ہیں۔ اگر کوئی شخص وافر رزق کما رہا ہے تو یقین جانیں اس میں کسی کی ذہانت یا صلاحیتوں کا کمال نہیں۔ اگر کوئی شخص کسی بڑی بیماری سے بچا ہوا ہے تواس میں خوراک یا حفظان صحت کی اختیار کردہ احتیاطی تدابیر کا عمل دخل نہیں کیونکہ ایسے بہت سے انسانوں سے قبرستان بھرے ہوئے ہیں جو منرل واٹر کے علاوہ کوئی دوسرا پانی نہیں پیتے تھے مگر پھر انہیں اچانک خطرناک بیماریوں برین ٹیومر‘ بلڈ کینسر‘ یرقان وغیرہ نے آ لیا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا سے کوچ کر گئے اگر کسی کے بیوی بچے سرکش نہیں‘ خاندان کی بیٹیاں بیٹے مہذب‘ باحیا و باکردار سمجھے جاتے ہیں‘ ۔

تو اس نیک نامی کا کریڈٹ بھی تربیت کو نہیں جاتا کیونکہ قرآن کریم میں ایسی بزرگوار ہستیوں کا ذکر موجود ہے‘ جن کے اہل خانہ نے ہدایت کو تسلیم کرنے سے اِنکار کیا۔ اگر کسی شخص کی کبھی جیب نہیں کٹی‘ رہزنی میں موبائل نہیں چھینا گیا‘ تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ بہت چوکنا ہے بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ نے بدقماشوں‘ جیب کتروں اور رہزنوں کو اس کے قریب پھٹکنے ہی نہیں دیا۔ یہ غالباً ہر انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ خود دوسروں سے اچھا کما رہا ہو تو یہ سوچنا شروع کر دیتا ہے کہ وہ ضرور دوسروں سے زیادہ محنتی‘ چالاک‘ منظم اور ماہر انسان ہے۔ پھر وہ اپنے اردگرد لوگوں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے‘ مگر جب یک لخت وقت کا پہیہ الٹا گھومتا ہے‘ تب اس کو پتہ چلتا ہے کہ حقیقت تو اس کی سمجھ بوجھ سے برعکس تھی! اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی رزق کے معاملہ میں آزمائش نہ ہو‘ تو تین کام کرے۔ اوّل: جو کچھ مل رہا ہے اسے محض مالک کی عطا سمجھے نہ کہ اپنی قابلیت کا نتیجہ اور ساتھ ہی مالک کا شکر بھی بجا لاتا رہے۔ دوئم: جن کو کم یا نپاتلا رزق مل رہا ہے انہیں حقیر نہ جانے نہ ایسے لوگوں سے حسدکرے جن کو چھپر پھاڑ رزق میسر ہے۔

یہ سب رزاق کی اپنی تقسیم ہے‘ اس کے بھید وہی جانے۔ سوئم: جتنا ہو سکے اپنے رزق میں حسب توفیق دوسروں کو شریک کیا جائے۔ اگر رزق زیادہ ہے تو دوسروں کو شریک بھی زیادہ کیا جائے لیکن اگر آمدن کم ہے تو اسی تناسب سے غریبوں کی کفالت کرتے رہنا چاہئے البتہ کچھ حقوق الگ اور ترجیحات متعین ہیں جیسا کہ کسی کی آمدن پر سب سے زیادہ حق‘ اسکے والدین اور رحم کے رشتے داروں بشمول نانا نانی‘ دادا دادی اور بہن اور بھائیوں کا ہے۔ اسکے بعد خون کے رشتے ہیں جیسا کہ خالہ‘ پھوپھی‘ چچا‘ ماموں‘ چچی وغیرہ۔ پھر دیگر قریبی رشتہ دار یا مسکین و لاچار لوگ۔ یقین رکھیں کہ دعا کیلئے جتنے زیادہ ہاتھ اٹھیں گے‘ برکت و رحمت کی موسلادھار بارش بھی اسی قدر اور رحمت کی ٹھنڈی پھوار زندگی کو زیادہ گل و گلزار بنا دے گی۔ عمل شرط ہے۔ زندگی کی کسوٹی اور آزمائش پر پورا اترنے کیلئے ایسے تمام امور سے اجتناب بھی یکساں اہم ہے جس سے معاشرے میں برائیاں پھیلیں‘ گناہوں کا علی الاعلان اور کھلم کھلا ارتکاب اللہ کے غیض و غضب کو دعوت دینے کا مؤجب عمل ہوتا ہے۔ اگر سب کچھ اللہ کا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تو پھر ماضی کے دانستہ و غیردانستہ گناہوں سے معافی اور حال و مستقبل میں نجی و اجتماعی زندگی کو گناہوں سے پاک بنانے کا عزم و اِرادہ کل سے نہیں بلکہ آج سے کرنا ہوگا۔ نیت کیجئے کہ خود احتسابی اور خود اصلاحی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔