155

جمہوریت مضبوط کریں

بات چاہے اڑوس پڑوس کی ہو یا ملکی سطح کی اگر کسی کے غم کی بات ہو تو اس کیساتھ غم بانٹنا چاہئے‘ سیاست میں کوئی بھی شَے حتمی نہیں ہوتی ‘ آج اگر ایک پارٹی بر سر اقتدار ہے تو کل کو دوسری بھی ہو سکتی ہے اور اگر آج ایک پارٹی پر کوئی افتاد پڑی ہے تو دوسری کو خوش نہیں ہونا چاہئے1958 سے لے کر آج تک سیاسی لیڈروں پر بہت سے کڑے وقت آئے‘ ہم نے اُس وقت سے اب تک یہ دیکھا کہ اگر ایک بر سر اقتدار پارٹی کو اقتدار سے زبردستی نکالا گیا تو حزب اختلاف نے مٹھائیاں بانٹیں‘ یہ ایسا عمل تھا کہ جس نے غیر سیاسی لوگوں کو شہ دی کہ وہ اس ملک کی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ جیسا بھی سلوک کریں گے ہمیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہو گا بس اسی شہ نے ہر آمر کو یہ جرات دی کہ وہ سیاسی حکومتوں کا تختہ الٹ دے‘1956 میں ایک آئین بنایا گیا جس میں اس ملک کو جمہوری اور پارلیمانی ملک بنایا گیا اور یہ بھی کہ اس میں ایک ابتدائیہ رکھا گیا کہ اس ملک میں کوئی بھی قانون اسلام کے خلاف نہیں بنے گا اور موجودہ قوانین کو بتدریج قران و سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا‘ اسکے بعد اس ملک میں اس آئین کے تحت انتخابات ہونے تھے‘ ظاہر ہے کہ انتخابات کیلئے سیاسی پارٹیاں اپنا اپنا زور دکھاتی ہیں ‘ا س میں جلسے بھی ہوتے ہیں اور جلوس بھی نکلتے ہیں ‘ جیسے ہی ایک سیاسی پارٹی نے ایک بہت بڑا جلوس نکالا تو دوسری سیاسی پارٹیوں اور حکومت کو یہ چیز نہ بھائی تو انہوں نے مارشل لاء کی راہ ہموار کر دی اور پھر دس سال تک کسی بھی سیاسی پارٹی کو سر اٹھانے کی جرات نہ ہوئی‘ دس سال بعد حکومت سے روٹھے ہوئے وزیر خارجہ نے ایک نئی پارٹی کی بنیاد رکھی اور ایک ایسے مُدے پر کہ جس کا وہ خود بانی تھاصدر پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔

صدر پاکستان نے حکومت کی عنان ایک فوجی جنرل کے حوالے کرتے ہوئے حکومت سے علیحدگی اختیا ر کر لی‘ جب صدر پاکستان نے حکومت سے علیحدگی اختیار کی تو جس مسلم لیگ کے ڈر سے مارشل لا ء لگوایا گیا تھا اُس کے مخالفین نے مٹھائیاں بانٹیں‘ نئے جنرل نے انتخابات کروائے اور جب انتقالِ اقتدار کا وقت آیا تو نمبر دو پارٹی نے رپھڑ ڈال دیا اور فوجی صدر کو مجبور کر دیا کہ اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی کو اقتدار نہ منتقل کیا جائے‘ جب پہلی مارشلائی حکومت جو اب بنیادی جمہوری حکومت بن چکی تھی نے گھٹنے ٹیکے تو لوگوں نے مٹھائیاں بانٹیں‘ جمہوریت کے مخالفین کو معلوم ہوگیا کہ ان سیاسی پارٹیوں میں کوئی دم خم نہیں ہے اس لئے ان کو حکومت کرنے کی اجازت نہ دی جائے‘ ‘ اسی دوران ایک آئین پاس کیا گیا اور ملک کو پھر سے جمہوریت کی پٹڑی پر چڑھادیا گیا‘ سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے صدر کا عہدہ سنبھال لیا اور آئین کی منظوری کے بعد وزیر اعظم بن گیا‘ یہ وزارت عظمیٰ کچھ عرصہ چلی اور پھر انتخابات کی تیاریاں شروع ہو گئیں‘پہلے قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے جس میں بر سر اقدار پارٹی نے جھرلو سے کام لیا تو حزب اختلاف نے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا‘ جس کے نتیجے میں ملک میں ہنگامے شروع ہو گئے اور جس کے نتیجے میں ملک کو ایک دفعہ پھر فوج نے اپنے قبضے میں لے لیا۔

فوج کے اس عمل کو سوائے پی پی پی کے ساری سیاسی پارٹیوں نے سراہا اور پورے ملک میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں‘ اس مارشل لا ء کے نتیجے میں نوے دن کے بعد انتخابات تو نہ ہوئے مگر سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ‘ صدر اور وزیر اعظم کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا‘اس کے بعد فوج نے اُس وقت تک حکومت کی کہ جب تک طیارے کے حادثے میں مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اس دنیا سے رخصت نہ ہو گیا‘ اسکے بعد کچھ عرصہ کیلئے سول حکومت چلی مگرپھر فوج نے حکومت پر قبضہ کر لیا‘ اس قبضے پر بھی مٹھائیاں تقسیم کی گئیں‘پھر اس فوجی حکومت کا بھی خاتمہ ہوا مگر اس کے بعد آنے والی حکومتوں کو بھی بار بار اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑے ‘ اور ہر بار مٹھائیاں تقسیم کی گئیں‘ ان مٹھائیوں کی تقسیم نے سب کو بتا دیا کہ اس ملک کی سیاسی پارٹیاں کوئی جمہوری پارٹیاں نہیں ہیں ‘اس لئے ان کو جتنا دبا سکتے ہو دباؤتاہم سوچنے کی بات یہ ہے کہ آج اگر ایک پارٹی کا نمبر ہے تو کل کو دوسری پارٹی کا بھی نمبر آ سکتا ہے‘ اسلئے باریاں لینے کی بجائے جمہوریت کو مضبوط کرو۔