83

بڑھتی آبادی کا خطرہ

پانی کی کمی کے بعد ملکی بقاء اور وسائل کو جو دوسرا سب سے بڑا خطرہ لاحق ہے وہ بڑھتی ہوئی آبادی اور گھٹتے ہوئے وسائل ہیں اگر چہ ان دونوں عوامل میں انسانی ہاتھ ہی ملوث ہے مگر ہم اپنی غلطیاں اور کوتاہیاں بھی قدرت کی مرضی پر ڈالنے کے عادی ہیں‘حالانکہ تقدیر بنانے میں بھی قادر مطلق نے انسان کو اختیار دے رکھا ہے‘ ہم دنیاوی معاملات میں ہرطرح کے نفع نقصان کودیکھ کرفیصلے کر تے ہیں حتیٰ کے موجودہ دورمیں صرف دولت کا حصول ہی سب سے بڑا ہدف ہے‘اس کیلئے حلال حرام کی تمیز بھی نہیں کی جاتی مگر اولاد پیدا کرنے اور بچوں کی تعداد پر خاندان کے وسائل کے مطابق منصوبہ بندی کرناغیر اسلامی سمجھتے ہیں اور اسی طرح بچوں کواس حال میں پروان چڑھاتے ہیں کہ وہ معاشرے کیلئے نقصان کا باعث اور والدین کے لئے دنیا و آخرت کا عذاب بن جاتے ہیں‘انکی تعلیم و تربیت اور مفید شہری بنانے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے‘ ہماری آبادی کے بڑھنے کی رفتار دنیا میں تیز ترین کہی جاتی ہے‘پاکستان کی پہلی مردم شماری 1951ء میں کی گئی اسوقت مغربی پاکستان کی آبادی 3کروڑ 30لاکھ جبکہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش )کی آبادی چار کروڑ بیس لاکھ تھی‘ تازہ ترین مردم شماری 2017ء میں ہوئی تھی جسکے مطابق ہماری آبادی 20کروڑ 78لاکھ ہے ‘اسکے مقابلے میں وسائل میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے اگر پاکستان کو زرعی ملک تسلیم کیا جائے تو قابل کاشت زمین میں تیزی سے کمی ہوئی ہے‘ 1960 کی دہائی میں ملک کو صنعت کی طرف موڑا گیا اور بڑے ڈیم بھی تعمیر ہوئے اگر یہ پالیسی جاری رہتی تو امکان تھا کہ صنعت اور زراعت میں ترقی ہوتی مگر بدقسمتی سے سیاسی تبدیلیوں‘ جمہوری اور فوجی حکومتوں کی باریوں میں زیادہ توجہ حکومت کو مضبوط کرنے پر رہی اہم منصوبوں پر کام نہیں کیا گیا‘یہی وجہ ہے کہ ترقی کا سفر منجمد ہو کر رہ گیا۔

آبادی میں اضافہ بھی اپنی رفتار سے جاری رہا اور آبادی کی ضروریات کیلئے بستیاں بسانا ایک منافع بخش کاروبار بن کر سامنے آیا‘ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے یا دولت و طاقت رکھنے والے اس جانب متوجہ ہوئے کسی حکومت نے اس نئی صنعت کو سیدھی راہ پر رکھنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی قابل کاشت زرعی اراضی پر ہاؤسنگ پراجیکٹ بنانے میں رکاوٹ ڈالی‘ اس طرح آبادی اور آبادیوں میں اضافہ تیزی سے زرعی زمینوں کوکھانے لگا‘ دولت کی ہوس نے زمین میں فصل بوئے اور مہینوں انتظار کرکے پھل حاصل کرنے کو فضول تصور کیا‘رزق کی صورت میں روزانہ ایک انڈہ حاصل کرنے کی بجائے ایک ہی بار مرغی ذبح کرکے سارے انڈے نکالنے کی لالچ میں سرسبز کھیت بھی پلاٹ بن گئے‘ اس کے مقابل لاکھوں ایکڑ ویران اور غیر آباد اراضی کو آباد کرنے یا قابل کاشت بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی ناقابل کاشت و سیع رقبوں پر کالونیاں بنانے کی توجہ دی گئی‘ ہر حکومت نے اپنی حکومت مستحکم کرنے اور پارٹی عہدیداروں کو دولت سمیٹنے میں سہولت دینے کیلئے ہاؤسنگ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کی اور اس کے لئے مستقبل کی ضرورت کی بجائے فوری دولت کے حصول کی کوشش جاری رکھی گئی‘ ڈیم بنانے کی طرف بھی توجہ اسی لئے نہیں دی گئی کہ اس سے ریاست کا فائدہ تھاسیاست کا نہیں‘ یہ شرمندگی کا باعث ہونا چاہئے کہ جن معاملات پر سیاسی اشرافیہ نے نصف صدی توجہ نہیں دی وہ معاملات اب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اٹھائے۔

نئے ڈیم بنانے کی تحریک کے بعد بڑھتی آبادی کے مسائل اور آنے والے مصائب کی جانب بھی چیف جسٹس نے ہی توجہ دلائی ہے مگر یہ زیادہ مشکل بات ہے کیونکہ اس کام کیلئے سماجی طور پر بھی کئی مسائل درپیش ہیں المیہ یہ ہے کہ شہروں کی نسبت پسماندہ علاقوں میں شرح آبادی زیادہ ہے اور اس کی وجہ تعلیم کی کمی اور شعور کی پسماندگی ہے اکثر اوقات بچوں کی پیدائش اور تعداد کا فیصلہ والدین بھی نہیں کرسکتے بلکہ گھر کے بڑے ان کو مجبور کرتے ہیں بالخصوص مائیں اور ساسیں اس حوالے سے زیادہ سخت رویہ رکھتی ہیں اسلئے آبادی میں اضافہ روکنے کیلئے نہ صرف سکولوں کی سطح پر بلکہ مساجد اور مذہبی مقامات پر اسکی تبلیغ کا اہتمام ضروری ہے اس سلسلے میں پیر اور روحانی مقامات کے سجادہ نشین حضرات کی خدمات حاصل کی جائیں تو یہ زیادہ موثر ہوسکتی ہیں‘ علماء پہلے ہی اس کام میں تعاون کررہے ہیں لیکن ان کی بات زیادہ اثر نہیں رکھتی ورنہ جس طرح ابھی تک پولیو کے قطرے پلانے کیلئے مشکلات ہیں توآبادی کنٹرول کرنے کیلئے کیسے رائے عامہ ہموار ہوسکتی ہے اس کیلئے ان لوگوں کی ضرورت ہے جن پر لوگ اعتماد کرتے ہیں ۔